Webhosting in Pakistan
Results 1 to 11 of 11

Thread: گردوں کے امراض کو کم کرنے میں مددگار پھل

  1. #1
    Najmeirfan's Avatar
    Najmeirfan is offline Senior Member+
    Last Online
    23rd October 2018 @ 10:33 PM
    Join Date
    20 Apr 2016
    Age
    25
    Gender
    Male
    Posts
    146
    Threads
    32
    Credits
    1,202
    Thanked
    10

    Default گردوں کے امراض کو کم کرنے میں مددگار پھل

    Webhosting in Pakistan
    کڈنی اگرچہ انسانی جسم کا انتہائی چھوٹا عضو ہے، مگر اسے انسانی صحت، نشو و نما، بہتر اور زیادہ زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

    گردے نہ صرف انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے، بلکہ یہ کھائی جانے والی غذا کو ہارمون میں تبدیل کرکے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، پیشاب کی روانی کو بہتر کرنے اور انسانی جسم کو بڑھانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔

    جس طرح زیادہ پانی پینا کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، اسی طرح کئی ایسے پھل بھی ہیں جو کڈنی کے امراض کو کم کرنے یا پھر انہیں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے انسان کو یومیہ 2 ہزار ملی گرام سے کم سوڈیم، 2 ہزار ملی گرام سے کم پوٹاشیم اور ایک ہزار ملی گرام سے کم فاسفورس استعمال کرنی چاہیے، لیکن بعض غذاؤں میں ان کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس وجہ سے انسان گردوں کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: گردوں کی پتھری اور اس کی علامات

    اسی طرح کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے پروٹین کی بھی کم سے کم مقدار استعمال کرنا لازمی ہوتی ہے۔

    کڈنی کی بہتری کے لیے یومیہ 15 گرام پروٹین کا استعمال بہتر ہوتا ہے۔

    مارکیٹ میں آسانی سے ملنے والے درج ذیل پھل کھانے والے افراد کڈنی کے مسائل سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    ان پھلوں کے استعمال سے مندرجہ بالا ضروریات بھی پوری ہوجاتی ہیں، اور یہ کڈنی کو غذا فلٹر کرنے اور غذا کو ہارمون میں تبدیل کرنے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔

    بلیو بیریز
    نیوٹریشن اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور بلیو بیریز نہ صرف کڈنی بلکہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے لیے بھی مفید ہیں۔

    سرخ انگور
    وٹامن سی اور دیگرنیوٹریشن سے بھرپور سرخ انگور بھی کڈنی سمیت ذیابیطس اور دل کے امراض کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

    مولی
    مولی کا شمار بھی ایسی غذا میں ہوتا ہے، جس میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی مقدار کم اور وٹامن سی زیادہ ہوتا ہے، جس وجہ سے یہ نظام ہاضمہ سمیت کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

    پائن ایپل
    فائبر اور وٹامن بی سے بھرپور پائن ایپل نہ صرف کڈنی بلکہ بلڈ پریشر کے لیے بھی مفید ہیں۔

    مشروم
    وٹامن بی اور قدرتی پروٹین سے بھرپور مشرومز بھی کڈنی کے امراض کو پیدا ہونے سے روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

  2. The Following User Says Thank You to Najmeirfan For This Useful Post:

    Baazigar (2nd June 2018)

  3. #2
    mhashmat1967 is offline Advance Member
    Last Online
    13th May 2019 @ 01:12 PM
    Join Date
    27 Jul 2009
    Age
    52
    Posts
    1,804
    Threads
    23
    Credits
    1,868
    Thanked
    68

    Default

    Jazakallah

  4. #3
    msbf is offline Senior Member+
    Last Online
    17th May 2019 @ 09:38 PM
    Join Date
    25 Feb 2015
    Gender
    Male
    Posts
    485
    Threads
    20
    Credits
    2,555
    Thanked
    21

    Default

    جزاک اللہ خیرا

  5. #4
    minhasokz2 is offline Junior Member
    Last Online
    3rd June 2019 @ 01:18 PM
    Join Date
    18 Oct 2017
    Location
    Kohat
    Age
    23
    Gender
    Male
    Posts
    10
    Threads
    0
    Credits
    87
    Thanked
    0

    Default

    Very Nice Info

    - - - Updated - - -



    - - - Updated - - -



    - - - Updated - - -


  6. #5
    Join Date
    09 Apr 2009
    Location
    کر&
    Gender
    Male
    Posts
    14,836
    Threads
    236
    Credits
    16,520
    Thanked
    1609

    Default

    شکریہ جناب
    مو لی
    پرہی گزارا کر لیتے ہیں

  7. #6
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    16,454
    Threads
    281
    Credits
    75,311
    Thanked
    890

    Default

    Quote Najmeirfan said: View Post
    کڈنی اگرچہ انسانی جسم کا انتہائی چھوٹا عضو ہے، مگر اسے انسانی صحت، نشو و نما، بہتر اور زیادہ زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

    گردے نہ صرف انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے، بلکہ یہ کھائی جانے والی غذا کو ہارمون میں تبدیل کرکے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، پیشاب کی روانی کو بہتر کرنے اور انسانی جسم کو بڑھانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔

    جس طرح زیادہ پانی پینا کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، اسی طرح کئی ایسے پھل بھی ہیں جو کڈنی کے امراض کو کم کرنے یا پھر انہیں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے انسان کو یومیہ 2 ہزار ملی گرام سے کم سوڈیم، 2 ہزار ملی گرام سے کم پوٹاشیم اور ایک ہزار ملی گرام سے کم فاسفورس استعمال کرنی چاہیے، لیکن بعض غذاؤں میں ان کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس وجہ سے انسان گردوں کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: گردوں کی پتھری اور اس کی علامات

    اسی طرح کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے پروٹین کی بھی کم سے کم مقدار استعمال کرنا لازمی ہوتی ہے۔

    کڈنی کی بہتری کے لیے یومیہ 15 گرام پروٹین کا استعمال بہتر ہوتا ہے۔

    مارکیٹ میں آسانی سے ملنے والے درج ذیل پھل کھانے والے افراد کڈنی کے مسائل سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    ان پھلوں کے استعمال سے مندرجہ بالا ضروریات بھی پوری ہوجاتی ہیں، اور یہ کڈنی کو غذا فلٹر کرنے اور غذا کو ہارمون میں تبدیل کرنے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔

    بلیو بیریز
    نیوٹریشن اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور بلیو بیریز نہ صرف کڈنی بلکہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے لیے بھی مفید ہیں۔

    سرخ انگور
    وٹامن سی اور دیگرنیوٹریشن سے بھرپور سرخ انگور بھی کڈنی سمیت ذیابیطس اور دل کے امراض کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

    مولی
    مولی کا شمار بھی ایسی غذا میں ہوتا ہے، جس میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی مقدار کم اور وٹامن سی زیادہ ہوتا ہے، جس وجہ سے یہ نظام ہاضمہ سمیت کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

    پائن ایپل
    فائبر اور وٹامن بی سے بھرپور پائن ایپل نہ صرف کڈنی بلکہ بلڈ پریشر کے لیے بھی مفید ہیں۔

    مشروم
    وٹامن بی اور قدرتی پروٹین سے بھرپور مشرومز بھی کڈنی کے امراض کو پیدا ہونے سے روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
    جزاک اللہ خیر

  8. #7
    danialiftikhar is offline Member
    Last Online
    20th October 2018 @ 10:58 AM
    Join Date
    03 Sep 2018
    Gender
    Male
    Posts
    52
    Threads
    1
    Thanked
    2

    Default

    جزاک اللہ

  9. #8
    sabinkarim's Avatar
    sabinkarim is offline Advance Member
    Last Online
    28th March 2019 @ 10:17 AM
    Join Date
    23 Feb 2009
    Location
    Multan
    Age
    55
    Gender
    Male
    Posts
    1,829
    Threads
    29
    Credits
    1,168
    Thanked
    88

    Default

    Thanks

  10. #9
    Seekhoml is offline Member
    Last Online
    27th April 2019 @ 09:21 PM
    Join Date
    03 Jul 2018
    Age
    23
    Gender
    Male
    Posts
    56
    Threads
    7
    Thanked: 1

    Default

    Bohot achi sharing he

  11. #10
    leezuka389's Avatar
    leezuka389 is offline Advance Member
    Last Online
    16th June 2019 @ 02:40 PM
    Join Date
    04 Nov 2015
    Gender
    Male
    Posts
    3,770
    Threads
    31
    Credits
    18,053
    Thanked
    217

    Default

    [QUOTE=Najmeirfan;5890547]کڈنی اگرچہ انسانی جسم کا انتہائی چھوٹا عضو ہے، مگر اسے انسانی صحت، نشو و نما، بہتر اور زیادہ زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

    گردے نہ صرف انسانی زندگی کے لیے لازمی ہے، بلکہ یہ کھائی جانے والی غذا کو ہارمون میں تبدیل کرکے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے، پیشاب کی روانی کو بہتر کرنے اور انسانی جسم کو بڑھانے میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔

    جس طرح زیادہ پانی پینا کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے، اسی طرح کئی ایسے پھل بھی ہیں جو کڈنی کے امراض کو کم کرنے یا پھر انہیں پیدا ہونے سے روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے انسان کو یومیہ 2 ہزار ملی گرام سے کم سوڈیم، 2 ہزار ملی گرام سے کم پوٹاشیم اور ایک ہزار ملی گرام سے کم فاسفورس استعمال کرنی چاہیے، لیکن بعض غذاؤں میں ان کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جس وجہ سے انسان گردوں کے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

    یہ بھی پڑھیں: گردوں کی پتھری اور اس کی علامات

    اسی طرح کڈنی کے امراض سے بچنے کے لیے پروٹین کی بھی کم سے کم مقدار استعمال کرنا لازمی ہوتی ہے۔

    کڈنی کی بہتری کے لیے یومیہ 15 گرام پروٹین کا استعمال بہتر ہوتا ہے۔

    مارکیٹ میں آسانی سے ملنے والے درج ذیل پھل کھانے والے افراد کڈنی کے مسائل سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    ان پھلوں کے استعمال سے مندرجہ بالا ضروریات بھی پوری ہوجاتی ہیں، اور یہ کڈنی کو غذا فلٹر کرنے اور غذا کو ہارمون میں تبدیل کرنے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔

    بلیو بیریز
    نیوٹریشن اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھرپور بلیو بیریز نہ صرف کڈنی بلکہ ذیابیطس، بلڈ پریشر اور دل کے امراض کے لیے بھی مفید ہیں۔

    سرخ انگور
    وٹامن سی اور دیگرنیوٹریشن سے بھرپور سرخ انگور بھی کڈنی سمیت ذیابیطس اور دل کے امراض کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔

    مولی
    مولی کا شمار بھی ایسی غذا میں ہوتا ہے، جس میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی مقدار کم اور وٹامن سی زیادہ ہوتا ہے، جس وجہ سے یہ نظام ہاضمہ سمیت کڈنی کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے۔

    پائن ایپل
    فائبر اور وٹامن بی سے بھرپور پائن ایپل نہ صرف کڈنی بلکہ بلڈ پریشر کے لیے بھی مفید ہیں۔

    مشروم
    وٹامن بی اور قدرتی پروٹین سے بھرپور مشرومز بھی کڈنی کے امراض کو پیدا ہونے سے روکنے میں مددگار ہوتے ہیں۔[/QUOTE



    ہمارے ساتھ شئیر کرنے کا بہت شکریہ

  12. #11
    Komal90 is offline Junior Member
    Last Online
    13th March 2019 @ 03:35 PM
    Join Date
    11 Feb 2019
    Age
    19
    Gender
    Female
    Posts
    24
    Threads
    1
    Credits
    86
    Thanked
    0

    Default

    Webhosting in Pakistan
    thank you

Similar Threads

  1. Replies: 6
    Last Post: 5th June 2018, 01:42 PM
  2. Replies: 28
    Last Post: 2nd July 2013, 01:48 PM
  3. Replies: 6
    Last Post: 20th February 2011, 11:23 AM
  4. Replies: 2
    Last Post: 4th August 2010, 02:56 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •