Webhosting in Pakistan
Results 1 to 12 of 12

Thread: بے خوابی کے بنیادی اسباب

  1. #1
    Shaheen Latif's Avatar
    Shaheen Latif is offline Super Moderator
    Last Online
    Yesterday @ 10:27 PM
    Join Date
    26 Mar 2010
    Location
    Lahore
    Gender
    Male
    Posts
    8,741
    Threads
    1628
    Credits
    76,959
    Thanked
    1570

    Default بے خوابی کے بنیادی اسباب

    Webhosting in Pakistan
    بے خوابی کے بنیادی اسباب

    Name:  sleepless.jpg
Views: 394
Size:  19.2 KB


    اہل استطاعت کے لیے خواب گاہ کو مثالی بنانا مشکل نہیں۔ان کے خادم ڈاکٹروں طبیبوں کے زیر ہدائیت صحیح قسم کے بچھونوں سے خوابگاہ کو آراستہ کر لیتے ہیں۔اسکا درجہء حرارت بھی حسب منشاء رکھا جاتا ہے۔لباس بھی آرام دہ ہوتا ہے لیکن نیند پھر بھی نہیں آتی۔
    سکون آفریں ادویہ بھی نیند کی قاتل ہیں۔کارخانہ داروں نے جہاں مالی مفاد کی خاطر سگریٹون کی تشہیر کی۔۔۔ انکا جال پھیلایا۔۔۔ اور لوگوں کو انکا عادی بنایا۔اسی طرح سکون بخش ادویہ کا معاملہ ہے ہر سال اسپرین کی اربوں ٹکیاں استعمال میں آتی ہیں۔نیند کو بھگانے اور بے خوابی لانے میں اسکا بھی ہاتھ ہے۔اسپرین کے علاوہ اور بھی ایسی ٹکیاں ہیں جو بڑی بے تکلفی سے کھائی جاتی ہیں۔
    ان سکون بخش ادویہ کی عادت پڑ جائے اور آدمی ان کے بغیر نہ رہے تو سمجھیں کہ صحت ہاتھ سے گئی۔یہ قوت ارادی کی قاتل ہیں۔
    یہ بات سراسر غلط ہے کہ ان ادویہ سے اعصاب کو سکون ملتا ہے وہ ان ادویہ کے مسلسل استعمال سے کام کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں اور ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ان سے درد کی شکائیت بھی دور نہیں ہوتی ۔عارضی سی کیفیت ضرور پیدا ہو جاتی ہے جس سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے۔اعصاب کی حسی صلاحیت عارضی طور پر مفلوج ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر افاقہ ہوتا ہے۔لیکن مرض کی وجہ جوں کی توں رہتی ہے۔درد کو اس طرح دبانہ غیر دانشمندانہ عمل ہے۔درد آدمی کو خبردار کرتا ہے کہ آدمی کے جسم میں کمی آ گئی ہے۔اس خرابی کو دور کر دیا جائے تو درد خود بخود دور ہو جائے گا۔پیٹ درد کا مطلب ہے کہ نظام انہضام میں خرابی ہے اسے دور کیا جائے تو درد خود بخود دور ہو جاتا ہے۔درد کمر کا مطلب ہے کہ مخصوص حیاتین کی کمی آگئی ہے۔اسے دور کرنے کا طریقہ درد دور کرنے کی دوا نہیں بلکہ حیاتین کا ستعمال ہے۔تاہم جب درد نا قابل برداشت ہو جیسے پیٹ کا درد قولنج کا درد تو ڈاکٹر کے مشورے سے درد دور کرنے کی دوا لینی چاہیے اس کے بعد اصل مرض کا علاج کرنا چاہیے۔درد کش دوائیں مسلسل استعمال کی جائیں تو طبیعت میں افسردگی آ جاتی ہے۔اس کے علاوہ اعضا شکنی کی عادت پڑ جاتی ہے۔انکی لت پڑ جائے تو نشہ توٹنے پر دوبارہ طلب پیدا ہوتی ہے۔ہاتھ پاؤن توٹنے لگتے ہیں ۔بیزاری اور بے دلی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔مزید خون میں تیزابیت کی وجہ سے نئے نئے عوارض پیدا ہوتے ہیں۔
    درد کش ادویہ کے نقصانات
    ان کے استعمال کے بڑے نقصانات یہ ہیں کہ ایک تو انکی لت پڑ جاتی ہے دوسرے مقدار بڑہتی رہتی ہے۔قبض کی شکائیت لاحق ہو جاتی ہے۔قبض کو امل امراض کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس سے پورے جسم کا نظام بدل جاتا ہے۔بے چینی بے آرامی اور انتشار سے فراغت نہیں ملتی۔کام میں جی نہیں لگتا۔درد کش ادویہ زہریلی ہوتی ہیں۔بدن میں زہر جمع ہوتا رہتا ہے اور آدمی کو ٹھکانے لگانے کے کام آتا ہے۔تیزابیت کی زیادتی کی کئی وجوہ ہیں۔
    ضرورت سے زیادہ جذباتی ہونا
    زود رنج ہونا
    فوراً بھڑک اٹھنا
    ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہونا
    جذبہ ایک اچھی چیز ہے لیکن اسے بے لگام کر دیا جائے کنٹرول نہ کیا جائے تو نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔جو شخص ہر وقت مشتعل رہے،بدمزاجی کا ثبوت دے وہ گویا اپنے اعصابی نظام سے کھیلتا ہے،اور آگ میں دھکیلتا ہے۔اس طرح خلیے اور بافتیں بری طرح سے متاثر ہوتی ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے ۔صبر وسکون سے عاری لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ان حالات میں بے خوابی اور دوسری بیماریاں ہجوم کی صورت میں حملہ آور ہوتی ہیں اور جینا دو بھر ہو جاتا ہے۔
    بوریت بھی تخریب کار ہے۔اکتائے ہوئے رہنا زندگی کی لطافت کو کم کر دیتا ہے۔اکتاہٹ میں جسم سے شکر کی مقدار فوراً گھٹ جاتی ہے۔بے دلی اور تھکن پیدا ہوتی ہے۔ایسے میں لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں جس کا اثر جگر پر پڑتا ہے۔اور عارضی طور پر خون میں شکر کی رسد بڑھ جاتی ہے لیکن اس سے نیند جاتی رہتی ہے۔
    سگریٹ کافی چائے اور دیگر منشیات نیند کی قاتل ہیں ان سے بچنا چاہیے۔ایسی نیند جو منشیات سے آئے انسانی اعضاء کو ناکارہ کر دیتی ہے۔



  2. #2
    Umarkhan147's Avatar
    Umarkhan147 is offline Advance Member
    Last Online
    11th January 2020 @ 05:35 PM
    Join Date
    22 Dec 2015
    Location
    Faisalabad
    Age
    25
    Gender
    Male
    Posts
    4,878
    Threads
    242
    Credits
    35,348
    Thanked
    301

    Default

    ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺷﯿﺌﺮﻧﮓ ﮐﯽ
    ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﮑﺮﯾﮧ

  3. #3
    miss ch is offline Junior Member
    Last Online
    30th January 2017 @ 01:14 PM
    Join Date
    19 Jan 2017
    Gender
    Female
    Posts
    16
    Threads
    0
    Credits
    86
    Thanked: 1

    Default

    ALLAH sy dil lga lain to phr skoon he skoon hai

  4. #4
    Shaheen Latif's Avatar
    Shaheen Latif is offline Super Moderator
    Last Online
    Yesterday @ 10:27 PM
    Join Date
    26 Mar 2010
    Location
    Lahore
    Gender
    Male
    Posts
    8,741
    Threads
    1628
    Credits
    76,959
    Thanked
    1570

    Default

    Quote Umarkhan147 said: View Post
    ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺷﯿﺌﺮﻧﮓ ﮐﯽ
    ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﮑﺮﯾﮧ
    بہت شکریہ عمر بھائی۔

  5. #5
    Shaheen Latif's Avatar
    Shaheen Latif is offline Super Moderator
    Last Online
    Yesterday @ 10:27 PM
    Join Date
    26 Mar 2010
    Location
    Lahore
    Gender
    Male
    Posts
    8,741
    Threads
    1628
    Credits
    76,959
    Thanked
    1570

    Default

    Quote miss ch said: View Post
    ALLAH sy dil lga lain to phr skoon he skoon hai
    بہت شکریہ اطلاع دینے کا۔
    جزاک اللہ۔

  6. #6
    Join Date
    14 Jun 2016
    Age
    27
    Gender
    Female
    Posts
    131
    Threads
    12
    Credits
    850
    Thanked
    4

    Default

    Jezakillah bht acha mashwara dia, Allah sb ko hadayat dai k wo cigrete sai bachai(ameen)
    videoonline.pk

  7. #7
    ayeshaali is offline Senior Member+
    Last Online
    4th July 2017 @ 05:38 PM
    Join Date
    15 May 2015
    Age
    29
    Gender
    Female
    Posts
    51
    Threads
    8
    Credits
    198
    Thanked
    4

    Default

    thanks alot

  8. #8
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    21,312
    Threads
    285
    Credits
    96,269
    Thanked
    961

    Default

    Quote Shaheen Latif said: View Post
    بے خوابی کے بنیادی اسباب

    Name:  sleepless.jpg
Views: 394
Size:  19.2 KB


    اہل استطاعت کے لیے خواب گاہ کو مثالی بنانا مشکل نہیں۔ان کے خادم ڈاکٹروں طبیبوں کے زیر ہدائیت صحیح قسم کے بچھونوں سے خوابگاہ کو آراستہ کر لیتے ہیں۔اسکا درجہء حرارت بھی حسب منشاء رکھا جاتا ہے۔لباس بھی آرام دہ ہوتا ہے لیکن نیند پھر بھی نہیں آتی۔
    سکون آفریں ادویہ بھی نیند کی قاتل ہیں۔کارخانہ داروں نے جہاں مالی مفاد کی خاطر سگریٹون کی تشہیر کی۔۔۔ انکا جال پھیلایا۔۔۔ اور لوگوں کو انکا عادی بنایا۔اسی طرح سکون بخش ادویہ کا معاملہ ہے ہر سال اسپرین کی اربوں ٹکیاں استعمال میں آتی ہیں۔نیند کو بھگانے اور بے خوابی لانے میں اسکا بھی ہاتھ ہے۔اسپرین کے علاوہ اور بھی ایسی ٹکیاں ہیں جو بڑی بے تکلفی سے کھائی جاتی ہیں۔
    ان سکون بخش ادویہ کی عادت پڑ جائے اور آدمی ان کے بغیر نہ رہے تو سمجھیں کہ صحت ہاتھ سے گئی۔یہ قوت ارادی کی قاتل ہیں۔
    یہ بات سراسر غلط ہے کہ ان ادویہ سے اعصاب کو سکون ملتا ہے وہ ان ادویہ کے مسلسل استعمال سے کام کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں اور ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ان سے درد کی شکائیت بھی دور نہیں ہوتی ۔عارضی سی کیفیت ضرور پیدا ہو جاتی ہے جس سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے۔اعصاب کی حسی صلاحیت عارضی طور پر مفلوج ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر افاقہ ہوتا ہے۔لیکن مرض کی وجہ جوں کی توں رہتی ہے۔درد کو اس طرح دبانہ غیر دانشمندانہ عمل ہے۔درد آدمی کو خبردار کرتا ہے کہ آدمی کے جسم میں کمی آ گئی ہے۔اس خرابی کو دور کر دیا جائے تو درد خود بخود دور ہو جائے گا۔پیٹ درد کا مطلب ہے کہ نظام انہضام میں خرابی ہے اسے دور کیا جائے تو درد خود بخود دور ہو جاتا ہے۔درد کمر کا مطلب ہے کہ مخصوص حیاتین کی کمی آگئی ہے۔اسے دور کرنے کا طریقہ درد دور کرنے کی دوا نہیں بلکہ حیاتین کا ستعمال ہے۔تاہم جب درد نا قابل برداشت ہو جیسے پیٹ کا درد قولنج کا درد تو ڈاکٹر کے مشورے سے درد دور کرنے کی دوا لینی چاہیے اس کے بعد اصل مرض کا علاج کرنا چاہیے۔درد کش دوائیں مسلسل استعمال کی جائیں تو طبیعت میں افسردگی آ جاتی ہے۔اس کے علاوہ اعضا شکنی کی عادت پڑ جاتی ہے۔انکی لت پڑ جائے تو نشہ توٹنے پر دوبارہ طلب پیدا ہوتی ہے۔ہاتھ پاؤن توٹنے لگتے ہیں ۔بیزاری اور بے دلی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔مزید خون میں تیزابیت کی وجہ سے نئے نئے عوارض پیدا ہوتے ہیں۔
    درد کش ادویہ کے نقصانات
    ان کے استعمال کے بڑے نقصانات یہ ہیں کہ ایک تو انکی لت پڑ جاتی ہے دوسرے مقدار بڑہتی رہتی ہے۔قبض کی شکائیت لاحق ہو جاتی ہے۔قبض کو امل امراض کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس سے پورے جسم کا نظام بدل جاتا ہے۔بے چینی بے آرامی اور انتشار سے فراغت نہیں ملتی۔کام میں جی نہیں لگتا۔درد کش ادویہ زہریلی ہوتی ہیں۔بدن میں زہر جمع ہوتا رہتا ہے اور آدمی کو ٹھکانے لگانے کے کام آتا ہے۔تیزابیت کی زیادتی کی کئی وجوہ ہیں۔
    ضرورت سے زیادہ جذباتی ہونا
    زود رنج ہونا
    فوراً بھڑک اٹھنا
    ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہونا
    جذبہ ایک اچھی چیز ہے لیکن اسے بے لگام کر دیا جائے کنٹرول نہ کیا جائے تو نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔جو شخص ہر وقت مشتعل رہے،بدمزاجی کا ثبوت دے وہ گویا اپنے اعصابی نظام سے کھیلتا ہے،اور آگ میں دھکیلتا ہے۔اس طرح خلیے اور بافتیں بری طرح سے متاثر ہوتی ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے ۔صبر وسکون سے عاری لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ان حالات میں بے خوابی اور دوسری بیماریاں ہجوم کی صورت میں حملہ آور ہوتی ہیں اور جینا دو بھر ہو جاتا ہے۔
    بوریت بھی تخریب کار ہے۔اکتائے ہوئے رہنا زندگی کی لطافت کو کم کر دیتا ہے۔اکتاہٹ میں جسم سے شکر کی مقدار فوراً گھٹ جاتی ہے۔بے دلی اور تھکن پیدا ہوتی ہے۔ایسے میں لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں جس کا اثر جگر پر پڑتا ہے۔اور عارضی طور پر خون میں شکر کی رسد بڑھ جاتی ہے لیکن اس سے نیند جاتی رہتی ہے۔
    سگریٹ کافی چائے اور دیگر منشیات نیند کی قاتل ہیں ان سے بچنا چاہیے۔ایسی نیند جو منشیات سے آئے انسانی اعضاء کو ناکارہ کر دیتی ہے۔


    Thanks for Sharing

  9. #9
    maktabweb is offline Advance Member
    Last Online
    22nd March 2020 @ 09:55 PM
    Join Date
    19 Sep 2015
    Location
    Karachi
    Age
    57
    Gender
    Male
    Posts
    1,753
    Threads
    824
    Credits
    18,047
    Thanked
    262

    Default

    جزاک اللہ

  10. #10
    Haseeb Alamgir's Avatar
    Haseeb Alamgir is offline Moderator
    Last Online
    30th June 2020 @ 01:25 PM
    Join Date
    09 Apr 2009
    Location
    کر&
    Gender
    Male
    Posts
    16,115
    Threads
    255
    Credits
    23,263
    Thanked
    1798

    Default

    بے خوابی کے بنیادی اسباب کے حوالے سے شئیرینگ ہمارے ساتھ شئیر کرنے کا بہت شکریہ

    بے خوابی سے نجات کے لئے آسان نسخہ
    آپ ﷺ پر درود شریف پڑھیں تین یا چار بار ہی پڑھیں گے تو آپ کو پیاری سے نیند آچکی ہوگی

  11. #11
    Join Date
    13 May 2018
    Location
    Rawalpindi
    Age
    34
    Gender
    Female
    Posts
    62
    Threads
    9
    Credits
    371
    Thanked
    5

    Default

    بہت عمدہ اور نائس انفارمیشن۔۔۔ کیپ اٹ اپ۔۔۔ رئیلی نائس

  12. #12
    leezuka389's Avatar
    leezuka389 is offline Advance Member
    Last Online
    Yesterday @ 02:33 PM
    Join Date
    04 Nov 2015
    Gender
    Male
    Posts
    4,896
    Threads
    33
    Credits
    26,704
    Thanked
    274

    Default

    Webhosting in Pakistan
    [QUOTE=Shaheen Latif;5775380]
    بے خوابی کے بنیادی اسباب

    Name:  sleepless.jpg
Views: 394
Size:  19.2 KB


    اہل استطاعت کے لیے خواب گاہ کو مثالی بنانا مشکل نہیں۔ان کے خادم ڈاکٹروں طبیبوں کے زیر ہدائیت صحیح قسم کے بچھونوں سے خوابگاہ کو آراستہ کر لیتے ہیں۔اسکا درجہء حرارت بھی حسب منشاء رکھا جاتا ہے۔لباس بھی آرام دہ ہوتا ہے لیکن نیند پھر بھی نہیں آتی۔
    سکون آفریں ادویہ بھی نیند کی قاتل ہیں۔کارخانہ داروں نے جہاں مالی مفاد کی خاطر سگریٹون کی تشہیر کی۔۔۔ انکا جال پھیلایا۔۔۔ اور لوگوں کو انکا عادی بنایا۔اسی طرح سکون بخش ادویہ کا معاملہ ہے ہر سال اسپرین کی اربوں ٹکیاں استعمال میں آتی ہیں۔نیند کو بھگانے اور بے خوابی لانے میں اسکا بھی ہاتھ ہے۔اسپرین کے علاوہ اور بھی ایسی ٹکیاں ہیں جو بڑی بے تکلفی سے کھائی جاتی ہیں۔
    ان سکون بخش ادویہ کی عادت پڑ جائے اور آدمی ان کے بغیر نہ رہے تو سمجھیں کہ صحت ہاتھ سے گئی۔یہ قوت ارادی کی قاتل ہیں۔
    یہ بات سراسر غلط ہے کہ ان ادویہ سے اعصاب کو سکون ملتا ہے وہ ان ادویہ کے مسلسل استعمال سے کام کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں اور ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ان سے درد کی شکائیت بھی دور نہیں ہوتی ۔عارضی سی کیفیت ضرور پیدا ہو جاتی ہے جس سے آدمی دھوکا کھا جاتا ہے۔اعصاب کی حسی صلاحیت عارضی طور پر مفلوج ہونے کی وجہ سے عارضی طور پر افاقہ ہوتا ہے۔لیکن مرض کی وجہ جوں کی توں رہتی ہے۔درد کو اس طرح دبانہ غیر دانشمندانہ عمل ہے۔درد آدمی کو خبردار کرتا ہے کہ آدمی کے جسم میں کمی آ گئی ہے۔اس خرابی کو دور کر دیا جائے تو درد خود بخود دور ہو جائے گا۔پیٹ درد کا مطلب ہے کہ نظام انہضام میں خرابی ہے اسے دور کیا جائے تو درد خود بخود دور ہو جاتا ہے۔درد کمر کا مطلب ہے کہ مخصوص حیاتین کی کمی آگئی ہے۔اسے دور کرنے کا طریقہ درد دور کرنے کی دوا نہیں بلکہ حیاتین کا ستعمال ہے۔تاہم جب درد نا قابل برداشت ہو جیسے پیٹ کا درد قولنج کا درد تو ڈاکٹر کے مشورے سے درد دور کرنے کی دوا لینی چاہیے اس کے بعد اصل مرض کا علاج کرنا چاہیے۔درد کش دوائیں مسلسل استعمال کی جائیں تو طبیعت میں افسردگی آ جاتی ہے۔اس کے علاوہ اعضا شکنی کی عادت پڑ جاتی ہے۔انکی لت پڑ جائے تو نشہ توٹنے پر دوبارہ طلب پیدا ہوتی ہے۔ہاتھ پاؤن توٹنے لگتے ہیں ۔بیزاری اور بے دلی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔مزید خون میں تیزابیت کی وجہ سے نئے نئے عوارض پیدا ہوتے ہیں۔
    درد کش ادویہ کے نقصانات
    ان کے استعمال کے بڑے نقصانات یہ ہیں کہ ایک تو انکی لت پڑ جاتی ہے دوسرے مقدار بڑہتی رہتی ہے۔قبض کی شکائیت لاحق ہو جاتی ہے۔قبض کو امل امراض کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس سے پورے جسم کا نظام بدل جاتا ہے۔بے چینی بے آرامی اور انتشار سے فراغت نہیں ملتی۔کام میں جی نہیں لگتا۔درد کش ادویہ زہریلی ہوتی ہیں۔بدن میں زہر جمع ہوتا رہتا ہے اور آدمی کو ٹھکانے لگانے کے کام آتا ہے۔تیزابیت کی زیادتی کی کئی وجوہ ہیں۔
    ضرورت سے زیادہ جذباتی ہونا
    زود رنج ہونا
    فوراً بھڑک اٹھنا
    ذرا ذرا سی بات پر پریشان ہونا
    جذبہ ایک اچھی چیز ہے لیکن اسے بے لگام کر دیا جائے کنٹرول نہ کیا جائے تو نتیجہ اچھا نہیں نکلتا۔جو شخص ہر وقت مشتعل رہے،بدمزاجی کا ثبوت دے وہ گویا اپنے اعصابی نظام سے کھیلتا ہے،اور آگ میں دھکیلتا ہے۔اس طرح خلیے اور بافتیں بری طرح سے متاثر ہوتی ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے ۔صبر وسکون سے عاری لوگ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔ان حالات میں بے خوابی اور دوسری بیماریاں ہجوم کی صورت میں حملہ آور ہوتی ہیں اور جینا دو بھر ہو جاتا ہے۔
    بوریت بھی تخریب کار ہے۔اکتائے ہوئے رہنا زندگی کی لطافت کو کم کر دیتا ہے۔اکتاہٹ میں جسم سے شکر کی مقدار فوراً گھٹ جاتی ہے۔بے دلی اور تھکن پیدا ہوتی ہے۔ایسے میں لوگ سگریٹ نوشی کرتے ہیں جس کا اثر جگر پر پڑتا ہے۔اور عارضی طور پر خون میں شکر کی رسد بڑھ جاتی ہے لیکن اس سے نیند جاتی رہتی ہے۔
    سگریٹ کافی چائے اور دیگر منشیات نیند کی قاتل ہیں ان سے بچنا چاہیے۔ایسی نیند جو منشیات سے آئے انسانی اعضاء کو ناکارہ کر دیتی ہے۔


    [/QUOTE


    بے خوابی کے بنیادی اسباب کے حوالے سے شئیرینگ

    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کا بہت شکریہ



Similar Threads

  1. Replies: 8
    Last Post: 22nd April 2014, 10:18 PM
  2. Replies: 1
    Last Post: 15th June 2011, 10:22 AM
  3. Replies: 3
    Last Post: 16th October 2009, 05:18 AM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •