Webhosting in Pakistan
Results 1 to 3 of 3

Thread: روزے کی نیت کا شرعی طریقہ

  1. #1
    maktabweb is offline Advance Member
    Last Online
    Yesterday @ 02:30 PM
    Join Date
    19 Sep 2015
    Location
    Karachi
    Age
    56
    Gender
    Male
    Posts
    1,739
    Threads
    810
    Credits
    17,303
    Thanked
    237

    Default روزے کی نیت کا شرعی طریقہ

    Webhosting in Pakistan
    السلام علیکم

    سوال: رمضان المبارک کے روزوں کے لئے سحری کے وقت جو نیت کی جاتی ہے: وَبِصَوْمِ غَدٍ نَوَیْتُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ، اس میں کل کے روزے کی نیت سے کیامراد ہے ؟، کیااس طرح نیت کرنا درست ہے ؟

    جواب: نیت دل کے ارادے کا نام ہے ،یہ قلب وذہن کا عمل ہے۔اس لئے عہدِرسالت مآب ﷺ سے لفظاً روزے کی نیت کے کلمات منقول نہیں ہیں اور ان نفوسِ قدسیہ کو اِس کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ وہ ہر وقت اور ہر عبادت میں حضوریِ قلب، توجہ الیٰ اللہ اور اخلاص وللّٰہیت کی کیفیت سے سرشار رہتے تھے۔ وہ جسم وروح ،قلب اورقالب کی یکسوئی ،جمعیتِ خاطر اورعزیمت کے ساتھ دورانِ عبادت بلکہ ہرحال میں ذاتِ باری تعالیٰ کی جانب متوجہ رہتے تھے ، اس لئے ان کو لفظاً نیت کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ متاخرین فقہاء کرام اور جمہور علمائے امّت نے جب یہ دیکھا کہ اب لوگوں میں حضوریِ قلب اور استحضارِ نیت کی وہ کیفیت باقی نہیں رہی تو اُنہوں نے لفظاً نیت کو مستحسن ومستحب قراردیا۔ علامہ نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:ترجمہ: اور نیت دل سے اِس بات کے جاننے کا نام ہے کہ وہ فلاں دن کا روزہ رکھ رہاہے ، خلاصۃ الفتاویٰ اور محیط السرخسی میں اسی طرح ہے اورسنّت یہ ہے کہ (زبان سے) الفاظ اداکئے جائیں ، جیساکہ النھرالفائق میں ہے ۔آگے چل کر مزید لکھتے ہیں: ترجمہ:اگر (روزے دار نے) کہا: میں نے کل کے روزے کی نیت کی ان شاء اللہ ،تو اُس کی نیت صحیح ہے اور یہی بات صحیح ہے ، جیساکہ ظہیریہ میں بھی ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد1،ص:195)۔

    روزے کی نیت کا وقت صبح صادق سے ضحوۂ کبریٰ (جسے لوگ عموماً زوال کا وقت کہتے ہیں)سے پہلے تک ہے۔ اصطلاح میں لفظ غدٍ بمعنی کل اِس لئے مستعمل ہے کہ عام طور پر صبح صادق سے پہلے روزے کی نیت کر لی جاتی ہے ۔ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:ترجمہ: (اور روزے کی نیت کرنا سنت ہے )یعنی یہ علماء و مشائخ کی سنّت ہے ،نبی کریم ﷺکی سنّت نہیں ہے کیونکہ( عہدِ رسالت مآب ﷺ میں) لفظاً(نیت کے کلمات) نہیں تھے ۔ مصنف کا قول زبان سے الفاظ اداکرے )پس(اگر رات میں نیت کرے تو) یہ کہے :میں نے نیت کی کہ اللہ عزّ وجل کے لئے کل کا روزہ رکھوں گا یا آج کے رمضان کے فرض روزے کی نیت کرتاہوں، اگر نیت دن میں کی ہے۔(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد3، ص:308)

    علامہ ابو بکر بن علی بن محمد الحداد یمنی متوفّٰی 800ھ لکھتے ہیں : ترجمہ: پس جب رات میں (روزے کی )نیت کرے تو کہے : میں نے نیت کی کہ اللہ تعالیٰ کے لئے کل رمضان کا فرض روزہ رکھوں گا ، اور اگر دِن میں نیت کرے تو کہے : میں نے نیت کی کہ اللہ تعالیٰ کے لئے آج رمضان کا فرض روزہ رکھتاہوں،(الجوہرۃالنیّرہ، ص:167)۔ الغرض اگر رات کو نیت کرنا چاہے تو یہ کہے کہ: میں کل کے روزے کی نیت کرتاہوں ۔اور اگر صبح صادق کے وقت یا اس کے بعد کررہاہے تو یہ کہے :نَوَیْتُ اَنْ أَصُوْمَ ھٰذَاالْیَوْمَ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ،ترجمہ:میں آج کے رمضان کے فرض روزے کی نیت کرتاہوں۔

  2. #2
    Join Date
    18 Oct 2016
    Location
    Ghotki Sindh
    Age
    21
    Gender
    Male
    Posts
    1,332
    Threads
    89
    Credits
    7,079
    Thanked
    73

    Default

    جزاک اللہ

  3. #3
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    16,679
    Threads
    281
    Credits
    76,171
    Thanked
    905

    Default

    Webhosting in Pakistan
    جزاك الله خير

Similar Threads

  1. Replies: 22
    Last Post: 2nd July 2018, 12:08 PM
  2. عشق مجازی سے رہائی کی کوئی صورت نہیں
    By abdul6616 in forum Islamic History aur Waqiat
    Replies: 4
    Last Post: 10th February 2016, 07:59 PM
  3. Replies: 1
    Last Post: 16th August 2012, 04:41 AM
  4. Replies: 0
    Last Post: 11th August 2011, 06:18 AM
  5. Replies: 7
    Last Post: 25th April 2010, 01:52 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •