Page 1 of 4 1234 LastLast
Results 1 to 12 of 44

Thread: زمین کا مرکز گرینچ یا مکۃ المکرمہ

  1. #1
    tiks88's Avatar
    tiks88 is offline Senior Member+
    Last Online
    28th October 2016 @ 06:59 PM
    Join Date
    09 Jul 2009
    Location
    Jeddah
    Age
    44
    Posts
    388
    Threads
    95
    Credits
    0
    Thanked
    55

    Arrow زمین کا مرکز گرینچ یا مکۃ المکرمہ

    زمین کا مرکز گرینچ یا مکۃ المکرمہ

    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

    ِاِنَّ أَوَّلَ بَیتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبَارَکاً وَہُدًی لِّلعَالَمِین

    بلاشبہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے تعمیر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے ۔ا س گھر کو برکت دی گئی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا۔ (آل عمران : 96)

    مولانا مفتی محمد شفیع ؒ اس آیت شریفہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ’’آیت کے الفاظ کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو منجانب اللہ لوگوں کے لیے مقر ر کیا گیا ہے وہ ہے جو مکہ میں ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلا عبادت خانہ کعبہ ہے ،اس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا کے سب گھروں میں پہلا گھر عبادت ہی کے لیے بنایا گیا ہو ،اس سے پہلے نہ کوئی عبادت خانہ ہو نہ دولت خانہ ،حضرت آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں ،ان کی شان سے کچھ بعید نہیں کہ انھوں نے زمین پر آنے کے بعد اپناگھر بنانے سے پہلے اللہ کا گھر یعنی عبادت کی جگہ بنائی ہو،اسی لیے حضرت عبداللہ بن عمر ،مجاہد ،قتادہ،سدی وغیرہ صحابہ وتابعین اسی کے قائل ہیں کہ کعبہ دنیا کا سب سے پہلا گھر ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کے ر ہنے سہنے کے مکانات پہلے بھی بن چکے ہوں مگر عبادت کے لیے یہ پہلا گھر بنا ہو،حضرت علی ؓ سے یہی منقول ہے۔بعض روایات میں ہے کہ آدم علیہ السلام کی یہ تعمیر کعبہ نوح علیہ السلام کے زمانے تک باقی تھی ،طوفان ِنوح ؑ میں منہدم ہوئی اور اس کے نشانات مٹ گئے ،اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا ‘‘۔(تفسیر معارف القرآن، سورۃ آل عمران 96)
    سائنسی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مکہ جسے قرآن میں بکہ بھی کہا گیا ہے اور جہاں مسلمان عمرہ وحج ادا کرتے ہیں ،زمین پر معرض وجود میں آنے والا خشکی کا پہلا ٹکڑا تھا ۔سائنسی طور پر ثابت شدہ حقیقت یہی ہے کہ زمین کی پیدائش کے ابتدائی ایام میں تمام کرہ زمین پانی میں ڈوباہوا تھا یعنی ایک بہت بڑا سمندر تھا ۔بعدازاں اس کی تہہ سے آتش فشاں پھٹے اورانہوں نے زمینی پرت کے نیچے پگھلے ہوئے چٹانی مواد اور لاوے کو بڑی مقدار میں اوپر دھکیل دیا جس سے ایک پہاڑی معرض وجود میں آئی اوریہی وہ پہاڑی تھی کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر (قبلہ)بنانے کا حکم دیا ۔مکہ کی سیاہ بسالٹ چٹانوں پر کی گئی سائنسی تحقیق سے یہ ثابت ہوچکاہے کہ یہ ہماری زمین کے قدیم ترین پتھر ہیں۔
    اگر یہ بات ایسے ہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسی مکہ سے ہی پھر بقیہ زمین کو پھیلایا گیا اور دنیا کے دوسرے خطے معرض وجود میں آئے۔سوال پیدا ہوتاہے کہ ہمارے اس دعوٰ ی کی تائید میں کوئی حدیث مصطفٰے ؐ بھی موجود ہے ۔اس کا جواب ہاں میں ہے ۔ڈاکٹر ذغلول النجار نے درج ذیل دواحادیث کو پیش کیا ہے۔جن کو میں انہی کے حوالے سے نقل کررہا ہوں ۔کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ کعبہ پانی کے اوپر زمین کا ایک ٹکڑا تھا اسی سے ہی بقیہ زمین کو پھیلایا گیا ۔(الفائق فی غریب الحدیث للز مخشری: 1/371)۔اسی طرح الطبرانی اور البیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمرؓ سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ جب زمین وآسمان بنائے جارہے تھے تو پانی کی سطح میں سے سب سے پہلا نکلنے والا خشکی کا ٹکڑا یہی تھاکہ جس پر یہ (متبرک گھر) واقع ہے ،پھر اسی کے نیچے سے ہی بقیہ زمین کو پھیلا یا گیا۔علاوہ ازیں درج ذیل احادیث سے بھی مندرجہ بالااحادیث کوتقویت ملتی ہے ۔ امام بخاری ؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک حدیث روایت کی ہے ۔اس لمبی حدیث میں سے ایک ٹکڑا میں یہاں نقل کرتاہوں ۔نبی ؐ فرماتے ہیں کہ ’’ (مکہ) وہ شہر ہے کہ جس دن سے اللہ نے آسمانوں او رزمین کو پید اکیا ۔اسی دن سے اس کو حرمت دی اور اللہ کی یہ حرمت قیامت تک قائم رہے گی ‘‘۔(بخاری ابواب العمرہ ،باب لایحل القتال بمکۃ)۔ اس کے علاوہ امام ابن کثیر ؒ نے بھی ایک حدیث مسنداحمد ،ترمذی اور نسائی سے نقل کی ہے ،اس کو امام ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے کہ نبی ؐ نے مکہ کے بازار حرورہ میں کھڑے ہوکر فرمایا کہ ’’ اے مکہ تو اللہ تعالی کو ساری زمین سے بہتر اور پیا را ہے ۔اگر میں زبردستی تجھ سے نہ نکالا جاتا توہرگز تجھے نہ چھوڑتا‘‘۔(تفسیر ابن کثیر ، آل عمران ، آیت 96)۔
    چناچہ رسول اللہ ؐ کا فرما ن جہاں مندرجہ بالا تحقیق کی حمایت کرتاہے وہاں آپ ؐ کی صداقت کو بھی عیاں کرتاہے ۔حضور ؐ کو کس نے بتایا کہ زمانہ قدیم میں پوری زمین پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور پھر اسی خشکی کے ٹکڑے پر اللہ کا گھر بنایا گیا تھا ،جیسا کہ مکہ کی بسالٹ چٹانو ں پر کی گئی تحقیق سے یہ امر ثابت ہوچکاہے کہ یہ قدیم ترین چٹانیں ہیں۔
    پروفیسرحسین کمال الدین ریاض یونیورسیٹی میں شعبہ انجنیئرنگ میں پروفیسر تھے۔ انہوں نے اپنی بے مثال تحقیق کے بعد اس امر کا انکشاف کیاتھا کہ مکہ زمین کا مرکز ہے ۔انہیں اس حقیقت کا علم اس وقت ہوا جب وہ دنیا کے بڑے شہروں سے قبلہ (مکہ )کی سمت معلوم کرنے کے کام پر مامور تھے
    ۔ا س مقصد کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ایک چارٹ بنایا ۔ا س چارٹ میں ساتوں براعظموں کو مکہ المکرمہ سے فاصلے او رمحل وقوع کی بنیاد پر ترتیب دیا ۔پھراپنے کام کو مزید آسان بنانے کے لیے انہوں نے اس چارٹ کو طول بلد اور عرض بلد کے حساب سے تقسیم کرنے کے لیے یکساں خطوط کھینچے ۔پھر ان فاصلوں ،مقداروں اور دوسری کئی ضروری چیزوں کو معلوم کرنے کے لیے انہو ں نے انتہائی جدید اور پیچیدہ کمپیوٹر سافٹ وئیرز کو استعمال کیا اور آخرکار دوسالہ انتھک محنت کے بعد اپنی نئی دریافت کا انتہائی خوشی سے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’مکہ ‘‘ہی زمین کامرکز ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک ایسا دائرہ بنایا جائے کہ اگر اس کا مرکز مکہ ہوتواس دائرے کے بارڈرز تما م براعظموں سے باہر واقع ہوںگے اور اسی طرح اس دائرے کا محیط تما م براعظموں کے محیطوں کا احاطہ کر رہا ہوگا۔(المجلہ العربی ۔نمبر 237،اگست 1978ء)۔
    بعدازاں 20صدی کی آخری دہائی میں زمین اور زمین کی تہوں کی جغرافیائی خصوصیات کو جاننے اور نقشہ نویسی کی غرض سے حاصل کی گئیں سیٹلائٹ تصاویر سے بھی اس تحقیق کوتقویت ملتی ہے کہ مکہ زمین کے مرکز میں واقع ہے ۔سائنسی طور پریہ امر ثابت شدہ ہے کہ زمین کی پلیٹیں (Tectonics Plates) اپنی لمبی جغرافیائی عمر کے وقت سے باقاعدگی کے ساتھ عربین پلیٹ کے گرد گھوم رہی ہیں۔یہ پلیٹیں باقاعدگی کے ساتھ عربین پلیٹ کی طرف اس طر ح مرتکزہورہی ہیں کہ گویا یہ ان کا مرکز ہدف ہے ۔اس سائنسی تحقیق کا مقصد ہرگز یہ معلوم کرنا نہیں تھاکہ زمین کا مرکز مکہ ہے یانہیں بلکہ کچھ اور مقاصد تھے ۔تاہم اس کے باوجود یہ تحقیق مغرب کے کئی سائنسی میگزینوں میں شائع ہوئی مگر اس طورپر کہ اس سے کوئی نتیجہ اخذنہ کیا جاسکے۔
    سید ڈاکٹر عبدالباسط مصر کے نیشنل ریسرچ سنٹر کے ممتاز رکن ہیں ۔انہوں نے 16جنوری 2005ء میں سعودی عرب میں المجد ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا تھا ۔ اس میں مکۃ المکرمہ کے متعلق کئی حیرت انگیز سائنسی انکشافات کیے تھے ۔( یہ انٹرویویوٹیوب پر دستیاب ہے



    )۔انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر مکہ دنیا کا مرکز اس طرح ثابت ہوتا ہے کہ جب نیل آرم سٹرانگ زمین سے اوپر خلا کی طرف جا رہے تھے تو انہوں نے زمین کی تصویریں کھینچیں ۔انہوں نے دیکھاکہ زمین خلامیں معلق ایک کالا کُرّہ ہے ۔نیل آرم سٹرانگ نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ اسے کس نے لٹکا یاہے ؟پھر خود ہی جواب دیاکہ ! اسے خدانے ہی معلق کرکے تھاما ہوا ہے ۔علاوہ ازیں انہوں نے مشاہدہ کیاکہ زمین کے کسی خاص مقام سے کچھ خاص قسم کی شعاعیں نکل رہی ہیں جو کم طول موج کی تھیں ۔ا نہوں نے اس چیزکو معلوم کرنے کے لیے اپنے کیمروں کو اس مقام پر فوکس کرنا شروع کیا کہ جہاں سے یہ شعاعیں نکل رہی تھیں ۔ آخر کار وہ اپنی اس کوشش میں کامیا ب ہوئے اور انہو ں نے یہ معلوم کرلیا کہ وہ مقام کہ جہاں سے شعاعیں خارج ہورہی ہیں وہ مکہ ہے ۔بلکہ بالکل اگر صحیح طور پر کہا جائے تو وہ کعبہ ہے ۔جب نیل آرم سٹرانگ نے یہ منظر دیکھا تو اس کے منہ سے نکلا ۔اوہ !میرے خدا!جب وہ مریخ کے قریب پہنچے تو دوبارہ انہوں نے زمین کی تصویریں کھینچیں تو انہیں معلوم ہواکہ مکہ سے نکلنے والی یہ شعاعیں مسلسل آگے جارہی تھیں۔ ناسا نے یہ تمام معلومات اپنی ویب سائٹ پر پیش کردی تھیں مگر صرف 21دن کے بعد ان کو ویب سائٹ سے ہٹا دیاگیا تھا ۔شاید اس لیے کہ یہ معلومات بڑی اہم اور حساس تھیں ۔ ڈاکٹر عبدالباسط نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ یہ شعاعیں جو کعبہ سے خارج ہورہی ہیں لا محدود ہیں۔زیادہ طول موج یا کم طول موج والی شعاعوں کی خصوصیات سے بالکل برعکس،میرے خیال میں اس کی وجہ فقط یہ ہے کہ ان کامنبع اور مأخد زمین کا کعبہ ہے جو آسمانی کعبہ سے وابستہ ہے اورمجھے یقین ہے کہ یہ شعائیں زمینی کعبۃ اللہ سے بیت المعمور(آسمانی کعبۃ اللہ)تک جاتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کعبہ زمین کے اس مقام پر ہے کہ جہاں زمینی مقناطیسی قوتوں کا اثر صفر ہے ۔یہ زمینی مقناطیس کے شمالی اورجنوبی قطبوں کے بالکل درمیان میں ہے ،اگریہاں قطب نمارکھ دیا جائے تو اس کی سوئی حرکت نہیں کرے گی ۔ اس لیے کہ اس مقام پر شمالی قطب اور جنوبی قطب کی کششیں ایک دوسرے کے اثر کو زائل کردیتی ہیں۔چناچہ یہی وجہ ہے کہ مکۃ المکرمہ اس زمینی مقناطیسی قوت کے اثر سے باہر ہے اور مکہ کے رہنے والوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ،نتیجتاً جو کوئی مکہ کی طرف سفر کرتاہے یا اس میں رہتاہے وہ صحت مند اورلمبی عمر پاتاہے۔اسی طرح جب آپ کعبہ کا طواف کرتے ہیں تو آپ اپنے اندر ایک توانائی داخل ہوتے ہوئے محسوس کرتے ہیں ایسا اس لیے ہوتاہے کہ آپ زمین کے مقناطیسی میدان کی قوت کے اثر سے باہر ہوتے ہیں اورسائنسی بنیادوں پر یہ بات ثابت شدہ ہے۔علاوہ ازیں مکہ کی کالی بسالٹ چٹانوں کے ٹکڑو ں کو لیبارٹری میں لے جاکر چیک کیاگیا ہے اور یہ بات معلوم کر لی گئی ہے کہ یہ زمین کی سب سے قدیم ترین چٹانیں ہیں۔


  2. #2
    tiks88's Avatar
    tiks88 is offline Senior Member+
    Last Online
    28th October 2016 @ 06:59 PM
    Join Date
    09 Jul 2009
    Location
    Jeddah
    Age
    44
    Posts
    388
    Threads
    95
    Credits
    0
    Thanked
    55

    Arrow


    مصر کے ڈاکٹر عبدالباسط کی گفتگو سے ثابت ہوتا ہے کہ کعبہ نا صرف زمین کا مرکز ہے بلکہ یہ پوری کائنات کا مرکز بھی ہے کیونکہ اس کی سیدھ میں بالکل اوپر آسمانی کعبہ یعنی بیت المعمور ہے ۔مختلف روایات و احادیث سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بیت المعمور ،زمینی کعبہ کی سیدھ میں بالکل اوپر ہے۔اگر وہ اوندھے منہ گرے تو سیدھا اس کے اوپر گرے ۔ہر روز 70ہزار فرشتے اس میں آتے ہیں جب وہ وہاں سے جاتے ہیں تو پھر ان کی باری نہیں آتی۔علاوہ ازیں قرآن مجید میں بھی مکہ کو ’’ام القری‘‘کہا گیاہے جس کا مطلب ہے کہ مکہ ان شہروں کی ماں ہے جو سب اس کے اردگرد ہیں۔اس آیت سے بھی یہ معلوم ہوتاہے کہ مکہ تمام شہروں کے درمیان میں ہے۔اسلامی معاشرے میں ماں کے لفظ کی ایک خا ص اہمیت ہے ۔آل واولاد کا سلسلہ ماں سے ہی چلتاہے ۔چناچہ مکہ کو شہروں کی ماں کانام دینے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زمین کے بقیہ حصے بھی اسی سے پھیلے یا اس کے بعد وجود میں آئے اوریہی بات سائنسی طور پر بھی ثابت ہوچکی ہے۔

    مکہ ایک محفوظ اور پر امن شہر ہے ۔قرآن میں اس کو ’’بلد الامین‘‘ بھی کہا گیا ہے۔یہاں کسی چرند پرند کوبھی نقصان پہنچانا ممنوع ہے۔ یہ تمام اطراف سے اونچے پہاڑوں میں گھراہوا ہے ،یہی وجہ ہے کہ یہاں کبھی کبھار کم درجے کے زلزلے ہی آتے ہیں۔مزید برآں چونکہ اس شہر کا درجہ حرارت عموماً زیادہ رہتاہے اسی وجہ سے یہاں زمینی پرت (Crust)کے نیچے چٹانیں چپکنے والی اور لیس دار ہیں ،اس وجہ سے بھی مستقبل میں اگر کبھی یہاں زلزلہ آیا تو اس کی شدت کم ہی رہے گی ۔
    کعبہ کی ایک اور اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمان اس کے گرد طواف کرتے ہیں۔ طواف کا آغاز حجر اسو د والی جگہ سے کیا جاتاہے ۔حاجی یہ طواف اینٹی کلاک وائز (مخالف گھڑی وار)کرتاہے اوریہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کائنات میں ایٹم سے لے کر کہکشاؤں تک ہر چیز اینٹی کلاک وائز حرکت کررہی ہے۔ایٹم کے اندر الیکٹرونز ،نیوکلئس کے گرد اینٹی کلاک وائز گردش کرتے ہیں۔زمین کی تمام پلیٹیں عربین پلیٹ کے گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتی ہیں۔انسانی جسم کے اندر سائیٹوپلازم ،سیل کے نیوکلئس کے گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتاہے۔پروٹین مالیکیولز بھی بائیں سے دائیں طرف اینٹی کلاک وائز ہی حرکت کرتے ہوئے ترتیب پاتے ہیں۔ماں کے رحم کے اندر بیضیٰ انثیٰ بھی اپنے ہی گرد حرکت اینٹی کلاک وائز ہی کرتاہے۔ مرد کی منی کے اندرجرثومہ بھی اپنے ہی گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتے ہوئے بیضیٰ انثی تک پہنچتاہے۔انسانی خون کی گردش بھی اینٹی کلاک وائز ہی شروع ہوتی ہے۔زمین اپنے گرد اور سورج کے گرد بھی انیٹی کلاک وائز ہی حرکت کرتی ہے ۔سورج اپنے ہی گرد اینٹی کلاک وائز حرکت کرتاہے ۔سورج اپنے تما م نظام شمسی سمیت ملکی وے کہکشاںکے مرکز کے گرد اینٹی کلاک وائز گردش کرتاہے۔کہکشاں خود اپنے ہی گرد اینٹی کلاک وائز گردش کرتی ہے۔چناچہ ان تفصیلات سے معلوم ہوتاہے کہ ایک مسلمان جب کعبہ کا طواف کرتاہے تووہ اسی طرح اپنے رب کی طرف سے عائد کی گئی ڈیوٹی کو نبھاتاہے کہ جس طرح ایٹم سے لے کر کہکشاؤں تک ،سب اپنے رب کے حکم کے آگے سر اطاعت خم کیے ہوئے ایک ہی سمت میں محو گردش ہیں۔اس سے اسلام کا امیتاز او ربرتری دوسرے مذاہب کی نسبت نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے مطابق پچھلے سال قطر میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی ،جس کا عنوان ’’مکہ مرکز عالم ،علم وعمل ‘‘ تھا۔اس میں کچھ مسلمان علمائے دین او ر سائنسدانوں نے مطالبہ کیا تھا کہ گرینچ کے معیاری وقت کے بجائے مکہ مکرمہ کے وقت کومعیار کے طورپر اپنانا چاہیے کیونکہ بقول ان کے مکہ مکرمہ ہی دنیا کا مرکز ہے ۔ اس کانفرنس میں شریک ایک ماہر ارضیات کا کہنا تھا کہ جغرافیائی لحاظ سے مکہ مکرمہ قطب شمالی سے دیگر طول بلد کے مقابلے میں بہترین مطابقت رکھتا ہے ۔شرکاء کانفرنس کا کہنا تھا کہ انگریزوں نے برطانوی راج کے دور میں دیگر ممالک پر قبضہ کرکے ،باقی دنیا پر زبردستی گرنیچ کا وقت مسلط کردیاتھا ۔اب اس صورت حال کو بدلنے کا وقت آگیا ہے۔معروف عالم دین شیخ یوسف القرضاوی نے اس کانفرنس میں کہا کہ جدید سائنسی طریقوں سے اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ مکہ مکرمہ کرہ ارض کا اصل مرکز ہے۔جس سے قبلے کی اہمیت بھی واضح ہوتی ہے ۔ اس کانفرنس میں مکہ واچ ،نامی منصوبے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔یہ ایک فرانسیسی سائنسدان کی ایجاد کردہ گھڑی ہے جو الٹی طرف چلتی ہے اور اس سے دنیا میں کہیں بھی موجود مسلمانوں کو قبلے کے رخ کا پتہ چل سکتا ہے۔(بی بی سی اردو ڈاٹ کام،2اپریل ،2008)
    اب جب کہ سائنسی تحقیقات اور سیٹلائٹ تصاویر نے بھی اس تحقیق کی حمایت کردی ہے کہ مکہ ہی زمین کا مرکز ہے تو کئی دہائیوں سے جاری اس تنازعہ اور بحث و مباحثہ کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی طور پر وقت کے معیار کے لیے گرینچ کی بجائے ’’مکہ ‘‘ ہی کو مرکزقراردیاجائے ۔اب اگر مکہ کے وقت کو بین الاقوامی طورپر نافذ کردیاجائے تو ہر ایک کے لیے نمازوں کے اوقات کا معلوم کرنابالکل آسان ہوجائے گا۔لہذا مکۃ المکرمہ جو کہ ایک مبارک شہر ہے ،کو دنیا کے دیگر شہر وں پر فضیلت کا حق ملنا چاہیے ۔
    طارق اقبال سوہدروی
    جدہ

  3. The Following 4 Users Say Thank You to tiks88 For This Useful Post:

    misss nazya (15th March 2010), MubashirDilawar (14th March 2010), Salam MuslimZ (7th March 2010), sheich (3rd March 2010)

  4. #3
    Asad Mirjat's Avatar
    Asad Mirjat is offline Senior Member+
    Last Online
    13th March 2011 @ 12:25 AM
    Join Date
    18 Dec 2006
    Location
    جامشورو سندھہ
    Age
    31
    Posts
    1,382
    Threads
    102
    Credits
    0
    Thanked
    55

    Default

    Jazak ALLAH.... buhat hi great info hai

  5. #4
    black_killer009's Avatar
    black_killer009 is offline Junior Member
    Last Online
    29th August 2011 @ 05:54 PM
    Join Date
    10 Feb 2006
    Posts
    11
    Threads
    0
    Credits
    0
    Thanked
    0

    Default

    Subhan Allah

    Jazak Allah

  6. #5
    Aasi_786's Avatar
    Aasi_786 is offline Senior Member+
    Last Online
    19th August 2016 @ 08:42 PM
    Join Date
    14 Jan 2008
    Location
    Islamabad
    Posts
    18,995
    Threads
    2008
    Credits
    282
    Thanked
    1109

    Default

    Mashallah

  7. #6
    MOHAMMEDIMRAN's Avatar
    MOHAMMEDIMRAN is offline Senior Member+
    Last Online
    17th September 2016 @ 11:52 AM
    Join Date
    19 Dec 2008
    Posts
    2,722
    Threads
    161
    Credits
    336
    Thanked
    313

    Default

    Superb sharing...
    Nice and Thanks
    Sallallahu Alaa Muhammed, Sallallahu Alaihi Wasallam..

  8. #7
    thebeatless's Avatar
    thebeatless is offline Member
    Last Online
    6th February 2017 @ 12:36 PM
    Join Date
    14 Mar 2009
    Location
    Jhelum
    Age
    30
    Gender
    Male
    Posts
    972
    Threads
    66
    Thanked
    45

    Default

    Great Sharing bro keep it up

  9. #8
    Join Date
    10 Aug 2009
    Location
    Lahore
    Age
    31
    Posts
    1,310
    Threads
    22
    Credits
    0
    Thanked
    6

    Default

    dear ma nay complete parha hay. aap nay buhat mahnet ki hay. thanks dear. aap nay references day kar aur acha kam kya hay. ALLAH aap ko lambi umer ata farmain

  10. #9
    tiks88's Avatar
    tiks88 is offline Senior Member+
    Last Online
    28th October 2016 @ 06:59 PM
    Join Date
    09 Jul 2009
    Location
    Jeddah
    Age
    44
    Posts
    388
    Threads
    95
    Credits
    0
    Thanked
    55

    Arrow

    Quote shahidbaba said: View Post
    dear ma nay complete parha hay. aap nay buhat mahnet ki hay. thanks dear. aap nay references day kar aur acha kam kya hay. ALLAH aap ko lambi umer ata farmain

    میرے بھائی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ

  11. #10
    marajput is offline Member
    Last Online
    19th January 2010 @ 08:07 PM
    Join Date
    11 Aug 2009
    Location
    Mirpur Khas
    Age
    27
    Posts
    702
    Threads
    38
    Thanked
    23

    Default

    bhai bohat zabardast likha hai

  12. #11
    kashif_iqbal's Avatar
    kashif_iqbal is offline Senior Member+
    Last Online
    6th July 2010 @ 10:00 AM
    Join Date
    22 Sep 2009
    Age
    35
    Posts
    106
    Threads
    0
    Credits
    269
    Thanked
    16

    Default Bismillah

    Subhan Allah

    Jazak Allah

  13. #12
    oioioioioi's Avatar
    oioioioioi is offline Senior Member+
    Last Online
    24th August 2012 @ 02:38 PM
    Join Date
    04 Jun 2009
    Location
    Behind Enemy Lines
    Gender
    Male
    Posts
    2,937
    Threads
    283
    Credits
    0
    Thanked
    502

    Default

    bhai bohat hi zaberdast ..... issay achi information nahi mill sakti thi

Page 1 of 4 1234 LastLast

Similar Threads

  1. Replies: 9
    Last Post: 16th July 2017, 06:18 PM
  2. زمین کا مرکز گرینچ یا مکۃ المکرمہ2
    By amjadattari in forum General Knowledge
    Replies: 43
    Last Post: 11th November 2016, 09:14 PM
  3. Replies: 7
    Last Post: 4th May 2016, 05:28 PM
  4. Replies: 6
    Last Post: 10th September 2015, 10:51 PM
  5. زمین کا مرکز گرینچ یا مکۃ المکرمہ1
    By amjadattari in forum General Knowledge
    Replies: 12
    Last Post: 8th February 2010, 11:28 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •