Webhosting in Pakistan
Results 1 to 10 of 10

Thread: حضرت داتا علی ہجویری کے متعلق بہت اچھی معل

  1. #1
    Rana268's Avatar
    Rana268 is offline Moderator
    Last Online
    8th May 2019 @ 11:08 PM
    Join Date
    24 Jan 2017
    Location
    Faisalabad
    Age
    19
    Gender
    Male
    Posts
    2,864
    Threads
    294
    Credits
    21,019
    Thanked
    462

    Default حضرت داتا علی ہجویری کے متعلق بہت اچھی معل

    Webhosting in Pakistan
    السلام علیکم ممبرز
    آپ کے ساتھ حضرت داتا علی ہجویری کے بارے میں مکمل معلومات شئیر کر رہا ہوں

    حضرت داتا علی ہجویریؒ کا نام سید ابوالحسن علی بن عثمان ہے اور آپ حسنی حسینی سید ہیں۔ آپ کی والدہ بہت بڑی ولی اور ماموں بھی بہت بڑے ولی تھے اور تاج اولیاء کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ آپ کی والدہ اور ماموں کا مزار افغانستان میں مرجع خلائق ہے وہاں لوگ کثیر تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔

    حضرت داتا گنج بخشؒ 401ھ یا 440ھ میں غزنی افغانستان میں پیدا ہوئے۔ حضرت سیدنا داتا علی ہجویریؒ کے پیرومرشد کا نام سید ابوالفضلؒ اور سلسلہ جنیدی تھا۔ داتا گنج بخشؒ نے دین کی طرف بہت رغبت و محبت پائی۔ علم دین کے حصول کے لئے بہت کوششیں کیں اور جید مشائخ عظام علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہو کر علم و فیض حاصل کیا اور خوب سیاحت کی۔
    بزرگوں کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت سفر کرتے ہیں۔

    بزرگوں کی سنت ہے کہ علم و فیض حاصل کرنے کے لئے مختلف ملکوں شہروں میں سفر اور بزرگوں کی زیارت کرتے اور مزارات پر حاضری دیتے ہیں۔ بزرگوں کی سوانح حیات پڑھیں تو سفر ہی سفر ملتے ہیں۔ خواجہ غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے لاہور تشریف لائے تھے۔ سیدنا غوث پاکؒ نے کتنے سفر کئے۔ جنگلوں اور بیابانوں میں جا کر عبادات کیں۔ امام شافعی نے بھی اسی طرح سفر کیا اور علم دین حاصل کیا۔

    داتا گنج بخشؒ بھی سفر کرتے کرتے ملک شام پہنچ گئے۔ شام میں ہمارے دلوں کی دھڑکن اور جن کا نام لے کر دلوں کو بڑا سکون ملتا ہے، یعنی حضرت بلال حبشیؓ کا مزار ہے۔ داتا گنج بخشؒ فیض حاصل کرنے کے لئے حضرت بلال حبشیؓ کے مزار پرحاضر ہوئے تھے۔ لاہور بڑا مقدس شہر ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اپنے مکتوبات حصہ اول میں فرماتے ہیں یہ شہر لاہور ہندوستان کے تمام شہروں میں قطب ارشاد کی طرح ہے۔
    اس شہر کی برکت تمام ہندوستان کے شہروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مجدد الف ثانیؒ کے نزدیک پاک و ہند کے سارے شہروں میں شہر لاہور افضل ہے۔ اس مناسبت سے یہ شرافت اور عظمت والا شہر ہے اور ہماری خوش قسمتی کہ لاہور پاکستان میں شامل ہوا۔ اتنا بڑا ولی آپ کے شہر میں جلوہ افروز اور سایہ فگن ہے۔
    یہاں ایک ایسا اللہ کا ولی سویا ہوا ہے جس کی برکت حاصل کرنے کے لئے خواجہ غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے حاضر ہوئے اور داتا گنج بخشؒ کے مزار پر انہوں نے چلہ کیا۔

    داتا صاحب کی بڑی عظمت ہے۔ داتا گنج بخش 451ھ میں لاہور تشریف لائے۔ اس وقت لاہور میں جوگیوں اور جادوگروں کو بڑے بڑے نذرانے اور بھینٹ چڑھتے تھے۔ جو ان جادوگروں کی خاطر مدارت نہ کرے اسے جادو کے ذریعے نقصان پہنچاتے۔ اللہ کے کرم سے داتا گنج بخشؒ کے قدم لاہور کی دھرتی پر پڑے۔ آپ نے ایک بوڑھی عورت سے دودھ خریدنا چاہا وہ وہم پرست تھی ڈر گئی کیونکہ وہ لوگ مسلمان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔
    اس بڑھیا نے انکار کیا اور کہا میں دودھ آپ کو بیچوں گی تو جادوگر مجھے مار دے گا۔ میری بھینسوں سے خون آئے گا۔ آپ نے اسے تسلی دے کر سمجھایا انشااللہ ایسا نہیں ہو گا۔ وہ سمجھ گئی۔ دودھ بیچ کر وہ اپنے گھر پہنچی۔ اب جو اس نے اپنے مویشیوں کا دودھ دھویا تو اتنا دودھ نکلا کہ اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ تب دوسرے گوالوں کو پتہ چلا کہ ان میں بڑی کرامات ہیں۔
    دودھ میں برکت کے لئے آنے والا ایمان کی برکت لے کر جاتا۔ آپ کی نیکی کی دعوت سے پورے لاہور میں ہلچل مچ گئی۔ وہاں کے بہت بڑے جادوگر کو پتہ چلا جو کہ گورنر کا نائب تھا اس کی شہرت اور وقار خطرے میں پڑ گیا تو وہ ہنستا اور طعنہ کشی کرتا ہوا اور آپ کے پاس حاضر ہوا۔ بولا کہ میرے ساتھ مقابلہ کرو۔ آپ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہ مانا۔
    آپ ٹالتے رہے۔ وہ آپ کی ٹال مٹول سے یہ سمجھا کہ آپ ڈر گئے اور آپ میں مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔ اس نے جادو دکھانا شروع کر دیے اور ہوا میں اڑنا شروع کر دیا تاکہ زیادہ ڈر جائیں۔ آپ نے اپنی پاپوش (جوتی مبارک) کو حکم دیا اس کو مزہ چکھا تو جوتی نے ہوا میں پرواز کی اور جادوگر کے سر پر پڑنے لگیں۔ اس کو مارتے ہوئے داتا صاحب کے قدموں میں ڈال دیا۔
    قدموں میں گرتے ہی آپ سے معافی مانگی۔ آیا تھا آپ سے لڑنے کے لئے مگر ہار کر آپ کی غلامی قبول کر لی اور مسلمان ہو گیا اور ظاہری اور باطنی علوم کی تربیت کے بعد اسلام کا مبلغ بن گیا۔ اس کے قبول اسلام سے ہلچل مچ گئی۔ جادو گروں کا جادو ماند پڑ گیا۔ اس کے اسلام لانے کی خبر دور دور اطراف میں پھیل گئی۔ اس کا حلقہ بہت بڑا تھا۔ لوگ اس سے متاثر تھے تو دھڑا ادھڑ پنجاب سے ہندو آتے جاتے آپ پر نظر ڈال کر مسلمان ہوتے جاتے۔
    اسلام کی روشنی لاہور میں خوب پھیلی۔ اس کا نام رائے راجو تھا۔ بعد میں شیخ ہندیؒ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ان کا مزار بھی داتا صاحب کے احاطے میں موجود ہے۔ داتا گنج بخشؒ نے جہاں آپ کا مزار ہے مکان بنایا اور مسجد کی بنیاد رکھی مگر اس کی محراب جانب جنوب رکھی۔ علماء وقت نے اعتراض کیا کہ قبلہ سے ہٹ کر ہے۔ ایک دن سارے علمائے کو اکٹھا کیا۔
    نماز پڑھائی۔ نماز پڑھنے کے بعد آپ نے کہا کہ میں نے اس سمت میں نماز پڑھائی ہے۔ ذرا دیکھو ادھر کیا ہے؟ لوگوں نے دیکھا نہ محراب ہے نہ محراب کی دیوار۔ سب نے کعبہ شریف کا جلوہ دیکھا۔
    بڑے کفار نے داتا صاحبؒ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا آپؒ کی کتاب کشف المحجوب ہے اس کے معنی ہیں چھپے ہوئے کو ظاہر کرنے والی، اللہ کرے ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور پڑھ کر اپنی اصلاح کرے۔

    آپؒ نے اور بھی کتابیں لکھی ہیں۔ میں شروع میں بیان کر چکا کہ ہمارے بزرگان دین سفر بہت کرتے تھے تو غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے داتا صاحبؒ سے فیض حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔ یہاں چلہ کاٹا۔ آپؒ 588ھ میں تشریف لائے اور 589ھ میں چلے گئے۔

  2. #2
    Rashid Jaan's Avatar
    Rashid Jaan is offline Advance Member
    Last Online
    Yesterday @ 06:43 AM
    Join Date
    18 Oct 2016
    Location
    Ghotki Sindh
    Age
    21
    Gender
    Male
    Posts
    1,303
    Threads
    89
    Credits
    6,952
    Thanked
    69

    Default

    عمدہ

  3. #3
    Join Date
    05 Sep 2015
    Location
    @itdunya.com
    Gender
    Male
    Posts
    2,533
    Threads
    194
    Credits
    10,551
    Thanked
    366

    Default

    موت ایک بے خبر ساتھی ہے

  4. #4
    msbf is offline Senior Member+
    Last Online
    17th May 2019 @ 09:38 PM
    Join Date
    25 Feb 2015
    Gender
    Male
    Posts
    485
    Threads
    20
    Credits
    2,555
    Thanked
    21

    Default

    گنج بخش فیض عالم داتا و مشکل کشا
    کوئی نہیں تیرے سوا اے خالق و ارض و سماء

  5. #5
    seefu12's Avatar
    seefu12 is offline Senior Member+
    Last Online
    16th November 2018 @ 03:18 PM
    Join Date
    20 Oct 2015
    Gender
    Male
    Posts
    59
    Threads
    3
    Credits
    762
    Thanked
    3

    Default

    Buhat khoob

  6. #6
    tauqeersh's Avatar
    tauqeersh is offline Senior Member+
    Last Online
    5th March 2019 @ 10:59 AM
    Join Date
    01 Apr 2014
    Location
    Pakistan
    Age
    21
    Gender
    Male
    Posts
    120
    Threads
    10
    Credits
    511
    Thanked
    12

    Default

    Masha Allah Bht Khooob

    bht achi sharing ki bhai ap ny

  7. #7
    tauqeersh's Avatar
    tauqeersh is offline Senior Member+
    Last Online
    5th March 2019 @ 10:59 AM
    Join Date
    01 Apr 2014
    Location
    Pakistan
    Age
    21
    Gender
    Male
    Posts
    120
    Threads
    10
    Credits
    511
    Thanked
    12

    Default

    Ganj Baksh Faize Alam Mazahr Nor-e Khuda

    Naksara Peer kamal kamalan na rehnuma

  8. #8
    Zahidkpr is offline Senior Member+
    Last Online
    11th June 2019 @ 12:12 AM
    Join Date
    07 Apr 2013
    Gender
    Male
    Posts
    530
    Threads
    28
    Credits
    321
    Thanked
    45

    Default

    Quote msbf said: View Post
    گنج بخش فیض عالم داتا و مشکل کشا
    کوئی نہیں تیرے سوا اے خالق و ارض و سماء
    مگر مومنو پر کشادہ ہیں راہیں
    پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  9. The Following User Says Thank You to Zahidkpr For This Useful Post:

    msbf (24th January 2019)

  10. #9
    faaaatimmaakhan is offline Junior Member
    Last Online
    8th May 2019 @ 12:46 PM
    Join Date
    25 Feb 2019
    Gender
    Female
    Posts
    6
    Threads
    0
    Credits
    88
    Thanked
    0

    Default

    Quote Rana268 said: View Post
    السلام علیکم ممبرز
    آپ کے ساتھ حضرت داتا علی ہجویری کے بارے میں مکمل معلومات شئیر کر رہا ہوں

    حضرت داتا علی ہجویریؒ کا نام سید ابوالحسن علی بن عثمان ہے اور آپ حسنی حسینی سید ہیں۔ آپ کی والدہ بہت بڑی ولی اور ماموں بھی بہت بڑے ولی تھے اور تاج اولیاء کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ آپ کی والدہ اور ماموں کا مزار افغانستان میں مرجع خلائق ہے وہاں لوگ کثیر تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔

    حضرت داتا گنج بخشؒ 401ھ یا 440ھ میں غزنی افغانستان میں پیدا ہوئے۔ حضرت سیدنا داتا علی ہجویریؒ کے پیرومرشد کا نام سید ابوالفضلؒ اور سلسلہ جنیدی تھا۔ داتا گنج بخشؒ نے دین کی طرف بہت رغبت و محبت پائی۔ علم دین کے حصول کے لئے بہت کوششیں کیں اور جید مشائخ عظام علمائے کرام کی خدمت میں حاضر ہو کر علم و فیض حاصل کیا اور خوب سیاحت کی۔
    بزرگوں کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت سفر کرتے ہیں۔

    بزرگوں کی سنت ہے کہ علم و فیض حاصل کرنے کے لئے مختلف ملکوں شہروں میں سفر اور بزرگوں کی زیارت کرتے اور مزارات پر حاضری دیتے ہیں۔ بزرگوں کی سوانح حیات پڑھیں تو سفر ہی سفر ملتے ہیں۔ خواجہ غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے لاہور تشریف لائے تھے۔ سیدنا غوث پاکؒ نے کتنے سفر کئے۔ جنگلوں اور بیابانوں میں جا کر عبادات کیں۔ امام شافعی نے بھی اسی طرح سفر کیا اور علم دین حاصل کیا۔

    داتا گنج بخشؒ بھی سفر کرتے کرتے ملک شام پہنچ گئے۔ شام میں ہمارے دلوں کی دھڑکن اور جن کا نام لے کر دلوں کو بڑا سکون ملتا ہے، یعنی حضرت بلال حبشیؓ کا مزار ہے۔ داتا گنج بخشؒ فیض حاصل کرنے کے لئے حضرت بلال حبشیؓ کے مزار پرحاضر ہوئے تھے۔ لاہور بڑا مقدس شہر ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی اپنے مکتوبات حصہ اول میں فرماتے ہیں یہ شہر لاہور ہندوستان کے تمام شہروں میں قطب ارشاد کی طرح ہے۔
    اس شہر کی برکت تمام ہندوستان کے شہروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ مجدد الف ثانیؒ کے نزدیک پاک و ہند کے سارے شہروں میں شہر لاہور افضل ہے۔ اس مناسبت سے یہ شرافت اور عظمت والا شہر ہے اور ہماری خوش قسمتی کہ لاہور پاکستان میں شامل ہوا۔ اتنا بڑا ولی آپ کے شہر میں جلوہ افروز اور سایہ فگن ہے۔
    یہاں ایک ایسا اللہ کا ولی سویا ہوا ہے جس کی برکت حاصل کرنے کے لئے خواجہ غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے حاضر ہوئے اور داتا گنج بخشؒ کے مزار پر انہوں نے چلہ کیا۔

    داتا صاحب کی بڑی عظمت ہے۔ داتا گنج بخش 451ھ میں لاہور تشریف لائے۔ اس وقت لاہور میں جوگیوں اور جادوگروں کو بڑے بڑے نذرانے اور بھینٹ چڑھتے تھے۔ جو ان جادوگروں کی خاطر مدارت نہ کرے اسے جادو کے ذریعے نقصان پہنچاتے۔ اللہ کے کرم سے داتا گنج بخشؒ کے قدم لاہور کی دھرتی پر پڑے۔ آپ نے ایک بوڑھی عورت سے دودھ خریدنا چاہا وہ وہم پرست تھی ڈر گئی کیونکہ وہ لوگ مسلمان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔
    اس بڑھیا نے انکار کیا اور کہا میں دودھ آپ کو بیچوں گی تو جادوگر مجھے مار دے گا۔ میری بھینسوں سے خون آئے گا۔ آپ نے اسے تسلی دے کر سمجھایا انشااللہ ایسا نہیں ہو گا۔ وہ سمجھ گئی۔ دودھ بیچ کر وہ اپنے گھر پہنچی۔ اب جو اس نے اپنے مویشیوں کا دودھ دھویا تو اتنا دودھ نکلا کہ اس کو سنبھالنا مشکل ہو گیا۔ تب دوسرے گوالوں کو پتہ چلا کہ ان میں بڑی کرامات ہیں۔
    دودھ میں برکت کے لئے آنے والا ایمان کی برکت لے کر جاتا۔ آپ کی نیکی کی دعوت سے پورے لاہور میں ہلچل مچ گئی۔ وہاں کے بہت بڑے جادوگر کو پتہ چلا جو کہ گورنر کا نائب تھا اس کی شہرت اور وقار خطرے میں پڑ گیا تو وہ ہنستا اور طعنہ کشی کرتا ہوا اور آپ کے پاس حاضر ہوا۔ بولا کہ میرے ساتھ مقابلہ کرو۔ آپ نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہ مانا۔
    آپ ٹالتے رہے۔ وہ آپ کی ٹال مٹول سے یہ سمجھا کہ آپ ڈر گئے اور آپ میں مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔ اس نے جادو دکھانا شروع کر دیے اور ہوا میں اڑنا شروع کر دیا تاکہ زیادہ ڈر جائیں۔ آپ نے اپنی پاپوش (جوتی مبارک) کو حکم دیا اس کو مزہ چکھا تو جوتی نے ہوا میں پرواز کی اور جادوگر کے سر پر پڑنے لگیں۔ اس کو مارتے ہوئے داتا صاحب کے قدموں میں ڈال دیا۔
    قدموں میں گرتے ہی آپ سے معافی مانگی۔ آیا تھا آپ سے لڑنے کے لئے مگر ہار کر آپ کی غلامی قبول کر لی اور مسلمان ہو گیا اور ظاہری اور باطنی علوم کی تربیت کے بعد اسلام کا مبلغ بن گیا۔ اس کے قبول اسلام سے ہلچل مچ گئی۔ جادو گروں کا جادو ماند پڑ گیا۔ اس کے اسلام لانے کی خبر دور دور اطراف میں پھیل گئی۔ اس کا حلقہ بہت بڑا تھا۔ لوگ اس سے متاثر تھے تو دھڑا ادھڑ پنجاب سے ہندو آتے جاتے آپ پر نظر ڈال کر مسلمان ہوتے جاتے۔
    اسلام کی روشنی لاہور میں خوب پھیلی۔ اس کا نام رائے راجو تھا۔ بعد میں شیخ ہندیؒ کے نام سے مشہور ہو گئے۔ ان کا مزار بھی داتا صاحب کے احاطے میں موجود ہے۔ داتا گنج بخشؒ نے جہاں آپ کا مزار ہے مکان بنایا اور مسجد کی بنیاد رکھی مگر اس کی محراب جانب جنوب رکھی۔ علماء وقت نے اعتراض کیا کہ قبلہ سے ہٹ کر ہے۔ ایک دن سارے علمائے کو اکٹھا کیا۔
    نماز پڑھائی۔ نماز پڑھنے کے بعد آپ نے کہا کہ میں نے اس سمت میں نماز پڑھائی ہے۔ ذرا دیکھو ادھر کیا ہے؟ لوگوں نے دیکھا نہ محراب ہے نہ محراب کی دیوار۔ سب نے کعبہ شریف کا جلوہ دیکھا۔
    بڑے کفار نے داتا صاحبؒ کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا آپؒ کی کتاب کشف المحجوب ہے اس کے معنی ہیں چھپے ہوئے کو ظاہر کرنے والی، اللہ کرے ہر مسلمان اس کا مطالعہ کرے اور پڑھ کر اپنی اصلاح کرے۔

    آپؒ نے اور بھی کتابیں لکھی ہیں۔ میں شروع میں بیان کر چکا کہ ہمارے بزرگان دین سفر بہت کرتے تھے تو غریب نوازؒ سفر کرتے ہوئے داتا صاحبؒ سے فیض حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔ یہاں چلہ کاٹا۔ آپؒ 588ھ میں تشریف لائے اور 589ھ میں چلے گئے۔
    Jazak ALLAH khair

  11. #10
    MaSuMmUnDa is offline Senior Member+
    Last Online
    Yesterday @ 12:29 PM
    Join Date
    15 Mar 2011
    Location
    DUBAI
    Age
    27
    Gender
    Male
    Posts
    42
    Threads
    5
    Credits
    178
    Thanked: 1

    Default

    Webhosting in Pakistan
    nice sharing

Similar Threads

  1. Replies: 5
    Last Post: 18th February 2017, 10:20 AM
  2. Replies: 8
    Last Post: 26th January 2017, 08:54 PM
  3. Replies: 5
    Last Post: 19th May 2015, 08:55 PM
  4. Replies: 8
    Last Post: 19th May 2011, 08:50 PM
  5. Replies: 5
    Last Post: 29th January 2011, 10:51 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •