یاد رکھیے! ہم اپنی زندگی میں جس پہلو کو سب سے کم اہمیت دیتے ہیں وہ ہے ہمارا خیال اور سوچنے کا طریقہ جبکہ ہمارے چلن اور شخصیت کی تعمیر میں یہ سب سے زیادہ اثرانداز ہوتا ہے۔ ہر بات یا واقعہ کو مثبت طور سے دیکھنے کی عادت کا ارتقاءکریں۔ چاہے وہ کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ منفی اور فضول انداز فکر دماغ کو کمزور کردیتا ہے۔ اسے بے چین مشتعل اور زہریلا بنادیتا ہے۔
اپنے ذہنی پہلو اور نکتہ نظر کو دوبارہ منظم کرکے ہر ایک منفی حالت کو مثبت صورت میں تبدیل کریں۔ یہ کیسے کیا جائے؟ اس کیلئے ایک مثال دیتا ہوں فرض کریں کوئی آپ کوگالی دیتا ہے یا غصہ میں غلط بات کرتا ہے اس وقت دل میں صرف یہ خیال کریں کہ وہ شخص ابھی پوری طرح سمجھدار نہیں ہوا ہے اور اس کی ذہنی کیفیت ابھی ٹھیک نہیں ہے اس لیے وہ ایسی باتیں کررہا ہے لیکن اس شخص کیلئے کسی طرح کے برے خیالات اپنے دل میں نہ لائیں۔ یہ ہوا مثبت پہلو اور رویہ۔
اس کے برعکس اپنے خیالات کو مثبت بنا کر آپ اپنی طرف سے ایسے دنیاوی حالات اور ماحول کو متوجہ کرتے ہیں جو آپ کے مددگار بنتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روحانی اصولوں کے مطابق آپ کی طرف آپ کے خیالات کے موافق ہی آپ کے دنیاوی حالات کیفیات متوجہ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر فرض کریں کہ آپ کوکوئی خاص بیماری لگ جانے کا خوف بار بار ہوتا ہے۔ آپ دیکھیں کہ کچھ عرصے بعد آپ میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے لگی ہیں۔ خیالا ت میں اتنی قوت ہے وہ پتھر کی طرح ٹھوس حقیقت ہیں۔
مثبت خیالات سے بھرپور رہ کر آپ اپنے چاروں طرف تخلیقی لہروں کا نورانی خول بنالیتے ہیں۔ اس سے آپ کی ہی نہیں بلکہ آپ کے تعلق میں آنے والے ہر ایک شخص کوفائدہ ہوتا ہے۔ یہ نورانی خول دوسروں کے ذریعے چھوڑے گئے منفی خیالات کی لہروں سے آپ کی حفاظت بھی کرتا ہے۔