Webhosting in Pakistan
Results 1 to 6 of 6

Thread: اصلاحی معاشرہ

  1. #1
    Raja Ikram is offline Senior Member+
    Last Online
    24th September 2018 @ 09:32 AM
    Join Date
    11 Oct 2013
    Location
    Rawalpindi
    Gender
    Male
    Posts
    138
    Threads
    25
    Credits
    -1,116
    Thanked
    8

    Default اصلاحی معاشرہ

    Webhosting in Pakistan
    👒بچوں کا جنسی ابچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ کیسے رکھیں۔ ایک رہنما تحریر
    👒بچوں کا جنسی استحصال ہمارے معاشرے کے گھمبیر ترین مسائل میں سے ایک بنتا جارہا ہے۔اس کی شدت اور وسعت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے"ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا" سوچنے سے آپ کے ہاں خدانخواستہ یہ زیادہ بھیانک ہو سکتا ہے۔لہذا بطور ایک ذمہ دار انسان اپنی آنکھیں کھلی رکھیے۔بچوں کی اس معاملے میں تربیت گود سے شروع کیجیے۔اول تو بچے کو خواہ بچہ ہو یا بچی، ہر گود کی عادت مت ڈالیے۔چاہے بستر یا جھولے میں رہنے کی عادت ڈال دیں لیکن ہر آئے گئے کی گود میں مت ڈالیں۔بچے ذرا بڑے ہو جائیں تو سب سے پہلے انہیں مزاحمت کرنا سکھائیں۔اجنبی کی گود،بو سے یا چمٹانے کی مزاحمت، جاننے والوں کے پاس سونے یا خوامخواہ لپٹا لینے پہ مزاحمت۔اس پہ آپکو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔*
    ▫مثلا آپ کی ساس یاوالدہ،چاچو،ماموں کے حوالے سے فاصلہ رکھنے پہ خفا ہو سکتی ہیں۔اسے سلیقے سے ہینڈل کر لیں لیکن ہتھیار نہ ڈالیں۔ کوشش کریں کہ بچے کا ڈائپر خود بدلیں اور ڈائپر بدلنے یا لباس بدلنے کے عمل کو بچے کے لئے اہم بنائیں یعنی یہاں تو سب بیٹھے ہیں ہم دوسرے کمرے میں چلتے ہیں یا پھر بہن/بھائی کو ذرا کمرے سے باہر بھیج دوں پھر بدلوں گی وغیرہ-
    ▫ اس بنیادی تربیت سےاس میں حیا اور پرائیوسی کا تصور پروان چڑھے گا۔اگر کوئی دوسرا بچہ یا بڑا اس کے سامنے لباس یا ڈائپر کی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے تو بچے کو وہاں سے ہٹنے کا کہہ دیں تاکہ اسے معلوم رہے کہ دیکھنا بھی برا عمل ہے۔
    جب بچہ سکول جانے کی عمر میں آ جائے تو مندرجہ ذیل عوامل پہ توجہ مرکوز کریں۔
    ▪ بچے کو ٹوائلٹ کی ٹریننگ دیں، خود بیٹھنا اور دھونا سکھائیں-
    اگریہ نہیں ہو سکا تو بچےکوسختی سے تنبیہ کریں کہ سکول میں کسی male مرد ملازم کے ساتھ ٹوائلٹ نہ جائے ،نہ دھونے کی اجازت دے
    ▪ سکول میں ایک سے زیادہ بار پرنسپل کو یا ٹیچر کویہ بات کہہ دیں کہ بچوں کو مرد ملازم کے ساتھ ٹوائلٹ نہ بھیجا جائے
    ▪ بچوں کو خود سکول لائیں اور لے جائیں اگر ممکن نہ ہو تو exclusive ٹرانسپورٹ کی بجائے زیادہ بچوں والی وین یا گاڑی میں بھیجیں ۔وین کے ڈرائیور سے خود ملیں اور کچھ دوسرے افراد سے بھی رائے لیں۔اس معاملے میں کسی معمولی سی مشکوک حرکت یا رائے کو بھی غیر اہم نہ سمجھیں۔
    ▪ بچے سے وقتا فوقتا پوچھتے رہیں کہ ڈرائیور سب کو اکٹھے اتارتاہے یا کسی کو زیادہ وقت بٹھا کر بھی رکھتا ہے یا واپسی پہ اتارنے کا کہہ کر ساتھ بٹھا لیتا ہے
    سکول کے چوکیدار سے کہیں کہ وہ بچوں کو اتارتے ،سوار کرتے وقت وین کے آس پاس موجود رہے
    ٹیوشن یا کوچنگ کے وقت گھر کا کوئی فرد موجود رہے۔
    👒 *یاد رکھیں عموما بچے ہی بچوں کا استحصال کرتے ہیں۔یعنی ایک دو یا چند برس بڑے بچے چھوٹے بچوں کو کھیل کھیل میں ایسی حرکات سے آگاہ کرتے ہیں جو آگے چل کر کسی مسئلے یا المیے کا باعث بن سکتی ہیں۔نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی خود سے چھوٹے بچوں کا استحصال کرتی ہیں
    👥*لہذااگر بچہ کسی رشتہ دار یاپڑوسی، پڑوسن کے پاس بار بار جائے یا جانے کی ضد کرے تو فورا نوٹس لیں۔*
    ▪ اگر بچہ کسی خاص فرد سے گھبرائے یا خوفزدہ ہو تو نظر انداز مت کریں۔
    ▫ بچوں کو کسی کے پاس اکیلا مت چھوڑیں۔
    🚈*بچے سکول یا وین بدلنے کی بات کریں تو اسے سنجیدگی سے لیں۔*
    ▪ بچہ کسی دن بھی گبھرایا ہوا یا غیر معمولی ایکسائیٹڈ ہو تو نوٹس لیں اور وجہ جانیں۔
    ▫ بچے کو پرائیویٹ باڈی پارٹس کا تصور واضح طور پر سمجھائیں۔
    ▪ بچے کو سکھائیں کہ کسی سے کچھ لے کر نہ کھائے۔
    ▫بچے کو واضح طور پر بات کرنا سکھائیں یعنی ایسی صورتحال میں جب وہ خدانخواستہ اجنبی جگہ پر ہوں اور کوئی انہیں چھونے یا اٹھانے کی کوشش کرےیا گھر کے اندر بھی تو وہ صرف رونے کی بجائے بچاؤ بچاؤ کی آواز لگائیں یا میں اسے نہیں جانتا یا یہ میرے انکل نہیں ہیں وغیرہ کہے۔تاکہ لوگ متوجہ ہوں۔
    ▪جاننے والے افراد کی طرف سے کسی غیر معمولی حرکت پہ بچہ انکل یہ کیا کر رہے ہیں میں امی کو بتاؤں گا وغیرہ کہنا سکھا ئیں۔
    ▫ بچوں سے روزانہ کی سرگرمیاں لازما ڈسکس کریں۔انہیں توجہ اور اعتماد دیں۔
    ▪ *بچوں کو safe circle کا تصور دیں اس سرکل میں سکول،گھر،نانی،دادی کے گھر کا تصور دلوائیں
    ▫ ماں باپ بہن بھائیوں اور ٹیچرز کے علاوہ کوئی بھی متعلقہ شخص جو کسی خاص جگہ ان کے ساتھ موجود ہو گا اسے اس دن کے لیے سیف سرکل کا حصہ بنائیں
    📈بچوں کو بتائیں کہ سیف سرکل کے افراد قابل اعتماد ہیں اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں فورا اپنے سیف سرکل کو انفارم کرنا ضروری ہے
    ▪ بچوں کو ہلکی پھلکی مارشل آرٹس یا کراٹے کی تربیت ضرور دلوائیں
    ▫ کسی انتہائی صورتحال میں انھیں دانتوں اور ناخنوں کا استعمال کرنے کے بارے میں آگاہی دیں
    ▪اگر بچہ کسی کم ملنے والے رشتہ دار مثلا بیرون ملک سے آنے والے چچا یا ماموں کو اجنبی سمجھ کر شور مچائے تو بچے کا

  2. The Following User Says Thank You to Raja Ikram For This Useful Post:

    stranger420 (13th January 2018)

  3. #2
    Join Date
    18 Aug 2011
    Age
    32
    Gender
    Male
    Posts
    363
    Threads
    28
    Credits
    1,387
    Thanked
    18

    Default

    Quote ikram877 said: View Post
    بچوں کا جنسی ابچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ کیسے رکھیں۔ ایک رہنما تحریر
    بچوں کا جنسی استحصال ہمارے معاشرے کے گھمبیر ترین مسائل میں سے ایک بنتا جارہا ہے۔اس کی شدت اور وسعت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے"ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا" سوچنے سے آپ کے ہاں خدانخواستہ یہ زیادہ بھیانک ہو سکتا ہے۔لہذا بطور ایک ذمہ دار انسان اپنی آنکھیں کھلی رکھیے۔بچوں کی اس معاملے میں تربیت گود سے شروع کیجیے۔اول تو بچے کو خواہ بچہ ہو یا بچی، ہر گود کی عادت مت ڈالیے۔چاہے بستر یا جھولے میں رہنے کی عادت ڈال دیں لیکن ہر آئے گئے کی گود میں مت ڈالیں۔بچے ذرا بڑے ہو جائیں تو سب سے پہلے انہیں مزاحمت کرنا سکھائیں۔اجنبی کی گود،بو سے یا چمٹانے کی مزاحمت، جاننے والوں کے پاس سونے یا خوامخواہ لپٹا لینے پہ مزاحمت۔اس پہ آپکو سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔*
    مثلا آپ کی ساس یاوالدہ،چاچو،ماموں کے حوالے سے فاصلہ رکھنے پہ خفا ہو سکتی ہیں۔اسے سلیقے سے ہینڈل کر لیں لیکن ہتھیار نہ ڈالیں۔ کوشش کریں کہ بچے کا ڈائپر خود بدلیں اور ڈائپر بدلنے یا لباس بدلنے کے عمل کو بچے کے لئے اہم بنائیں یعنی یہاں تو سب بیٹھے ہیں ہم دوسرے کمرے میں چلتے ہیں یا پھر بہن/بھائی کو ذرا کمرے سے باہر بھیج دوں پھر بدلوں گی وغیرہ-
    اس بنیادی تربیت سےاس میں حیا اور پرائیوسی کا تصور پروان چڑھے گا۔اگر کوئی دوسرا بچہ یا بڑا اس کے سامنے لباس یا ڈائپر کی تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے تو بچے کو وہاں سے ہٹنے کا کہہ دیں تاکہ اسے معلوم رہے کہ دیکھنا بھی برا عمل ہے۔
    جب بچہ سکول جانے کی عمر میں آ جائے تو مندرجہ ذیل عوامل پہ توجہ مرکوز کریں۔
    بچے کو ٹوائلٹ کی ٹریننگ دیں، خود بیٹھنا اور دھونا سکھائیں-
    اگریہ نہیں ہو سکا تو بچےکوسختی سے تنبیہ کریں کہ سکول میں کسی male مرد ملازم کے ساتھ ٹوائلٹ نہ جائے ،نہ دھونے کی اجازت دے
    سکول میں ایک سے زیادہ بار پرنسپل کو یا ٹیچر کویہ بات کہہ دیں کہ بچوں کو مرد ملازم کے ساتھ ٹوائلٹ نہ بھیجا جائے
    بچوں کو خود سکول لائیں اور لے جائیں اگر ممکن نہ ہو تو exclusive ٹرانسپورٹ کی بجائے زیادہ بچوں والی وین یا گاڑی میں بھیجیں ۔وین کے ڈرائیور سے خود ملیں اور کچھ دوسرے افراد سے بھی رائے لیں۔اس معاملے میں کسی معمولی سی مشکوک حرکت یا رائے کو بھی غیر اہم نہ سمجھیں۔
    بچے سے وقتا فوقتا پوچھتے رہیں کہ ڈرائیور سب کو اکٹھے اتارتاہے یا کسی کو زیادہ وقت بٹھا کر بھی رکھتا ہے یا واپسی پہ اتارنے کا کہہ کر ساتھ بٹھا لیتا ہے
    سکول کے چوکیدار سے کہیں کہ وہ بچوں کو اتارتے ،سوار کرتے وقت وین کے آس پاس موجود رہے
    ٹیوشن یا کوچنگ کے وقت گھر کا کوئی فرد موجود رہے۔
    *یاد رکھیں عموما بچے ہی بچوں کا استحصال کرتے ہیں۔یعنی ایک دو یا چند برس بڑے بچے چھوٹے بچوں کو کھیل کھیل میں ایسی حرکات سے آگاہ کرتے ہیں جو آگے چل کر کسی مسئلے یا المیے کا باعث بن سکتی ہیں۔نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیاں بھی خود سے چھوٹے بچوں کا استحصال کرتی ہیں
    *لہذااگر بچہ کسی رشتہ دار یاپڑوسی، پڑوسن کے پاس بار بار جائے یا جانے کی ضد کرے تو فورا نوٹس لیں۔*
    اگر بچہ کسی خاص فرد سے گھبرائے یا خوفزدہ ہو تو نظر انداز مت کریں۔
    بچوں کو کسی کے پاس اکیلا مت چھوڑیں۔
    *بچے سکول یا وین بدلنے کی بات کریں تو اسے سنجیدگی سے لیں۔*
    بچہ کسی دن بھی گبھرایا ہوا یا غیر معمولی ایکسائیٹڈ ہو تو نوٹس لیں اور وجہ جانیں۔
    بچے کو پرائیویٹ باڈی پارٹس کا تصور واضح طور پر سمجھائیں۔
    بچے کو سکھائیں کہ کسی سے کچھ لے کر نہ کھائے۔
    بچے کو واضح طور پر بات کرنا سکھائیں یعنی ایسی صورتحال میں جب وہ خدانخواستہ اجنبی جگہ پر ہوں اور کوئی انہیں چھونے یا اٹھانے کی کوشش کرےیا گھر کے اندر بھی تو وہ صرف رونے کی بجائے بچاؤ بچاؤ کی آواز لگائیں یا میں اسے نہیں جانتا یا یہ میرے انکل نہیں ہیں وغیرہ کہے۔تاکہ لوگ متوجہ ہوں۔
    جاننے والے افراد کی طرف سے کسی غیر معمولی حرکت پہ بچہ انکل یہ کیا کر رہے ہیں میں امی کو بتاؤں گا وغیرہ کہنا سکھا ئیں۔
    بچوں سے روزانہ کی سرگرمیاں لازما ڈسکس کریں۔انہیں توجہ اور اعتماد دیں۔
    *بچوں کو safe circle کا تصور دیں اس سرکل میں سکول،گھر،نانی،دادی کے گھر کا تصور دلوائیں
    ماں باپ بہن بھائیوں اور ٹیچرز کے علاوہ کوئی بھی متعلقہ شخص جو کسی خاص جگہ ان کے ساتھ موجود ہو گا اسے اس دن کے لیے سیف سرکل کا حصہ بنائیں
    بچوں کو بتائیں کہ سیف سرکل کے افراد قابل اعتماد ہیں اور کسی بھی مسئلے کی صورت میں فورا اپنے سیف سرکل کو انفارم کرنا ضروری ہے
    بچوں کو ہلکی پھلکی مارشل آرٹس یا کراٹے کی تربیت ضرور دلوائیں
    کسی انتہائی صورتحال میں انھیں دانتوں اور ناخنوں کا استعمال کرنے کے بارے میں آگاہی دیں
    اگر بچہ کسی کم ملنے والے رشتہ دار مثلا بیرون ملک سے آنے والے چچا یا ماموں کو اجنبی سمجھ کر شور مچائے تو بچے کا
    بہت خوبصورت انداز میں سمجھایا ہے آپ نے.
    بدقسمتی سے ایسی باتیں ہمارے ہاں انگریزی محاورے کے مطابق "بہرے کانوں" پر پڑتی ہیں.

    بارہ سالوں تک تو ہم "کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا " کہہ کے "اجتمائی خودکشیاں" کرتے رہے.

    Sent from my QMobile i6i using Tapatalk

  4. #3
    Raja Ikram is offline Senior Member+
    Last Online
    24th September 2018 @ 09:32 AM
    Join Date
    11 Oct 2013
    Location
    Rawalpindi
    Gender
    Male
    Posts
    138
    Threads
    25
    Credits
    -1,116
    Thanked
    8

    Default

    Quote stranger420 said: View Post
    بہت خوبصورت انداز میں سمجھایا ہے آپ نے.
    بدقسمتی سے ایسی باتیں ہمارے ہاں انگریزی محاورے کے مطابق "بہرے کانوں" پر پڑتی ہیں.

    بارہ سالوں تک تو ہم "کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا " کہہ کے "اجتمائی خودکشیاں" کرتے رہے.

    Sent from my QMobile i6i using Tapatalk
    sorry bhai jaan .tapatalk mene b install kiya hua hai.mgr uski smj nhi lg rhi kesy send krna hai aap kuch guedneas dy den

  5. #4
    Join Date
    18 Aug 2011
    Age
    32
    Gender
    Male
    Posts
    363
    Threads
    28
    Credits
    1,387
    Thanked
    18

    Default

    Quote ikram877 said: View Post
    sorry bhai jaan .tapatalk mene b install kiya hua hai.mgr uski smj nhi lg rhi kesy send krna hai aap kuch guedneas dy den
    سینڈ کرنے سے کیا مراد ہے آپ کی.
    اگر بات فائل اپ لوڈ کرنے کی ہے تو تھریڈ میں ریپلائی کے بٹن پر کلک کریں.
    اب یہاں پلس فائل کے بڑے سے بٹن پر کلک کریں.
    یہاں تین آپشن ہیں
    کیمرہ سے آپ اسی وقت تصویر کھینچ کے اپ لوڈ کر سکتے ہو.
    گیلری سے موبائل میں پہلے سے موجود تصویر شامل کی جا سکتی ہے
    اٹیچمنٹ سے تصویر کے علاوہ کوئی اور فائل شامل کی جا سکتی ہے

    Sent from my QMobile i6i using Tapatalk

  6. The Following User Says Thank You to stranger420 For This Useful Post:

    Raja Ikram (16th January 2018)

  7. #5
    Raja Ikram is offline Senior Member+
    Last Online
    24th September 2018 @ 09:32 AM
    Join Date
    11 Oct 2013
    Location
    Rawalpindi
    Gender
    Male
    Posts
    138
    Threads
    25
    Credits
    -1,116
    Thanked
    8

    Default

    Quote stranger420 said: View Post
    سینڈ کرنے سے کیا مراد ہے آپ کی.
    اگر بات فائل اپ لوڈ کرنے کی ہے تو تھریڈ میں ریپلائی کے بٹن پر کلک کریں.
    اب یہاں پلس فائل کے بڑے سے بٹن پر کلک کریں.
    یہاں تین آپشن ہیں
    کیمرہ سے آپ اسی وقت تصویر کھینچ کے اپ لوڈ کر سکتے ہو.
    گیلری سے موبائل میں پہلے سے موجود تصویر شامل کی جا سکتی ہے
    اٹیچمنٹ سے تصویر کے علاوہ کوئی اور فائل شامل کی جا سکتی ہے

    Sent from my QMobile i6i using Tapatalk
    Thanksssss

  8. #6
    thepkguy is offline Member
    Last Online
    13th February 2018 @ 06:57 AM
    Join Date
    10 Feb 2018
    Age
    17
    Gender
    Male
    Posts
    53
    Threads
    0
    Credits
    239
    Thanked
    0

    Default

    Webhosting in Pakistan
    nice post

Similar Threads

  1. Replies: 124
    Last Post: 8th May 2018, 08:14 PM
  2. Replies: 17
    Last Post: 11th April 2018, 01:25 PM
  3. Replies: 8
    Last Post: 9th November 2014, 06:03 PM
  4. Replies: 1
    Last Post: 25th August 2011, 01:12 AM
  5. Replies: 0
    Last Post: 26th July 2011, 07:50 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •