Webhosting in Pakistan
Page 7 of 7 FirstFirst ... 4567
Results 73 to 82 of 82

Thread: عجیب دوراہيں پرکھڑاہوں

  1. #73
    abid ali. is offline Junior Member
    Last Online
    25th April 2016 @ 04:44 PM
    Join Date
    21 Apr 2016
    Location
    karachi
    Gender
    Male
    Posts
    6
    Threads
    0
    Credits
    96
    Thanked
    0

    Default

    Webhosting in Pakistan
    Quote Saima_Anwar said: View Post
    Shukreya
    THRead kese karen ya kuch post karna ho tou kahan se karen.. jo option hai whan se nh ho raha

  2. #74
    Saima_Anwar's Avatar
    Saima_Anwar is offline Senior Member+
    Last Online
    6th November 2016 @ 09:45 AM
    Join Date
    24 Aug 2014
    Gender
    Female
    Posts
    3,867
    Threads
    281
    Credits
    9,275
    Thanked
    734

    Default

    Quote abid ali. said: View Post
    THRead kese karen ya kuch post karna ho tou kahan se karen.. jo option hai whan se nh ho raha
    يہ تھریڈ وزٹ كريں
    مناسب الفاظ ميں پوسٹنگ كا طريقه جانيئے

  3. #75
    ali_g27 is offline Junior Member
    Last Online
    18th September 2016 @ 11:23 AM
    Join Date
    29 Aug 2016
    Location
    chishtian
    Gender
    Male
    Posts
    2
    Threads
    0
    Credits
    74
    Thanked
    0

    Default

    jazakAllah buht buht shukria buht hi pyara waqia he Allah pak ham sab ko b zarurat mandon ki zaroorten pori karny ki to feeq ata farmaye (Aameen)

  4. #76
    Join Date
    01 Aug 2016
    Location
    Rawalakot
    Gender
    Male
    Posts
    1,605
    Threads
    73
    Credits
    10,194
    Thanked
    92

    Default

    Quote Saima_Anwar said: View Post
    السلام عليكم ‏ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پرانے وقتوں کا ذکر ہے عراق کے ایک شخص نے حج کا اردہ کیا۔ جس کے لیے اُس نے دِن رات محنت مزدوری کر کے حج کے لیے اپنا زادِ راہ اکھٹا کیا۔ آج کل کے دور کی طرح اُس وقت بھی لوگ قافلوں کی صورت میں حج پر روانہ ہوتے تھے۔
    قافلے کے افراد کو جمع کرنے کے لیے ایک انتظار گاہ بنائی گئی تھی جو اُس کے گھر سے کچھ ہی دور تھی۔ روانگی کے روز یہ شخص اپنے گھر والوں سے وداع لے کر نکلنے لگا تو فرطِ جذبات میں سب کے آنسو نکل آئے، اور سب نے اُسے اپنی دُعاؤں اور نیک خواہشات کے سائے میں رخصت کیا۔

    اِس شخص کے گھر اور قافلے کی انتظار گاہ کے درمیان ایک جنگل پڑتا تھا۔ یہ شخص تیز تیز قدم اُٹھاتا جا رہا تھا کہ جنگل سے کچھ پہلے ایک گھر سے اچانک کسی خاتون اور بچوں کے رونے کی آواز نے اِسے چونکا دیا۔ اُن آوازوں میں اتنا درد تھا کہ اِس سے رہا نہیں گیا۔
    وہ گھر کے قریب پہنچ کر کان لگا کر کھڑا ہو گیا تو اُس نے سنا کہ وہ خاتون رو بھی رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بچوں سے کہہ رہی تھی"بیٹا! آج میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، جو کچھ تھا وہ کل رات کو ہی ختم ہو گیا تھا۔۔۔!"اور بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے مسلسل بِلک بِلک کے رو رہے تھے۔
    ایک طرف قافلے والے اُس کا انتظار کر رہے تھے اور دوسری طرف ایک بھوکا خاندان کسی غیبی مدد کا منتظر تھا۔ یہ شخص شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔ آخر آسمان کی طرف نگاہ کر کے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اللہ سے گویا ہوا۔۔"یا اللہ! آج میں عجیب دوراہے پر کھڑا ہوں، ایک طرف تیری عظیم عبادت ہے اور دوسری طرف یہ بے بس خاندان۔ نہ میں تیری عبادت چھوڑنا چاہتا ہوں اور نہ اِن لوگوں کو اِس حال میں چھوڑ سکتا ہوں۔ تو ہی راہنمائی کر میں کیا کروں۔۔؟"
    اور اگلے ہی لمحے اِس شخص نے اُس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ خاتون نے دروازہ کھولا تو یہ شخص بولا،"بی بی! میں نہیں جانتا کہ تم لوگ کون ہو، میں بس اِدھر سے گزر رہا تھا کہ تمہاری رونے کی آواز نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے تمہاری ساری باتیں سن لی ہیں۔ یہ لو میرے پاس کچھ پیسے اور کھانے کی چیزیں ہیں، اِن سے اپنے اور اپنے بچوں کیلئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کر لو۔۔۔!"
    وہ خاتون اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور روتے ہوئے بولی،"اے اجنبی! پچھلے دِنوں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔ تبھی سے ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ آپ کی بہت بہت مہربانی جو آپ نے ہم غریبوں پر اتنا رحم کیا،

    اللہ آپ کی دلی مراد پوری کرے۔!
    حج سے بڑھ کے اُس شخص کی دلی مراد اور کیا تھی، لیکن حج پر جانے کے لیے کل سرمایہ تو راہِ خدا میں قربان کر دیا تھا۔ اب یہ شخص نہ تو واپس گھر جا سکتا تھا کہ گھر والے کیا سوچیں گے، حج کیے بغیر واپس آگیا۔
    اور نہ ہی بغیر زادِ راہ کے وہ قافلے میں شامل ہو سکتا تھا۔ چنانچہ وہ قریب کے جنگل میں چھپ کر بیٹھ گیا اور حج کے دِنوں کے گزرنے کا انتظار کرنے لگا۔

    کچھ دِنوں کے بعد جب حج کے دِن گزر گئے اور اُس کے قافلے کے لوگ جنگل کے راستے اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے تو یہ بھی چپکے سے اُن میں شامل ہوگیا۔ تبھی ایک شخص اُس سے مخاطب ہوا اور بولا
    "جناب! حج مبارک ہو، میں نے آپ کو فلاں جگہ آبِ زم زم پیتے دیکھا تھا۔۔!"
    پھر کچھ دیر کے بعد ایک اور شخص بولا"میں نے آپ کو سعی کرتے دیکھا تھا۔۔!"
    ایک اور شخص بولا،"میں نے آپ کو طواف کرتے دیکھا تھا۔۔"!

    غرض کہ ہر حاجی اُس کی حج کے موقع پر موجودگی کی دلیل دینے لگا۔ یہ شخص گھر پہنچا گھر والوں نے بھی پُرتپاک استقبال کیا اور حج کی ڈھیر ساری مبارک باد دی۔
    لیکن یہ شخص اندر ہی اندر پریشان تھا کہ"میں تو حج پر گیا ہی نہیں تھا، تو پھر کیوں ہر حاجی میرے وہاں پر موجود ہونے کی بات کر رہا ہے؟ ظاہر سی بات ہے حج سے واپسی پر کوئی حاجی جھوٹ تو نہیں بولے گا، لیکن ماجرہ کیا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔۔!"انہی سوچوں میں گھومتے گھومتے اُسے نیند آ گئی، اور وہ سو گیا۔

    عالمِ خواب میں اُسے بشارت ملی کہ"اے نیک دل انسان! تم نے حج جیسی عظیم عبادت کو چھوڑ کر مخلوقِ خدا کی مدد کی۔ اِس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے بالکل تمہاری شکل کے ایک فرشتے کو خلق کیا اور اُسے تمہاری نیابت میں حج پر بھیجا اور یہی نہیں بلکہ اُس فرشتے کے حج کا سارے کا سارا ثواب بھی تجھے ہی ملے گا۔ اور اسی لیے ہر حاجی تمہاری وہاں پر موجودگی کی دلیل دے رہا ہے۔۔۔!"
    حوالہ:: کتاب:"مقام انسانیت"
    Nice

  5. #77
    Join Date
    03 Jul 2013
    Location
    Peshawar
    Age
    21
    Gender
    Male
    Posts
    261
    Threads
    7
    Credits
    79
    Thanked
    8

    Default

    MASHALLAH

  6. #78
    Saima_Anwar's Avatar
    Saima_Anwar is offline Senior Member+
    Last Online
    6th November 2016 @ 09:45 AM
    Join Date
    24 Aug 2014
    Gender
    Female
    Posts
    3,867
    Threads
    281
    Credits
    9,275
    Thanked
    734

    Default

    Pasand karni ka shukreya

  7. #79
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    15,025
    Threads
    277
    Credits
    66,283
    Thanked
    803

    Default

    Quote Saima_Anwar said: View Post
    السلام عليكم ‏ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پرانے وقتوں کا ذکر ہے عراق کے ایک شخص نے حج کا اردہ کیا۔ جس کے لیے اُس نے دِن رات محنت مزدوری کر کے حج کے لیے اپنا زادِ راہ اکھٹا کیا۔ آج کل کے دور کی طرح اُس وقت بھی لوگ قافلوں کی صورت میں حج پر روانہ ہوتے تھے۔
    قافلے کے افراد کو جمع کرنے کے لیے ایک انتظار گاہ بنائی گئی تھی جو اُس کے گھر سے کچھ ہی دور تھی۔ روانگی کے روز یہ شخص اپنے گھر والوں سے وداع لے کر نکلنے لگا تو فرطِ جذبات میں سب کے آنسو نکل آئے، اور سب نے اُسے اپنی دُعاؤں اور نیک خواہشات کے سائے میں رخصت کیا۔

    اِس شخص کے گھر اور قافلے کی انتظار گاہ کے درمیان ایک جنگل پڑتا تھا۔ یہ شخص تیز تیز قدم اُٹھاتا جا رہا تھا کہ جنگل سے کچھ پہلے ایک گھر سے اچانک کسی خاتون اور بچوں کے رونے کی آواز نے اِسے چونکا دیا۔ اُن آوازوں میں اتنا درد تھا کہ اِس سے رہا نہیں گیا۔
    وہ گھر کے قریب پہنچ کر کان لگا کر کھڑا ہو گیا تو اُس نے سنا کہ وہ خاتون رو بھی رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بچوں سے کہہ رہی تھی"بیٹا! آج میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، جو کچھ تھا وہ کل رات کو ہی ختم ہو گیا تھا۔۔۔!"اور بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے مسلسل بِلک بِلک کے رو رہے تھے۔
    ایک طرف قافلے والے اُس کا انتظار کر رہے تھے اور دوسری طرف ایک بھوکا خاندان کسی غیبی مدد کا منتظر تھا۔ یہ شخص شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔ آخر آسمان کی طرف نگاہ کر کے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اللہ سے گویا ہوا۔۔"یا اللہ! آج میں عجیب دوراہے پر کھڑا ہوں، ایک طرف تیری عظیم عبادت ہے اور دوسری طرف یہ بے بس خاندان۔ نہ میں تیری عبادت چھوڑنا چاہتا ہوں اور نہ اِن لوگوں کو اِس حال میں چھوڑ سکتا ہوں۔ تو ہی راہنمائی کر میں کیا کروں۔۔؟"
    اور اگلے ہی لمحے اِس شخص نے اُس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ خاتون نے دروازہ کھولا تو یہ شخص بولا،"بی بی! میں نہیں جانتا کہ تم لوگ کون ہو، میں بس اِدھر سے گزر رہا تھا کہ تمہاری رونے کی آواز نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے تمہاری ساری باتیں سن لی ہیں۔ یہ لو میرے پاس کچھ پیسے اور کھانے کی چیزیں ہیں، اِن سے اپنے اور اپنے بچوں کیلئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کر لو۔۔۔!"
    وہ خاتون اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور روتے ہوئے بولی،"اے اجنبی! پچھلے دِنوں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔ تبھی سے ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ آپ کی بہت بہت مہربانی جو آپ نے ہم غریبوں پر اتنا رحم کیا،

    اللہ آپ کی دلی مراد پوری کرے۔!
    حج سے بڑھ کے اُس شخص کی دلی مراد اور کیا تھی، لیکن حج پر جانے کے لیے کل سرمایہ تو راہِ خدا میں قربان کر دیا تھا۔ اب یہ شخص نہ تو واپس گھر جا سکتا تھا کہ گھر والے کیا سوچیں گے، حج کیے بغیر واپس آگیا۔
    اور نہ ہی بغیر زادِ راہ کے وہ قافلے میں شامل ہو سکتا تھا۔ چنانچہ وہ قریب کے جنگل میں چھپ کر بیٹھ گیا اور حج کے دِنوں کے گزرنے کا انتظار کرنے لگا۔

    کچھ دِنوں کے بعد جب حج کے دِن گزر گئے اور اُس کے قافلے کے لوگ جنگل کے راستے اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے تو یہ بھی چپکے سے اُن میں شامل ہوگیا۔ تبھی ایک شخص اُس سے مخاطب ہوا اور بولا
    "جناب! حج مبارک ہو، میں نے آپ کو فلاں جگہ آبِ زم زم پیتے دیکھا تھا۔۔!"
    پھر کچھ دیر کے بعد ایک اور شخص بولا"میں نے آپ کو سعی کرتے دیکھا تھا۔۔!"
    ایک اور شخص بولا،"میں نے آپ کو طواف کرتے دیکھا تھا۔۔"!

    غرض کہ ہر حاجی اُس کی حج کے موقع پر موجودگی کی دلیل دینے لگا۔ یہ شخص گھر پہنچا گھر والوں نے بھی پُرتپاک استقبال کیا اور حج کی ڈھیر ساری مبارک باد دی۔
    لیکن یہ شخص اندر ہی اندر پریشان تھا کہ"میں تو حج پر گیا ہی نہیں تھا، تو پھر کیوں ہر حاجی میرے وہاں پر موجود ہونے کی بات کر رہا ہے؟ ظاہر سی بات ہے حج سے واپسی پر کوئی حاجی جھوٹ تو نہیں بولے گا، لیکن ماجرہ کیا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔۔!"انہی سوچوں میں گھومتے گھومتے اُسے نیند آ گئی، اور وہ سو گیا۔

    عالمِ خواب میں اُسے بشارت ملی کہ"اے نیک دل انسان! تم نے حج جیسی عظیم عبادت کو چھوڑ کر مخلوقِ خدا کی مدد کی۔ اِس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے بالکل تمہاری شکل کے ایک فرشتے کو خلق کیا اور اُسے تمہاری نیابت میں حج پر بھیجا اور یہی نہیں بلکہ اُس فرشتے کے حج کا سارے کا سارا ثواب بھی تجھے ہی ملے گا۔ اور اسی لیے ہر حاجی تمہاری وہاں پر موجودگی کی دلیل دے رہا ہے۔۔۔!"
    حوالہ:: کتاب:"مقام انسانیت"
    Jazak Allah Khair

  8. #80
    Join Date
    06 Jul 2017
    Location
    Kohat
    Age
    26
    Gender
    Male
    Posts
    2
    Threads
    0
    Credits
    72
    Thanked
    0

    Default

    Quote Saima_Anwar said: View Post
    السلام عليكم ‏ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پرانے وقتوں کا ذکر ہے عراق کے ایک شخص نے حج کا اردہ کیا۔ جس کے لیے اُس نے دِن رات محنت مزدوری کر کے حج کے لیے اپنا زادِ راہ اکھٹا کیا۔ آج کل کے دور کی طرح اُس وقت بھی لوگ قافلوں کی صورت میں حج پر روانہ ہوتے تھے۔
    قافلے کے افراد کو جمع کرنے کے لیے ایک انتظار گاہ بنائی گئی تھی جو اُس کے گھر سے کچھ ہی دور تھی۔ روانگی کے روز یہ شخص اپنے گھر والوں سے وداع لے کر نکلنے لگا تو فرطِ جذبات میں سب کے آنسو نکل آئے، اور سب نے اُسے اپنی دُعاؤں اور نیک خواہشات کے سائے میں رخصت کیا۔

    اِس شخص کے گھر اور قافلے کی انتظار گاہ کے درمیان ایک جنگل پڑتا تھا۔ یہ شخص تیز تیز قدم اُٹھاتا جا رہا تھا کہ جنگل سے کچھ پہلے ایک گھر سے اچانک کسی خاتون اور بچوں کے رونے کی آواز نے اِسے چونکا دیا۔ اُن آوازوں میں اتنا درد تھا کہ اِس سے رہا نہیں گیا۔
    وہ گھر کے قریب پہنچ کر کان لگا کر کھڑا ہو گیا تو اُس نے سنا کہ وہ خاتون رو بھی رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے بچوں سے کہہ رہی تھی"بیٹا! آج میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، جو کچھ تھا وہ کل رات کو ہی ختم ہو گیا تھا۔۔۔!"اور بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے مسلسل بِلک بِلک کے رو رہے تھے۔
    ایک طرف قافلے والے اُس کا انتظار کر رہے تھے اور دوسری طرف ایک بھوکا خاندان کسی غیبی مدد کا منتظر تھا۔ یہ شخص شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔ آخر آسمان کی طرف نگاہ کر کے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اللہ سے گویا ہوا۔۔"یا اللہ! آج میں عجیب دوراہے پر کھڑا ہوں، ایک طرف تیری عظیم عبادت ہے اور دوسری طرف یہ بے بس خاندان۔ نہ میں تیری عبادت چھوڑنا چاہتا ہوں اور نہ اِن لوگوں کو اِس حال میں چھوڑ سکتا ہوں۔ تو ہی راہنمائی کر میں کیا کروں۔۔؟"
    اور اگلے ہی لمحے اِس شخص نے اُس گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ خاتون نے دروازہ کھولا تو یہ شخص بولا،"بی بی! میں نہیں جانتا کہ تم لوگ کون ہو، میں بس اِدھر سے گزر رہا تھا کہ تمہاری رونے کی آواز نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا۔ میں نے تمہاری ساری باتیں سن لی ہیں۔ یہ لو میرے پاس کچھ پیسے اور کھانے کی چیزیں ہیں، اِن سے اپنے اور اپنے بچوں کیلئے کچھ کھانے پینے کا بندوبست کر لو۔۔۔!"
    وہ خاتون اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور روتے ہوئے بولی،"اے اجنبی! پچھلے دِنوں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا تھا۔ تبھی سے ہم پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں۔ آپ کی بہت بہت مہربانی جو آپ نے ہم غریبوں پر اتنا رحم کیا،

    اللہ آپ کی دلی مراد پوری کرے۔!
    حج سے بڑھ کے اُس شخص کی دلی مراد اور کیا تھی، لیکن حج پر جانے کے لیے کل سرمایہ تو راہِ خدا میں قربان کر دیا تھا۔ اب یہ شخص نہ تو واپس گھر جا سکتا تھا کہ گھر والے کیا سوچیں گے، حج کیے بغیر واپس آگیا۔
    اور نہ ہی بغیر زادِ راہ کے وہ قافلے میں شامل ہو سکتا تھا۔ چنانچہ وہ قریب کے جنگل میں چھپ کر بیٹھ گیا اور حج کے دِنوں کے گزرنے کا انتظار کرنے لگا۔

    کچھ دِنوں کے بعد جب حج کے دِن گزر گئے اور اُس کے قافلے کے لوگ جنگل کے راستے اپنے اپنے گھروں کو جانے لگے تو یہ بھی چپکے سے اُن میں شامل ہوگیا۔ تبھی ایک شخص اُس سے مخاطب ہوا اور بولا
    "جناب! حج مبارک ہو، میں نے آپ کو فلاں جگہ آبِ زم زم پیتے دیکھا تھا۔۔!"
    پھر کچھ دیر کے بعد ایک اور شخص بولا"میں نے آپ کو سعی کرتے دیکھا تھا۔۔!"
    ایک اور شخص بولا،"میں نے آپ کو طواف کرتے دیکھا تھا۔۔"!

    غرض کہ ہر حاجی اُس کی حج کے موقع پر موجودگی کی دلیل دینے لگا۔ یہ شخص گھر پہنچا گھر والوں نے بھی پُرتپاک استقبال کیا اور حج کی ڈھیر ساری مبارک باد دی۔
    لیکن یہ شخص اندر ہی اندر پریشان تھا کہ"میں تو حج پر گیا ہی نہیں تھا، تو پھر کیوں ہر حاجی میرے وہاں پر موجود ہونے کی بات کر رہا ہے؟ ظاہر سی بات ہے حج سے واپسی پر کوئی حاجی جھوٹ تو نہیں بولے گا، لیکن ماجرہ کیا ہے یہ سمجھ سے باہر ہے۔۔!"انہی سوچوں میں گھومتے گھومتے اُسے نیند آ گئی، اور وہ سو گیا۔

    عالمِ خواب میں اُسے بشارت ملی کہ"اے نیک دل انسان! تم نے حج جیسی عظیم عبادت کو چھوڑ کر مخلوقِ خدا کی مدد کی۔ اِس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے بالکل تمہاری شکل کے ایک فرشتے کو خلق کیا اور اُسے تمہاری نیابت میں حج پر بھیجا اور یہی نہیں بلکہ اُس فرشتے کے حج کا سارے کا سارا ثواب بھی تجھے ہی ملے گا۔ اور اسی لیے ہر حاجی تمہاری وہاں پر موجودگی کی دلیل دے رہا ہے۔۔۔!"
    حوالہ:: کتاب:"مقام انسانیت"
    bhai jaan aslam aly kum aaj mein aap logo k liye ek aisi website dhoond k laya houn jis mein ap na srif playstation 4 balky dusre gifts yani k ihone 7 wagera handsfree aur bhot kuch free mein hasil kar sakty hain mein ne is website se free mein selfie stick achi wali free mein hasil ki hai aap ko karna ye hai k ap nichy di huwi website link ko visit karien and register ho kar enjoy karien bhai jaan

    - - - Updated - - -

    bhai jaan aslam aly kum aaj mein aap logo k liye ek aisi website dhoond k laya houn jis mein ap na srif playstation 4 balky dusre gifts yani k ihone 7 wagera handsfree aur bhot kuch free mein hasil kar sakty hain mein ne is website se free mein selfie stick achi wali free mein hasil ki hai aap ko karna ye hai k ap nichy di huwi website link ko visit karien and register ho kar enjoy karien bhai jaan

  9. #81
    sami668 is offline Senior Member+
    Last Online
    3rd May 2018 @ 09:59 AM
    Join Date
    12 Jul 2017
    Location
    Lahore
    Age
    19
    Gender
    Male
    Posts
    52
    Threads
    1
    Credits
    293
    Thanked: 1

    Default

    سبحان اللہ

  10. #82
    Somia5522 is offline Junior Member
    Last Online
    4th August 2017 @ 11:45 PM
    Join Date
    30 Jul 2017
    Gender
    Female
    Posts
    9
    Threads
    1
    Credits
    99
    Thanked
    0

    Default

    Webhosting in Pakistan
    really good post

Page 7 of 7 FirstFirst ... 4567

Similar Threads

  1. ~*~میری دوستی بھی عجیب ہے~*~
    By sultanasir in forum Urdu Adab & Shayeri
    Replies: 8
    Last Post: 16th July 2011, 11:54 PM
  2. کیا عجیب تھا یہ نوجوان
    By Adeel Naseem in forum Islam
    Replies: 9
    Last Post: 15th July 2011, 04:26 PM
  3. خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی
    By Fiza15 in forum Urdu Adab & Shayeri
    Replies: 1
    Last Post: 9th June 2011, 08:59 PM
  4. اس بار درد ہجر کی شدّت عجیب تھی
    By Sanas in forum Urdu Adab & Shayeri
    Replies: 10
    Last Post: 28th November 2010, 01:35 PM
  5. عجیب کیا ہے؟
    By UltimateX in forum Baat cheet
    Replies: 8
    Last Post: 31st March 2009, 07:14 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •