Webhosting in Pakistan
Page 1 of 3 123 LastLast
Results 1 to 12 of 29

Thread: سعودی عربSearch On

  1. #1
    Confuse's Avatar
    Confuse is offline Senior Member+
    Last Online
    2nd May 2015 @ 04:53 PM
    Join Date
    17 Jan 2009
    Location
    Khamosh NaGaR
    Gender
    Male
    Posts
    8,124
    Threads
    778
    Credits
    0
    Thanked
    785

    Default سعودی عربSearch On

    Webhosting in Pakistan
    ]

    سعودی عرب المملكۃ العربیۃ السعودیۃ شعار: لا إله إلا الله محمد رسول الله ترانہ: عاش المليكہ (بادشاہ لمبی عمر پائے)

    مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے ۔ شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں اومان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے ۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں موجود ہیں۔

    تاریخ
    سعودی ریاست کا ظہور تقریباً 1750ء میں عرب کے وسط سے شروع ہوا جب ایک مقامی رہنما محمد بن سعود معروف اسلامی شخصیت اور مجدد محمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ۔
    سعودی ریاست مختلف ادوار میںاگلے ڈیڑھ سو سال میں آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا جس کے دوران جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لئے ان کے مصر، سلطنت عثمانیہ اور دیگر عرب خاندانوں سے تصادم ہوئے ۔ بعد ازاں سعودی ریاست کا باقاعدہ قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے ہاتھوں عمل میں آیا۔
    1902ء میں عبدالعزیز نے حریف آل رشید سے ریاض شہر چھین لیا اور اسے آل سعود کا دارالحکومت قرار دیا۔ اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے 1913ء سے 1926ء کے دوران الاحساء، القطیف، نجد کے باقی علاقوں اور حجاز (جس میں مکہ اور مدینہ کے شہر شامل تھے) پر بھی قبضہ کرلیا۔ 8 جنوری 1926ء کو عبدالعزیز بن سعود حجاز کے بادشاہ قرار پائے ۔ 29 جنوری 1927ء کو انہوں نے شاہ نجد کا خطاب حاصل کیا۔ 20 مئی 1927ء کو معاہدہ جدہ کے مطابق برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں جو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے پر عبدالعزیز کی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ 1932ء میں برطانیہ کی رضامندی حاصل ہونے پر مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے مملکت سعودی عرب رکھ دیا گیا۔
    مارچ 1938ء میں تیل کی دریافت نے ملک کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگیا۔

    سیاست
    خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزسعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے ۔ 1992ء میں اختیار کئے گئے بنیادی قوانین کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز بن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے ۔
    ملک میں کوئی تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے نہ ہی انتخابات ہوتے ہیں البتہ 2005ء میں مقامی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ بادشاہ کے اختیارات شرعی قوانین اور سعودی روایات کے اندر محدود ہیں۔ علاوہ ازیں اسے سعودی شاہی خاندان، علماء اور سعودی معاشرے کے دیگر اہم عناصر کا اتفاق بھی چاہئے ۔ سعودی عرب دنیا بھر میں مساجد اور قرآن اسکولوں کے قیام کے ذریعے اسلام کی ترویج کرتی ہے ۔ شاہی خاندان کے اہم ارکان علماء کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں۔
    قانون سازی وزراء کی کونسل عمل میں لاتی ہے جو لازمی طور پر شریعت اسلامی سے مطابقت رکھتی ہو۔ عدالت شرعی نظام کی پابند ہیں جن کے قاضیوں کا تقرر اعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر بادشاہ عمل میں لاتا ہے ۔

    صوبے
    سعودی عرب مندرجہ صوبوں پر مشتمل ہے:

    الباحة الحدود الشمالي الجوﹶف المدينه القصيم الرياض الشرقيہ عسير حائل جيزان المکہ نجران
    تبوك

    بڑے شہر
    ریاض شہر کا مرکزریاض (سعودی عرب کا دارالحکومت)
    جدہ (دوسرا سب سے بڑا شہر، حج و عمرہ کے لئے دنیا بھر کے زائرین کی پہلی قیام گاہ اور بحیرہ قلزم کی بندرگاہ)
    دمام (مشرقی صوبے کا دارالحکومت اور تیسرا سب سے بڑا شہر) مکہ (اسلام کا مقدس ترین مقام)
    مدینہ (اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر) طائف (مکہ کے قریب پہاڑی علاقہ) تبوک (اردن کی سرحد کے قریب واقع شمال مغربی شہر) بریدہ (شمال وسطی عرب کا شہر ) حفوف (قدیم ساحلی نخلستانی اور تیل کے عظیم ذخائر کا شہر) خمیس مشیط (مغربی عرب میں عسکری تربیتی مرکز)

    جغرافیہ
    سعودی عرب کا نقشہمملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے ۔ متحدہ عرب امارات، اومان اور یمن کے ساتھ منسلک ملک کی سرحدوں کا بڑا حصہ غیر متعین ہے اس لئے ملک کا عین درست رقبہ اب بھی نامعلوم ہے ۔ سعودی حکومت کے اندازوں کے مطابق مملکت کا رقبہ 22 لاکھ 17 ہزار 949 مربع کلومیٹر (8 لاکھ 56ہزار 356 مربع میل) ہے ۔ دیگر اندازوں کے مطابق ملک کا رقبہ 19 لاکھ 60ہزار 582 مربع کلومیٹر (7 لاکھ 56 ہزار 934 مربع میل) اور 22 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر (8 لاکھ 64 ہزار 869 مربع میل) کے درمیان ہے تاہم دونوں صورتوں میں سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 15 بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے ۔
    مملکت جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے ۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک طویل پہاڑی سلسلے (جبل الحجاز) تک جاملتی ہے جس کے بعد سطع مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی اثیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی 3 ہزار میٹر (9 ہزار 840 فٹ) تک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اور خوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے ۔ یہاں طائف اور ابہاء جیسے تفریحی مقامات قائم ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتیلا ہے ۔ معروف علاقہ ربع الخالی ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ۔
    مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے ۔ بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں۔ سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔

    موسم
    سعودی عرب کا موسم مجموعی طور پر شدید گرم اور خشک ہے ۔ یہ دنیا کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت کا 50 ڈگری سینٹی گریڈ (120 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بھی آگے جانا معمول کی بات ہے ۔ موسم سرما میں بلند پہاڑی علاقوں میں کبھی کبھار برف پڑ جاتی ہے تاہم مستقل بنیادوں پر برف باری نہیں ہوتی۔ موسم سرما کا اوسط درجہ حرارت 8 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ (47 سے 68 ڈگری فارن ہائیٹ) ہے ۔ موسم گرما میں اوسط درجہ حرارت 27 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ (81 سے 109 ڈگری فارن ہائیٹ) ہوتا ہے ۔ وسط صحرائی علاقوں میں گرمیوں میں بھی رات کے وقت موسم سرد ہوجاتا ہے ۔
    سعودی عرب میں بارش بہت کم ہوتی ہے تاہم کبھی کبھار موسلا دھار بارش سے وادیوں میں زبردست سیلاب آجاتے ہیں۔ دارالحکومت ریاض میں سالانہ بارش 100 ملی میٹر (4 انچ) ہے جو جنوری سے مئی کے درمیان ہوتی ہے ۔ جدہ میں نومبر اور جنوری کے درمیان 54 ملی میٹر (2.1 انچ) بارش ہوتی ہے ۔

    تكلمو لغة عربية فصيحة
    اعداد و شمار
    2005ء کے مطابق سعودی عرب کی آبادی 26 اعشاریہ 4 ملین ہے جس میں 5 اعشاریہ 6 ملین غیر ملکی آبادی بھی شامل ہے ۔ 1960ء کی دہائی تک مملکت کی آبادی کی اکثریت خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش تھی لیکن معیشت اور شہروں میں تیزی سے ترقی کی بدولت اب ملک کی 95 فیصد آبادی مستحکم ہے ۔ شرح پیدائش 29 اعشاریہ 56 فی ایک ہزار افراد ہے جبکہ شرح اموات صرف 2 اعشاریہ 62 فی ایک ہزار افراد ہے ۔چند شہروں اور نخلستانوں میں آبادی کی کثافت ایک ہزار افراد فی مربع کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے ۔
    تقریباً 80 فیصد سعودی باشندے نسلی طور پر عرب ہیں۔ مزید برآں چند جنوبی اور مشرق افریقی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو چند سو سال قبل اولاً غلام بنا کر یہاں لائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں دنیا بھر کے 70 لاکھ تارکین وطن بھی مقیم ہیں جن میں بھارت کے 14 لاکھ، بنگلہ دیش کو 10 لاکھ، پاکستان کے 9 لاکھ، فلپائن کے 8 لاکھ اور مصر کے 7 لاکھ 50 ہزار باشندے شامل ہیں۔ قریبی ممالک کے عرب باشندوں کی بڑی تعداد میں مملکت میں برسرروزگار ہے ۔ سعودی عرب میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ باشندے بھی قیام پذیر ہیں۔

    تعلیم
    1932ء میں مملکت سعودی عرب کے قیام کے وقت ہر باشندے کی تعلیم تک رسائی نہیں تھی اور شہری علاقوں میں مساجد سے ملحق مدارس میں تعلیم کی محدود اور انفرادی کوششیں ہورہی تھیں۔ ان مدارس میں شریعت اسلامی اور بنیادی تعلیم سکھائی جاتی تھی تاہم گذشتہ صدی کے اختتام تک سعودی عرب ایک قومی تعلیمی نظام کا حامل ہے جس میں تمام شہریوں کو اسکول سے قبل سے لے کر جامعہ کی سطح تک مفت تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ جدید سعودی تعلیمی نظام جدید اور روایتی فنی و سائنسی شعبہ جات میں معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیم سعودی نظام تعلیم کا بنیادی خاصہ ہے ۔ سعودی عرب کا مذہبی تعلیمی نصاب دنیا بھر کے مدارس میں بھی پڑھایا جاتا ہے ۔

    سعودی عرب میں باقاعدہ بنیادی تعلیم کا آغاز 1930ء کی دہائی میں ہوا۔ 1945ء میں شاہ عبدالعزیز السعود نے مملکت میں اسکولوں کے قیام کے لئے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا۔ 6 سال بعد 1951ء میں مملکت کے 226 اسکولوں میں 29 ہزار 887 طالب علم زیر تعلیم تھے ۔ 1954ء میں وزارت تعلیم کا قیام عمل میں آیا جس کے پہلے وزیر شہزادہ فہد بن عبدالعزیز بنے ۔ سعودی عرب کی پہلی جامعہ شاہ سعود یونیورسٹی 1957ء میں ریاض میں قائم ہوئی۔
    آج سعودی عرب کا قومی سرکاری تعلیمی نظام 8 جامعات، 24 ہزار سے زائد اسکولوں اور ہزاروں کالجوں اور دیگر تعلیمی و تربیتی اداروں پر مشتمل ہے ۔ اس نظام کے تحت ہر طالب علم کو مفت تعلیم، کتب اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مملکت کے سرکاری میزانیہ کا 25 فیصد سے زائد تعلیم کے لئے مختص ہے ۔ سعودی عرب میں طالب علموں کو اسکالرشپ پروگرام کے تحت بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے جن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، ملائشیا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

    کھیل
    سعودی عرب کا سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے ۔ سعودی عرب گرمائی اولمپکس، والی بال، باسکٹ بال اور دیگر کھیلوں میںعالمی سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتا ہے ۔ قومی فٹ بال مسلسل 4 مرتبہ ورلڈ کپ اور 6 مرتبہ ایشین کپ کے لئے کوالیفائی کرنے کے باعث عالمی سطح پر جانی چاتی ہے ۔ سعودی عرب تین مرتبہ ایشین چمپئن رہ چکا ہے اور دو مرتبہ فائنل میں شکست کھاگیا۔ سعودی عرب کے چند معروف فٹ بال کھلاڑیوں میں ماجد عبداللہ، محمد الداعیہ اور احمد جمیل شامل ہیں۔

    ثقافت
    مسجد حرام و بیت اللہسعودی ثقافت کی بنیاد مذہب اسلام ہے ۔ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ہر روز دنیا بھر کے مسلمان 5 مرتبہ مکہ مکرمہ میں قائم خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو ہوتی ہے ۔ قرآن مجید سعودی عرب کا آئین اور شریعت اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد ہے ۔
    سعودی عرب کے معروف ترین لوک رسم قومی رقص ارضیٰ ہے ۔ تلواروں کے ساتھ کیا جانے والا یہ رقص قدیم بدوی روایات کا حصہ ہے ۔ حجاز کی السہبا لوک موسیقی کی جڑیں قرون وسطیٰ کے عرب اندلس سے جاملتی ہیں۔
    مسجد نبوی، مدینہ منورہسعودی عرب کا لباس باشندوں کے زمین، ماضی اور اسلام سے تعلق کا عکاس ہے ۔ روایتی طور پر مرد ٹخنے تک کی لمبائی کی اونی یا سوتی قمیض پہنتے ہیں جو ثوب کہلاتی ہے جس کے ساتھ سر پر شماغ یا غطرہ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ عورتوں کا لباس قبائلی موتیوں، سکوں، دھاتی دھاگوں اور دیگر اشیاء سے مزین ہوتا ہے ۔ سعودی خواتین گھر سے باہر عبایہ اور نقاب کا استعمال کرتی ہیں۔
    اسلام میں شراب نوشی اور سور کے گوشت کے استعمال کی سختی سے ممانعت ہے اور اس پر سعودی عرب میں سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔ سعودی روٹی خوبز کا تقریباً تمام کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھنی ہوئی بھیڑ، مرغی، فلافل، شورمہ اور فول بھی دیگر مشہور کھانوں میں شامل ہیں۔ روایتی قہوہ خانے ہر جگہ موجود ہیں تاہم اب ان کی جگہ بڑے کیفے لے رہے ہیں۔ بغیر دودھ کی سیاہ عربی چائے کا استعمال ہر جگہ کیا جاتا ہے

  2. #2
    Khani's Avatar
    Khani is offline Advance Member
    Last Online
    2nd February 2020 @ 09:50 PM
    Join Date
    01 Apr 2009
    Posts
    6,932
    Threads
    634
    Credits
    899
    Thanked
    799

    Default







  3. #3
    Mian Sobi's Avatar
    Mian Sobi is offline Senior Member+
    Last Online
    30th March 2017 @ 09:45 PM
    Join Date
    17 Oct 2008
    Location
    Faisalabad
    Age
    29
    Gender
    Male
    Posts
    678
    Threads
    74
    Credits
    116
    Thanked
    25

    Default

    buhat hi zabardast
    thx
    If you like my post check this for more

  4. #4
    Fatima Iqbal's Avatar
    Fatima Iqbal is offline Advance Member+
    Last Online
    16th November 2017 @ 09:45 PM
    Join Date
    02 Mar 2009
    Location
    JEDDAH ,SAUDI A
    Gender
    Female
    Posts
    23,312
    Threads
    1154
    Credits
    863
    Thanked
    4043

    Default

    NICE INFORMATION THANKS FOR SHARING

  5. #5
    MALIKUMAIR's Avatar
    MALIKUMAIR is offline Senior Member+
    Last Online
    10th June 2011 @ 09:50 PM
    Join Date
    04 May 2009
    Location
    KARACHI
    Age
    32
    Posts
    2,689
    Threads
    107
    Credits
    722
    Thanked
    11

    Default

    Very Nice Sharing

  6. #6
    zeshan_umar's Avatar
    zeshan_umar is offline Senior Member+
    Last Online
    23rd April 2015 @ 03:12 PM
    Join Date
    02 Feb 2010
    Location
    Riyadh
    Age
    34
    Gender
    Male
    Posts
    1,057
    Threads
    37
    Credits
    0
    Thanked
    124

    Default

    nice

  7. #7
    VuLPiNe's Avatar
    VuLPiNe is offline Senior Member+
    Last Online
    22nd April 2016 @ 01:45 PM
    Join Date
    06 Jan 2010
    Location
    *~ ĞσlđЗη ĤεĂяŦ ~*
    Gender
    Male
    Posts
    1,111
    Threads
    5
    Credits
    742
    Thanked
    90

    Default

    Thanks Dear Very Nice Post _____Keep it Up
    Only 30kb Sign size Allowed... ITD Team

  8. #8
    Silentjan's Avatar
    Silentjan is offline Senior Member
    Last Online
    5th July 2013 @ 04:10 PM
    Join Date
    24 Jun 2010
    Location
    Tarbela
    Age
    30
    Gender
    Male
    Posts
    13,868
    Threads
    323
    Thanked
    1628

    Default

    نہایت اعلٰی اور دل کو چھو لینی والی معلومات

  9. #9
    amjadattari's Avatar
    amjadattari is offline Senior Member
    Last Online
    22nd June 2018 @ 01:52 PM
    Join Date
    23 Jul 2009
    Location
    pakistan
    Posts
    6,522
    Threads
    1227
    Credits
    983
    Thanked
    1248

  10. #10
    arshy's Avatar
    arshy is offline Senior Member+
    Last Online
    4th November 2014 @ 07:09 PM
    Join Date
    15 Mar 2006
    Location
    Europe
    Posts
    925
    Threads
    48
    Credits
    0
    Thanked
    3

    Default

    Bahot khobe info

  11. #11
    dil wale's Avatar
    dil wale is offline Senior Member+
    Last Online
    19th April 2013 @ 03:36 AM
    Join Date
    03 Mar 2010
    Age
    35
    Posts
    3,627
    Threads
    56
    Credits
    0
    Thanked
    183

    Default

    thanks for nice information

  12. #12
    Join Date
    15 Aug 2010
    Location
    Karachi
    Gender
    Male
    Posts
    823
    Threads
    33
    Thanked
    44

Page 1 of 3 123 LastLast

Similar Threads

  1. Replies: 2
    Last Post: 24th October 2014, 10:23 PM
  2. Replies: 2
    Last Post: 13th March 2013, 02:23 PM
  3. Replies: 4
    Last Post: 22nd July 2010, 07:37 PM
  4. سعودی عرب اور پشاور میں کل عید
    By Shehzad Iqbal in forum Eid Ul Fitr 2020
    Replies: 0
    Last Post: 20th September 2009, 12:55 AM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •