Webhosting in Pakistan
Results 1 to 5 of 5

Thread: سنگدل راجا

  1. #1
    Sadafraan's Avatar
    Sadafraan is offline Advance Member
    Last Online
    24th July 2019 @ 06:37 PM
    Join Date
    18 Aug 2013
    Location
    AHMAD PUR SIAL
    Gender
    Male
    Posts
    1,365
    Threads
    120
    Credits
    2,937
    Thanked
    128

    Default سنگدل راجا

    Webhosting in Pakistan
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سلطنت پر کسی سنگدل اور نہایت ظالم راجا حکومت کیا کرتا تھا۔ اس نے بہت ساری ہمسایہ ریاستیں بھی فتح کر رکھی تھیں۔ بہت سی فتوحات کے بعد وہ خود کو خدا کہنے لگا تھا۔ رعایا اس سے بہت پریشاں تھی۔ وہ غریب عوام سے زبردستی ٹیکس وصول کرتا۔ لوگوں کو بے گناہ قتل کروا دیتا۔ اس نے غرور میں آ کر ایک جنت اور جہنم بنانے کا حکم دیا۔ اس کے حکم کی تعمیل کیلیے اسی وقت کام شروع کر دیا گیا۔ راجا نے اعلان کروا دیاکہ وہ اچھے لوگوں کو مرنے کے بعد اس جنت میں ڈالے گا جبکہ بروں کو اپنی جہنم میں۔
    ایک دن وہ رات کے وقت خوب شراب پی کر نشے کی حالت میں سو رہا تھا۔ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ کسی جنگل میں اکیلا کہیں جا رہا ہے۔ اچانک اس کے سامنے شیر آتا ہے اور اس کی طرف لپکتا ہے۔ جان بچانے کی خاطر راجا کا جس جانب منہ اٹھتا ہے اسی جانب دوڑ پڑتا ہے۔ پیچھے سے شیر کے منہ سے انسانی آواز آتی ہے "میں تمہاری موت ہوں۔ مجھ سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے۔ تمہاری اتنی حیثیت نہیں کہ تم میرا مقابلہ کر سکو۔" دوڑتے دوڑتے اسے پتا نہیں چلتا کہ اس کے سامنے کوئی کنواں بھی ہے اور بے خیالی میں اس کنویں کے اندر گر پڑتا ہے۔ مگر گرتے وقت اس کے ہاتھ کسی سخت اور اور لکڑی کی مانند چیز کو چھوتے ہیں وہ اسے کس کر پکڑ لیتا ہے۔ جب ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ کسی بغیر چھت والے اور بغیر دروازے والے گول کمرے میں ہے اور ایک موٹی رسی تھامے ہوئے ہے۔ اوپر نگاہ دوڑاتا ہے تو وہی شیر منہ پھاڑے دکھائی دیتا ہے۔ خوف کے عالم میں نیچے دیکھتا ہے تو منہ پھاڑے ایک بہت بڑا سانپ دکھائی دیتا ہے۔ سانپ کے منہ سے آواز آتی ہے "بے وقوف انسان تو آخر کب تک موت سے بھاگے گا۔" آواز کچھ دیر کیلیے رکتی ہے اور پھر آتی ہے "اے انسان بتا تو اس رسی کو کب تک تھامے رکھے گا۔ آخر کب تک تو زندہ رہے۔ تجھے جس طاقت پر گھمنڈ تھا بتا وہ تیرے کس کام کی۔ زرہ اوپر دیکھ تجھے انجام تک پہنچانے کیلیے کیا کچھ مسلسل ہو رہا ہے"۔ خوف کے مارے راجا سر اٹھاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس سے کچھ اوپر ایک کالے اور ایک سفید رنگ کا چوہا موجود ہے۔ دونوں مسلسل رسی کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ راجا ""شی شی" کر کے انہیں بھگانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اچانگ کنویں کے اوپر موجود ایک درخت پر بنے شہد کی مکھیوں کے چھتے سے شہد کا ایک قطرہ اسکے رخسار پر گرتا ہے۔ کچھ دیر بعد ان قطرات کے گرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ موت کے منہ میں ہونے کے باوجود بھی وہ ان شہد کے مسلسل گرتے قطروں کو زبان کی مدد سے چاٹنے لگتا ہے۔ سانپ کی وہی آواز پھر سے جاری ہوتی ہے۔ "اے آدم زاد تیری موت تیرے چاروں طرف سے تجھے گھیرے ہوے ہے مگر تیری دولت نے تجھے اب بھی غفلت میں تجھے ڈال رکھا ہے"۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر سانپ کے منہ سے آواز جاری ہوئی۔ "یہ شہد دنیا کی رنگینیاں ہیں۔ انہوں ںے تجھے غافل کر دیا ہے اور یہ چوہے دن اور رات ہیں جو مسلسل تیری زندگی گھٹا رہے ہیں"۔ اس وقت راجہ بہت شرمندہ ہوا اچانگ اسے لگا کہ وہ گر رہا ہے۔ نظریں اٹھائیں تو دیکھا کہ چوہے اس جگہ سے رسی کاٹ چکے ہیں اور صرف نازک سی رسی کے سہارے اس وقت وہ لٹکا ہے۔ اچانک رسی ٹوٹی اور وہ تاریکیوں میں گرتا چلا گیا۔...۔
    جب اس کی نیند کھلی تو وہ پسینے سے شرابور بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کا دماغ مسلسل کچھ سوچ رہا تھا۔ اب وہ پہلے والا سنگدل حمکران نہ تھا بلکہ ایک رحمدل اور نیک بادشاہ بن چکا تھا۔ اس نے غریب عوام کے ساتھ اب بہترین سلوک کرنا شروع کر دیا تھا۔ لوگوں سے کم ٹیکس وصول کرتا۔ اپنی جنت اور جہنم کی تعمیر کا کام بند کر دیا۔ وہ ہمیشہ رو رو کر خدا سے اپنے گناہوں کہ معافی مانگتا۔ عوام کی خوشیاں لوٹ آئیں۔
    یہ اس واقع سے تیس سال کی بات ہے۔ اس وقت کی جب عوام اس راجہ سے محبت کرنے لگی تھی اور اس کے مظالم کو بھلا چکی تھی۔ راجہ سخت بیمار تھا اب وہ سمجھ چکا تھا کہ اسکی موت قریب ہے اس نے اپنے وزیر کو بلا کر وصیت کی کہ جب اس کا جنازہ جانے لگے تو اسکے ہاتھ کپڑے سے باہر اس طرح ہونے چاہییں کہ ہر کوئی اسکے ہاتھ دیکھ سکے۔
    راجہ کچھ دن کے بعد دنیا سے رخصت ہو گیا اس وقت اسکا جنازہ لے جایا جا رہا تھا۔ وصیت کے مطابق اسکے ہاتھ باہر کو لٹک رہے تھے۔ پورا شہر دیکھ رہا تھا کہ کسی زمانے کا عظیم حکمران آج خالی ہاتھ قبر میں جا رہا ہے۔
    اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن اس میں بہت سبق چھپا ہے۔
    Last edited by Sadafraan; 7th May 2018 at 02:37 PM.
    آپکے کمپیوٹر/موبائل کے متعلق

  2. #2
    Rashid Jaan's Avatar
    Rashid Jaan is offline Advance Member
    Last Online
    16th August 2019 @ 02:30 PM
    Join Date
    18 Oct 2016
    Location
    Ghotki Sindh
    Age
    21
    Gender
    Male
    Posts
    1,437
    Threads
    89
    Credits
    7,497
    Thanked
    79

    Default

    بیشک موت برحق

  3. #3
    Join Date
    21 Mar 2018
    Gender
    Male
    Posts
    59
    Threads
    2
    Thanked
    5

    Default

    سنگدل اور نہایت ظالم راج

  4. #4
    leezuka389's Avatar
    leezuka389 is offline ITD Winner
    Last Online
    16th August 2019 @ 04:17 AM
    Join Date
    04 Nov 2015
    Gender
    Male
    Posts
    3,998
    Threads
    32
    Credits
    19,291
    Thanked
    232

    Default

    [QUOTE=Sadafraan;5903692]
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سلطنت پر کسی سنگدل اور نہایت ظالم راجا حکومت کیا کرتا تھا۔ اس نے بہت ساری ہمسایہ ریاستیں بھی فتح کر رکھی تھیں۔ بہت سی فتوحات کے بعد وہ خود کو خدا کہنے لگا تھا۔ رعایا اس سے بہت پریشاں تھی۔ وہ غریب عوام سے زبردستی ٹیکس وصول کرتا۔ لوگوں کو بے گناہ قتل کروا دیتا۔ اس نے غرور میں آ کر ایک جنت اور جہنم بنانے کا حکم دیا۔ اس کے حکم کی تعمیل کیلیے اسی وقت کام شروع کر دیا گیا۔ راجا نے اعلان کروا دیاکہ وہ اچھے لوگوں کو مرنے کے بعد اس جنت میں ڈالے گا جبکہ بروں کو اپنی جہنم میں۔
    ایک دن وہ رات کے وقت خوب شراب پی کر نشے کی حالت میں سو رہا تھا۔ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ کسی جنگل میں اکیلا کہیں جا رہا ہے۔ اچانک اس کے سامنے شیر آتا ہے اور اس کی طرف لپکتا ہے۔ جان بچانے کی خاطر راجا کا جس جانب منہ اٹھتا ہے اسی جانب دوڑ پڑتا ہے۔ پیچھے سے شیر کے منہ سے انسانی آواز آتی ہے "میں تمہاری موت ہوں۔ مجھ سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے۔ تمہاری اتنی حیثیت نہیں کہ تم میرا مقابلہ کر سکو۔" دوڑتے دوڑتے اسے پتا نہیں چلتا کہ اس کے سامنے کوئی کنواں بھی ہے اور بے خیالی میں اس کنویں کے اندر گر پڑتا ہے۔ مگر گرتے وقت اس کے ہاتھ کسی سخت اور اور لکڑی کی مانند چیز کو چھوتے ہیں وہ اسے کس کر پکڑ لیتا ہے۔ جب ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ کسی بغیر چھت والے اور بغیر دروازے والے گول کمرے میں ہے اور ایک موٹی رسی تھامے ہوئے ہے۔ اوپر نگاہ دوڑاتا ہے تو وہی شیر منہ پھاڑے دکھائی دیتا ہے۔ خوف کے عالم میں نیچے دیکھتا ہے تو منہ پھاڑے ایک بہت بڑا سانپ دکھائی دیتا ہے۔ سانپ کے منہ سے آواز آتی ہے "بے وقوف انسان تو آخر کب تک موت سے بھاگے گا۔" آواز کچھ دیر کیلیے رکتی ہے اور پھر آتی ہے "اے انسان بتا تو اس رسی کو کب تک تھامے رکھے گا۔ آخر کب تک تو زندہ رہے۔ تجھے جس طاقت پر گھمنڈ تھا بتا وہ تیرے کس کام کی۔ زرہ اوپر دیکھ تجھے انجام تک پہنچانے کیلیے کیا کچھ مسلسل ہو رہا ہے"۔ خوف کے مارے راجا سر اٹھاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس سے کچھ اوپر ایک کالے اور ایک سفید رنگ کا چوہا موجود ہے۔ دونوں مسلسل رسی کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ راجا ""شی شی" کر کے انہیں بھگانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اچانگ کنویں کے اوپر موجود ایک درخت پر بنے شہد کی مکھیوں کے چھتے سے شہد کا ایک قطرہ اسکے رخسار پر گرتا ہے۔ کچھ دیر بعد ان قطرات کے گرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ موت کے منہ میں ہونے کے باوجود بھی وہ ان شہد کے مسلسل گرتے قطروں کو زبان کی مدد سے چاٹنے لگتا ہے۔ سانپ کی وہی آواز پھر سے جاری ہوتی ہے۔ "اے آدم زاد تیری موت تیرے چاروں طرف سے تجھے گھیرے ہوے ہے مگر تیری دولت نے تجھے اب بھی غفلت میں تجھے ڈال رکھا ہے"۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر سانپ کے منہ سے آواز جاری ہوئی۔ "یہ شہد دنیا کی رنگینیاں ہیں۔ انہوں ںے تجھے غافل کر دیا ہے اور یہ چوہے دن اور رات ہیں جو مسلسل تیری زندگی گھٹا رہے ہیں"۔ اس وقت راجہ بہت شرمندہ ہوا اچانگ اسے لگا کہ وہ گر رہا ہے۔ نظریں اٹھائیں تو دیکھا کہ چوہے اس جگہ سے رسی کاٹ چکے ہیں اور صرف نازک سی رسی کے سہارے اس وقت وہ لٹکا ہے۔ اچانک رسی ٹوٹی اور وہ تاریکیوں میں گرتا چلا گیا۔...۔
    جب اس کی نیند کھلی تو وہ پسینے سے شرابور بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کا دماغ مسلسل کچھ سوچ رہا تھا۔ اب وہ پہلے والا سنگدل حمکران نہ تھا بلکہ ایک رحمدل اور نیک بادشاہ بن چکا تھا۔ اس نے غریب عوام کے ساتھ اب بہترین سلوک کرنا شروع کر دیا تھا۔ لوگوں سے کم ٹیکس وصول کرتا۔ اپنی جنت اور جہنم کی تعمیر کا کام بند کر دیا۔ وہ ہمیشہ رو رو کر خدا سے اپنے گناہوں کہ معافی مانگتا۔ عوام کی خوشیاں لوٹ آئیں۔
    یہ اس واقع سے تیس سال کی بات ہے۔ اس وقت کی جب عوام اس راجہ سے محبت کرنے لگی تھی اور اس کے مظالم کو بھلا چکی تھی۔ راجہ سخت بیمار تھا اب وہ سمجھ چکا تھا کہ اسکی موت قریب ہے اس نے اپنے وزیر کو بلا کر وصیت کی کہ جب اس کا جنازہ جانے لگے تو اسکے ہاتھ کپڑے سے باہر اس طرح ہونے چاہییں کہ ہر کوئی اسکے ہاتھ دیکھ سکے۔
    راجہ کچھ دن کے بعد دنیا سے رخصت ہو گیا اس وقت اسکا جنازہ لے جایا جا رہا تھا۔ وصیت کے مطابق اسکے ہاتھ باہر کو لٹک رہے تھے۔ پورا شہر دیکھ رہا تھا کہ کسی زمانے کا عظیم حکمران آج خالی ہاتھ قبر میں جا رہا ہے۔
    اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن اس میں بہت سبق چھپا ہے۔
    [/QUOTE

    ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺒﻖ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﮯ۔

  5. #5
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    16,801
    Threads
    282
    Credits
    76,644
    Thanked
    913

    Default

    Webhosting in Pakistan
    Quote Sadafraan said: View Post
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سلطنت پر کسی سنگدل اور نہایت ظالم راجا حکومت کیا کرتا تھا۔ اس نے بہت ساری ہمسایہ ریاستیں بھی فتح کر رکھی تھیں۔ بہت سی فتوحات کے بعد وہ خود کو خدا کہنے لگا تھا۔ رعایا اس سے بہت پریشاں تھی۔ وہ غریب عوام سے زبردستی ٹیکس وصول کرتا۔ لوگوں کو بے گناہ قتل کروا دیتا۔ اس نے غرور میں آ کر ایک جنت اور جہنم بنانے کا حکم دیا۔ اس کے حکم کی تعمیل کیلیے اسی وقت کام شروع کر دیا گیا۔ راجا نے اعلان کروا دیاکہ وہ اچھے لوگوں کو مرنے کے بعد اس جنت میں ڈالے گا جبکہ بروں کو اپنی جہنم میں۔
    ایک دن وہ رات کے وقت خوب شراب پی کر نشے کی حالت میں سو رہا تھا۔ خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ کسی جنگل میں اکیلا کہیں جا رہا ہے۔ اچانک اس کے سامنے شیر آتا ہے اور اس کی طرف لپکتا ہے۔ جان بچانے کی خاطر راجا کا جس جانب منہ اٹھتا ہے اسی جانب دوڑ پڑتا ہے۔ پیچھے سے شیر کے منہ سے انسانی آواز آتی ہے "میں تمہاری موت ہوں۔ مجھ سے بھاگ کر کہاں جاؤ گے۔ تمہاری اتنی حیثیت نہیں کہ تم میرا مقابلہ کر سکو۔" دوڑتے دوڑتے اسے پتا نہیں چلتا کہ اس کے سامنے کوئی کنواں بھی ہے اور بے خیالی میں اس کنویں کے اندر گر پڑتا ہے۔ مگر گرتے وقت اس کے ہاتھ کسی سخت اور اور لکڑی کی مانند چیز کو چھوتے ہیں وہ اسے کس کر پکڑ لیتا ہے۔ جب ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ کسی بغیر چھت والے اور بغیر دروازے والے گول کمرے میں ہے اور ایک موٹی رسی تھامے ہوئے ہے۔ اوپر نگاہ دوڑاتا ہے تو وہی شیر منہ پھاڑے دکھائی دیتا ہے۔ خوف کے عالم میں نیچے دیکھتا ہے تو منہ پھاڑے ایک بہت بڑا سانپ دکھائی دیتا ہے۔ سانپ کے منہ سے آواز آتی ہے "بے وقوف انسان تو آخر کب تک موت سے بھاگے گا۔" آواز کچھ دیر کیلیے رکتی ہے اور پھر آتی ہے "اے انسان بتا تو اس رسی کو کب تک تھامے رکھے گا۔ آخر کب تک تو زندہ رہے۔ تجھے جس طاقت پر گھمنڈ تھا بتا وہ تیرے کس کام کی۔ زرہ اوپر دیکھ تجھے انجام تک پہنچانے کیلیے کیا کچھ مسلسل ہو رہا ہے"۔ خوف کے مارے راجا سر اٹھاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس سے کچھ اوپر ایک کالے اور ایک سفید رنگ کا چوہا موجود ہے۔ دونوں مسلسل رسی کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ راجا ""شی شی" کر کے انہیں بھگانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اچانگ کنویں کے اوپر موجود ایک درخت پر بنے شہد کی مکھیوں کے چھتے سے شہد کا ایک قطرہ اسکے رخسار پر گرتا ہے۔ کچھ دیر بعد ان قطرات کے گرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ موت کے منہ میں ہونے کے باوجود بھی وہ ان شہد کے مسلسل گرتے قطروں کو زبان کی مدد سے چاٹنے لگتا ہے۔ سانپ کی وہی آواز پھر سے جاری ہوتی ہے۔ "اے آدم زاد تیری موت تیرے چاروں طرف سے تجھے گھیرے ہوے ہے مگر تیری دولت نے تجھے اب بھی غفلت میں تجھے ڈال رکھا ہے"۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی اور پھر سانپ کے منہ سے آواز جاری ہوئی۔ "یہ شہد دنیا کی رنگینیاں ہیں۔ انہوں ںے تجھے غافل کر دیا ہے اور یہ چوہے دن اور رات ہیں جو مسلسل تیری زندگی گھٹا رہے ہیں"۔ اس وقت راجہ بہت شرمندہ ہوا اچانگ اسے لگا کہ وہ گر رہا ہے۔ نظریں اٹھائیں تو دیکھا کہ چوہے اس جگہ سے رسی کاٹ چکے ہیں اور صرف نازک سی رسی کے سہارے اس وقت وہ لٹکا ہے۔ اچانک رسی ٹوٹی اور وہ تاریکیوں میں گرتا چلا گیا۔...۔
    جب اس کی نیند کھلی تو وہ پسینے سے شرابور بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کا دماغ مسلسل کچھ سوچ رہا تھا۔ اب وہ پہلے والا سنگدل حمکران نہ تھا بلکہ ایک رحمدل اور نیک بادشاہ بن چکا تھا۔ اس نے غریب عوام کے ساتھ اب بہترین سلوک کرنا شروع کر دیا تھا۔ لوگوں سے کم ٹیکس وصول کرتا۔ اپنی جنت اور جہنم کی تعمیر کا کام بند کر دیا۔ وہ ہمیشہ رو رو کر خدا سے اپنے گناہوں کہ معافی مانگتا۔ عوام کی خوشیاں لوٹ آئیں۔
    یہ اس واقع سے تیس سال کی بات ہے۔ اس وقت کی جب عوام اس راجہ سے محبت کرنے لگی تھی اور اس کے مظالم کو بھلا چکی تھی۔ راجہ سخت بیمار تھا اب وہ سمجھ چکا تھا کہ اسکی موت قریب ہے اس نے اپنے وزیر کو بلا کر وصیت کی کہ جب اس کا جنازہ جانے لگے تو اسکے ہاتھ کپڑے سے باہر اس طرح ہونے چاہییں کہ ہر کوئی اسکے ہاتھ دیکھ سکے۔
    راجہ کچھ دن کے بعد دنیا سے رخصت ہو گیا اس وقت اسکا جنازہ لے جایا جا رہا تھا۔ وصیت کے مطابق اسکے ہاتھ باہر کو لٹک رہے تھے۔ پورا شہر دیکھ رہا تھا کہ کسی زمانے کا عظیم حکمران آج خالی ہاتھ قبر میں جا رہا ہے۔
    اگرچہ یہ ایک کہانی ہے لیکن اس میں بہت سبق چھپا ہے۔
    جزاك الله خير

Similar Threads

  1. Replies: 84
    Last Post: 16th May 2016, 08:17 AM
  2. Replies: 7
    Last Post: 4th May 2012, 03:30 PM
  3. Replies: 6
    Last Post: 24th April 2012, 03:59 PM
  4. جنگلات میں سفید بارہ سنگے کا سراغ
    By Aasi_786 in forum General Knowledge
    Replies: 6
    Last Post: 10th December 2009, 03:47 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •