Webhosting in Pakistan
Results 1 to 11 of 11

Thread: سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے

  1. #1
    Saraiki's Avatar
    Saraiki is offline Junior Member
    Last Online
    Yesterday @ 09:37 PM
    Join Date
    10 Nov 2015
    Gender
    Male
    Posts
    16
    Threads
    10
    Credits
    153
    Thanked
    0

    Default سرائیکی صوبہ کیوں ضروری ہے

    Webhosting in Pakistan
    صوبہ سرائیکستان
    7کروڑ افراد سرائیکی خطے سے تعلق ر کھتے ہیں خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اورزمینی حقائق ایک عرصے سے تقاضا کررہے ہیں کہ سرائیکی خطہ جسے سرائیکی وسیب کہا جاتا ہے۔ اسے الگ صوبہ بنادیا جائے۔
    صوبہ پنجاب کی تقسیم وقت کا تقاضا اور ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے مگر شاید ہمارے ہاں ہر مسئلے کو متنازعہ بنانا کھیل بن چکا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجاب کا بڑا حصہ پاکستان کے حصے میں آیا۔ جو ہندوستان کے حصے میں آیا اسے وہاں کے حکمرانوں نے تقسیم کر کے مزیدصوبے بنادیئے ہیں تاکہ وسائل بہتر طریقے سے عوام پر خرچ کئے جاسکیںاور عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے دوردراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔
    پنجاب میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث گھمبیر مسائل جنم لے رہے ہیں جو نفرت کی دیواریں کھڑی کررہے ہیں۔پورے پنجاب کے وسائل ایک ہی شہر پر خرچ کیے جارہے ہیں جوکہ دانشمنداہ اقدام نہیں ہے۔افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جب بھی پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے سازش قرار دے دیا جاتا ہے۔خطہ سرائیکی وسیب بارے زبانی دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ اول تو یہاں کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جاتا ہے اگر شروع ہوجاتا ہے تو اس کو اس قدر طویل کردیا جاتا ہے کہ وہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ صحت کی سہولیات پر نظر ڈالی جائے تو سرائیکی وسیب کے عوام کئی دہائیوں تک صرف ایک نشتر ہسپتال میں جیتے اور مرتے رہے۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں باریاں بدل کر حکمرانی کرتی رہی ہیں مگر کسی کو توفیق نہ ہوسکی کہ یہاں کوئی دوسرا بڑا ہسپتال ہی قائم کردیتے۔ سیاسی حکومتوں کو توفیق نہ ہوسکی البتہ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں یہاں دل کے امراض کا ایک ہسپتال قائم کرکے یہاں کے عوام کو اچھی سہولت فراہم کی گئی۔
    ملتان میں چلڈرن کمپلیکس کا منصوبہ ایک عرصے سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا ہے۔دورے تو بہت ہوتے ہیں مگر ہسپتال ورکنگ میں نہیں آرہا۔
    خواتین کیلئے بنایا گیا فاطمہ جناح ہسپتال چند گھنٹے کھلتا ہے۔ اس کے بعد اگر کسی خاتون کو زچگی کے مرحلے سے گزرنا ہو تو پھر پرائیویٹ ہسپتالوں کی چیرہ دستیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں جہاں عوام کی چمڑی ادھیڑ لی جاتی ہے۔خواتین کے ہسپتال کو 24گھنٹے کھلا رکھنے میں کون سا امر مانع ہے  کوئی نہیں جانتا۔ اگر سٹاف کی کمی ہے تو کیا اسے یہاں کے عوام نے پورا کرنا ہے۔
    اسی ہسپتال کے عقب میں ایک عمارت قائم ہے جس کا نام میاں شہباز شریف ہسپتال ہے۔ یہ بھی کسی ٹیوشن سنٹر کی طرح چند گھنٹوں کے لئے کھلتا ہے۔ اسے بند رکھ کے کونسا ثواب کمایا جارہا اس بارے بھی کوئی نہیں جانتا۔ کڈنی سنٹر کا منصوبہ بھی ہر سال بجٹ کا منہ چڑاتا ہے۔ ہر سال رقم مختص ہوتی ہے پھر نجانے کہاں چلی جاتی ہے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا منصوبہ12 سال سے حکمرانوں کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ملتان میں ڈینٹل کالج کی ایک وسیع اور خوبصورت عمارت موجود ہے مگریہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ اس شاندار عمارت میں آج تک آپریشن تھیٹر قائم نہیں ہوسکا۔پاک اٹالین برن یونٹ کا کام 70 فیصد باقی ہے رقم ملتی نہیں کام مکمل ہوتا نہیں۔سرائیکی خطہ کے لوگوں کی سہولت کیلئے کینسر سنٹر کی تعمیر کا منصوبہ کئی برس سے بنیادوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔تعلیم کے شعبہ کا حال بھی صحت کے شعبے سے کم برا نہیں ہے۔چند برس قبل ملتان میں زرعی یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے لئے الگ سے ایک جگہ کا انتخاب کرکے باقاعدہ یونیورسٹی قائم کی جاتی مگر ایسا نہ ہوا۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں شجاع آباد روڈ پر غریب علاقہ کی بچیوں کے لئے بنائے گئے سکول میں اس یونیورسٹی کا افتتاح کردیا گیا اور اس کا نام میاں نوازشریف یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔اس علاقہ کی بچیاں ابتدائی تعلیم کیلئے کہاں جائیں گی، کتنا فاصلہ طے کر کے جائیں گی،کیسے جائیںگی؟ کسی نے نہ سوچا۔ خواتین یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تو یہاں پر بھی اسی قسم کی تاریخ دہرائی گئی۔ گورنمنٹ خواتین کالج کچہری روڈ کو بند کرکے یہاں خواتین یونیورسٹی قائم کردی گئی۔ ہزاروں غریب بچیوں کا مستقبل تاریک کردیا گیا۔ اسی طرح کے دیگرکئی برسوں سے منصوبے التواءکا شکار ہیں ۔منصوبے یہاں اور بجٹ کہیں اور خرچ ہوجاتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں لاہور کی سڑکوں سے سرائیکی وسیب کی پھٹی کی خوشبو آتی ہے۔شہریوں کیلئے تفریح گاہوں کا قیام بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ لاہور میں گریٹر فیصل پارک قائم کیا گیا بہت اچھی بات ہے مگر سرائیکی وسیب کے اہم ترین شہر ملتان میں انگریز دور کے ایک پارک کے علاوہ کوئی دوسری ایسی جگہ نہیں ہے جہاں عوام کو تفریح میسر ہوسکے۔ کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ایک دو پارک موجود ضرور ہیں کیا ان پر بجٹ کی رقم خرچ کرنا ممنوع ہے۔ اسی اثناء میں سرائیکی صوبے کا قیام ازحد ضروری ہے تاکہ وسیب کے لوگ اپنے وسائل اپنی مرضی سے خرچ کر سکیں۔

  2. #2
    Join Date
    09 Apr 2009
    Location
    کر&
    Gender
    Male
    Posts
    14,727
    Threads
    236
    Credits
    15,770
    Thanked
    1597

    Default

    السلام علیکم برادر آپ نے اپنی طرف سے اچھے انداز میں اپنی بات ہم سب کے ساتھ شئیر کی
    آپ کی ساری ہی باتیں توجہ طلب ہیں پر یہ رونا صرف آپ ہی کے ہاں کا نہیں ہے ۔

    آپ اگر ان باتوں / محرکات کو جمع کریں جن کی بنیاد پر صوبہ بنایا جاتا ہے
    اور وہ محرکات قاری کے سامنے رکھیں گے تو آپ کی بات کا وزن بڑھ جائے گا

    اور
    ایک پڑھا لکھا شخص جس نے آپ کی بات کو آگے بڑھا نا ہے وہ بھی اپنا کردار ادا کر سکے گا

    اس طرح قافلہ بنتا جائےگا
    پچھلے الیکشن میں کافی گونج تھی آپ کے مطالبے کی اور امید تھی کہ جلد آپ کی مراد بر آئے گی
    بقول آپ کے سب نعرے ہی نعرے تھے
    ایک پارٹی کا مطالبہ تھا کہ یہ صوبہ بنا دیا جائے
    جب اُسے کہا گیا کہ
    تم بھی
    اپنے ہاں اس طرح کا کرادر ادا کرو تو بیان آیا وہ تو ہماری دھرتی ماں ہے
    پھر کیا تھا یہ سوال اُٹھا
    تو کیا یہ ہماری دھرتی ماں نہیں ہے
    پھر
    سوال پر سوال اُٹھتے رہے پر جواب کہیں سےنہیں آیا
    اور آج آپ اور ہم اس تھریڈ میں دل ہلکا کررہے ہیں
    کیونکہ
    جب نئے صوبوں کی بات شروع ہوگی تو یہ بات پنجاب تک ہی محددو نہیں رہے گی بلکہ پنجاب سے نکل کر سندھ پہنچے گی
    سندھ سے بلوچستان اور پھر خیبر پختونخوا چلتے چلتے ہندکو ہزارہ اور پھر قبائلی علاقے بھی اپنی الگ شناخت مانگیں گے۔
    مختصر یہ کہ جب چھوٹے صوبے بنانے کی رسم چل پڑے گی تو اس کی روشنی ہر طرف پھیلے گی
    یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ روشنی صرف پنجاب تک ہی محدود رہے۔
    خیر
    بقول آپ نے عام آدمی سمجھتا ہے کہ بس یہ سب نعرے سیاسی مفاد کے خاطر ہی لگائے جاتے ہیں
    جس کا ماضی گواہ ہے

    ایک بات اور یاد آئی وہ یہ کہ پنجاب اسمبلی تین صوبوں کی قرارداد منظور کر چکی ہے
    جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کے قیام کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جا چکا ہے
    اب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس ضمن میں قانون سازی ہو سکتی ہے
    اگر نیتیں صاف اور عوام کے پریشانیوں کو کم کرنے کی نیت ہوتو
    ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں

  3. #3
    waqasshahid's Avatar
    waqasshahid is offline Senior Member+
    Last Online
    7th May 2019 @ 05:29 PM
    Join Date
    24 Jan 2014
    Gender
    Male
    Posts
    318
    Threads
    48
    Credits
    2,390
    Thanked
    38

    Default

    آپ کی باتیں بجا ہیں محترم لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن لیکن لیکن لیکن ۔۔۔۔
    الگ صوبہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔یہ بات بالکل صحیح ہے لیکن نئے صوبے کی قیادت کون لوگ کریں گے؟؟؟؟
    کیا وہ وسیب کے وسائل کو وسیب پر خرچ کریں گے یا اپنی آنے والی نسلوں کیلئے اپنی تجوریاں بھرتے رہیں گے؟؟؟؟؟
    ہم ایک طبقے کو تو برا کہتے ہیں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر لیکن جن عوامی منتخب نمائندوں کو ہم منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں کیا کبھی ہم نے انکے گریبان میں ہاتھ ڈالا ،کبھی انکا احتساب کیا،کبھی ان سے پوچھا کہ زخم زخم وسیب نے جو تمہیں اپنا نمائندہ بنایا اوراپنی ناداری کی وکالت تمہیں سونپی ۔کیا تم نے اپنی وکالت کا حق نبھا یا؟ یا ہماری غربت کے افسانے شائع کر واکر اپنی چیک بکس کیش کرواتے رہے؟؟؟؟ ووٹ لینے کے بعد آپ نے ہمارے ساتھ ان مجبور و مقہور بستیوں میں کتناوقت گزارا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    بہت دکھ ہوتا ہے میاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں اپنے حقوق کا شعور نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ہم زمانہ بدلنے کی بات کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
    جہاں ووٹ صرف اس بات پر دے دیا جاتا ہو کہ خان صاحب ہمارے پاس چل کر آگئے ہیں جو ہوا سو ہوا ووٹ اب خان صاحب کا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    ہے درویشی بھی عیاری سلطانی بھی عیاری
    استاد سب سے بڑا شاگرد ہوتاہے۔

  4. #4
    Join Date
    09 Apr 2009
    Location
    کر&
    Gender
    Male
    Posts
    14,727
    Threads
    236
    Credits
    15,770
    Thanked
    1597

    Default

    ان سب باتوں پر تو فورم کے رولز لاگو ہوجائیں گے قبلہ محترم
    -۔-۔-۔-
    وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر لیکن جن عوامی منتخب نمائندوں کو ہم منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں
    کیا کبھی ہم نے انکے گریبان میں ہاتھ ڈالا ،
    کبھی انکا احتساب کیا،ک
    بھی ان سے پوچھا
    کہ زخم زخم وسیب نے جو تمہیں اپنا نمائندہ بنایا اوراپنی ناداری کی وکالت تمہیں سونپی ۔کیا تم نے اپنی وکالت کا حق نبھا یا؟
    یا
    ہماری غربت کے افسانے شائع کر واکر اپنی چیک بکس کیش کرواتے رہے؟؟؟؟
    ووٹ لینے کے بعد آپ نے ہمارے ساتھ ان مجبور و مقہور بستیوں میں کتناوقت گزارا ؟؟؟؟؟؟؟؟

  5. The Following User Says Thank You to Haseeb Alamgir For This Useful Post:

    waqasshahid (6th May 2019)

  6. #5
    waqasshahid's Avatar
    waqasshahid is offline Senior Member+
    Last Online
    7th May 2019 @ 05:29 PM
    Join Date
    24 Jan 2014
    Gender
    Male
    Posts
    318
    Threads
    48
    Credits
    2,390
    Thanked
    38

    Default

    Quote Haseeb Alamgir said: View Post
    ان سب باتوں پر تو فورم کے رولز لاگو ہوجائیں گے قبلہ محترم
    -۔-۔-۔-
    وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر لیکن جن عوامی منتخب نمائندوں کو ہم منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں
    کیا کبھی ہم نے انکے گریبان میں ہاتھ ڈالا ،
    کبھی انکا احتساب کیا،ک
    بھی ان سے پوچھا
    کہ زخم زخم وسیب نے جو تمہیں اپنا نمائندہ بنایا اوراپنی ناداری کی وکالت تمہیں سونپی ۔کیا تم نے اپنی وکالت کا حق نبھا یا؟
    یا
    ہماری غربت کے افسانے شائع کر واکر اپنی چیک بکس کیش کرواتے رہے؟؟؟؟
    ووٹ لینے کے بعد آپ نے ہمارے ساتھ ان مجبور و مقہور بستیوں میں کتناوقت گزارا ؟؟؟؟؟؟؟؟

    معذرت خواہ ہوں محترم لیکن جذبات کو تاب نہیں پایا ہوں ۔مقصد کسی کی دل آزاری ہرگز نہیں ہے اور نہ تھا۔
    پھر بھی آپ نے متنبہ کیا تو میں معذرت خواہ ہوں۔اللہ پاک مجھ پر رحم فرمائیں اور مجھے معاف فرمائیں۔

  7. #6
    Join Date
    09 Apr 2009
    Location
    کر&
    Gender
    Male
    Posts
    14,727
    Threads
    236
    Credits
    15,770
    Thanked
    1597

    Default

    نہیں جناب آپ کی باتوں سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوئی ہے نا ہونی چاہیے
    ہم سب یہاں بھی اور بحیثت پاکستانی اور مسلمان ایک دوسرے کے بھائی بھائی ہیں
    ہم سب ایک ہیں بس ہمیں مخلص حکمران مل جائیں تو ساری دنیا ایک طرف اور ہمارا وطن عزیز ایک طرف
    اللہ پاک اس مبارک ماہ میں سب کو نیک ہدایت عطا فرمائے
    آمین
    پاکستان زندہ باد ہم سب کی جان ہم سب کی آن پاک فوج تجھے سلام
    ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں ہم سب کی پہچان پاکستان

  8. The Following User Says Thank You to Haseeb Alamgir For This Useful Post:

    waqasshahid (7th May 2019)

  9. #7
    Join Date
    09 Apr 2009
    Location
    کر&
    Gender
    Male
    Posts
    14,727
    Threads
    236
    Credits
    15,770
    Thanked
    1597

    Default

    Name:  Capture.JPG
Views: 11
Size:  23.0 KB

  10. #8
    Join Date
    10 May 2014
    Location
    Karachi
    Gender
    Male
    Posts
    1,325
    Threads
    127
    Credits
    156
    Thanked
    323

    Default



    پہلے تو ایک بات کرتا چلوں پھر سیاسی معاملات پر اظہارِ خیال کرونگا
    وہ بات یہ ہے کہ ہم لوگ خود کونسا اچھے ہیں، ہم ذرا اپنے اعمال پر تو نظر ڈالیں، آجکل لوگوں کے اعمال بہت خراب ہوچکے ہیں
    جب ہمارے اعمال بہتر ہوجائینگے تو انشاءاللّٰہ عزوجلّ ہمیں اچھے حکمران بھی مل جائینگے


    اب آتا ہوں سیاست کی طرف تو میری معلومات کے مطابق ہوا کچھ یوں تھا کہ پیپلزپارٹی کی مقبولیت عوام میں کم ہورہی تھی لہٰزا پیپلزپارٹی نے اپنا ووٹ بینک بڑھانا تھا تو جنوبی پنجاب کے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے انہونے نے ایک سیاست کی کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی آواز بلند کرنا شروع کردی،حالانکہ پیپلزپارٹی تو بھٹو کے دور سے تھی مگر اُسوقت پیپلزپارٹی نے جنوبی پنجاب صوبے کی بات نہیں کی تھی، لیکن جب عوام میں مقبولیت کم ہونے لگی تو انہونے نے اپنے سیاسی مفادات کے تحت صوبہ بنانے کی آواز بلند کی، پھر مسلم لیگ نواز نے یہ دیکھا کہ پیپلز پارٹی تو اپنا ووٹ بینک بڑھارہی ہے صوبے کی بات کرکے تو ہم بھی یہی کرتے ہیں لہٰزا مسلم لیگ ن نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے جنوبی پنجاب کے ساتھ ساتھ بہاولپور صوبے کی بھی آواز بلند کرنا شروع کردی،لہٰزا پیپلزپارٹی نے تو صرف جنوبی پنجاب صوبے کی بات کی تھی مگر مسلم لیگ ن نے اُس میں اضافہ کرکے جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپور صوبہ بنانے کی بات بھی کردی تاکہ مسلم لیگ ن کے موقف کی ایک الگ حیثیت بن جائے اور اُن کو جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپور والوں کی بھی حمایت مل جائے اور اِس طرح وہ اپنا سیاسی ووٹ بینک بڑھالیں، پھر جب پی ٹی آئی نے یہ دیکھا کہ یہ دونوں پارٹیاں صوبوں کی بات کرکے اپنا ووٹ بینک بڑھارہی ہیں تو ہم کیوں پیچھے رہیں تو وہ بھی اِس دوڑ میں کود گئے،کیونکہ پی ٹی آئی کو بھی اپنا ووٹ بینک بڑھانا تھا تاکہ وہ الیکشن جیت سکے لہٰزا انہونے بھی اپنے سیاسی مفادات کے تحت جنوبی پنجاب صوبے کی آواز بلند کردی تاکہ لوگ اُن کو ووٹ دیں
    تو نتیجتہً خلاصئہ کلام یہ ہے کہ یہ تینو پارٹیاں صوبے نہیں بنانا چاہتیں بلکہ صرف اپنے سیاسی مفادات کے لئے صوبے بنانے کی آواز بلند کرتی ہیں تاکہ اِن پارٹیوں کو عوام کی حمایت اور ووٹ ملے
    اور صرف عوام کو دکھانے کے لئے پارلیمینٹ میں صوبے بنانے کا بِل لاتی ہیں، اور اِن پارٹیوں کو اِس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی نا کوئی مسئلہ ہوجائے گا اور بِل پاس نہیں ہوپائے گا اور ہمیں بہانہ مل جائے گا کہ فلاں فلاں مسائل کی وجہ سے بِل پاس نہیں ہوپارہاہے
    ہر دفعہ یہی ہوتا ہے کہ صوبوں کی بات جب بھی پارلیمینٹ میں ہوتی ہے تو کوئی نا کوئی مسئلہ ہوجاتا ہے اور یہ بِل کبھی پاس نہیں ہوپاتا
    اللّٰہ پاک ہمارے اِس وطنِ عزیز کی حفاظت فرمائے اور اِس وطن پر رحم و کرم فرمائے
    آمین

    دعاؤں کا طالب
    سلمان احمد

    شکریہ
    One Vision One Standard

  11. #9
    Join Date
    10 May 2014
    Location
    Karachi
    Gender
    Male
    Posts
    1,325
    Threads
    127
    Credits
    156
    Thanked
    323

    Default

    عوامِ پاکستان اگر اور صوبے چاہتے ہیں تو بلکل صوبے بن نے چاہیئیں چاہے سرائیکی صوبے کی بات ہو یا جنوبی پنجاب صوبے کی بات ہو یا بہاولپور صوبے کی بات، اور کسی بھی صوبے کی بات ہو، بس جہاں جہاں عوامِ پاکستان صوبہ چاہتے ہیں وہاں صوبے بن نے چاہیئیں، کیونکہ اور ممالک میں بھی بہت سے صوبے ہیں مگر جیسا کہ مینے اوپر بیان کیا کہ پاکستان کی تینوں بڑی پارٹیاں نہیں چاہتیں کہ صوبے بنیں وہ صرف سیاسی نعرے بازیاں کرتی ہیں

  12. #10
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    16,345
    Threads
    280
    Credits
    74,155
    Thanked
    879

    Default

    Quote Saraiki said: View Post
    صوبہ سرائیکستان
    7کروڑ افراد سرائیکی خطے سے تعلق ر کھتے ہیں خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اورزمینی حقائق ایک عرصے سے تقاضا کررہے ہیں کہ سرائیکی خطہ جسے سرائیکی وسیب کہا جاتا ہے۔ اسے الگ صوبہ بنادیا جائے۔
    صوبہ پنجاب کی تقسیم وقت کا تقاضا اور ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے مگر شاید ہمارے ہاں ہر مسئلے کو متنازعہ بنانا کھیل بن چکا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجاب کا بڑا حصہ پاکستان کے حصے میں آیا۔ جو ہندوستان کے حصے میں آیا اسے وہاں کے حکمرانوں نے تقسیم کر کے مزیدصوبے بنادیئے ہیں تاکہ وسائل بہتر طریقے سے عوام پر خرچ کئے جاسکیںاور عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے دوردراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔
    پنجاب میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث گھمبیر مسائل جنم لے رہے ہیں جو نفرت کی دیواریں کھڑی کررہے ہیں۔پورے پنجاب کے وسائل ایک ہی شہر پر خرچ کیے جارہے ہیں جوکہ دانشمنداہ اقدام نہیں ہے۔افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جب بھی پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے سازش قرار دے دیا جاتا ہے۔خطہ سرائیکی وسیب بارے زبانی دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ اول تو یہاں کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جاتا ہے اگر شروع ہوجاتا ہے تو اس کو اس قدر طویل کردیا جاتا ہے کہ وہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ صحت کی سہولیات پر نظر ڈالی جائے تو سرائیکی وسیب کے عوام کئی دہائیوں تک صرف ایک نشتر ہسپتال میں جیتے اور مرتے رہے۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں باریاں بدل کر حکمرانی کرتی رہی ہیں مگر کسی کو توفیق نہ ہوسکی کہ یہاں کوئی دوسرا بڑا ہسپتال ہی قائم کردیتے۔ سیاسی حکومتوں کو توفیق نہ ہوسکی البتہ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں یہاں دل کے امراض کا ایک ہسپتال قائم کرکے یہاں کے عوام کو اچھی سہولت فراہم کی گئی۔
    ملتان میں چلڈرن کمپلیکس کا منصوبہ ایک عرصے سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا ہے۔دورے تو بہت ہوتے ہیں مگر ہسپتال ورکنگ میں نہیں آرہا۔
    خواتین کیلئے بنایا گیا فاطمہ جناح ہسپتال چند گھنٹے کھلتا ہے۔ اس کے بعد اگر کسی خاتون کو زچگی کے مرحلے سے گزرنا ہو تو پھر پرائیویٹ ہسپتالوں کی چیرہ دستیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں جہاں عوام کی چمڑی ادھیڑ لی جاتی ہے۔خواتین کے ہسپتال کو 24گھنٹے کھلا رکھنے میں کون سا امر مانع ہے کوئی نہیں جانتا۔ اگر سٹاف کی کمی ہے تو کیا اسے یہاں کے عوام نے پورا کرنا ہے۔
    اسی ہسپتال کے عقب میں ایک عمارت قائم ہے جس کا نام میاں شہباز شریف ہسپتال ہے۔ یہ بھی کسی ٹیوشن سنٹر کی طرح چند گھنٹوں کے لئے کھلتا ہے۔ اسے بند رکھ کے کونسا ثواب کمایا جارہا اس بارے بھی کوئی نہیں جانتا۔ کڈنی سنٹر کا منصوبہ بھی ہر سال بجٹ کا منہ چڑاتا ہے۔ ہر سال رقم مختص ہوتی ہے پھر نجانے کہاں چلی جاتی ہے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا منصوبہ12 سال سے حکمرانوں کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ملتان میں ڈینٹل کالج کی ایک وسیع اور خوبصورت عمارت موجود ہے مگریہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ اس شاندار عمارت میں آج تک آپریشن تھیٹر قائم نہیں ہوسکا۔پاک اٹالین برن یونٹ کا کام 70 فیصد باقی ہے رقم ملتی نہیں کام مکمل ہوتا نہیں۔سرائیکی خطہ کے لوگوں کی سہولت کیلئے کینسر سنٹر کی تعمیر کا منصوبہ کئی برس سے بنیادوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔تعلیم کے شعبہ کا حال بھی صحت کے شعبے سے کم برا نہیں ہے۔چند برس قبل ملتان میں زرعی یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے لئے الگ سے ایک جگہ کا انتخاب کرکے باقاعدہ یونیورسٹی قائم کی جاتی مگر ایسا نہ ہوا۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں شجاع آباد روڈ پر غریب علاقہ کی بچیوں کے لئے بنائے گئے سکول میں اس یونیورسٹی کا افتتاح کردیا گیا اور اس کا نام میاں نوازشریف یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔اس علاقہ کی بچیاں ابتدائی تعلیم کیلئے کہاں جائیں گی، کتنا فاصلہ طے کر کے جائیں گی،کیسے جائیںگی؟ کسی نے نہ سوچا۔ خواتین یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تو یہاں پر بھی اسی قسم کی تاریخ دہرائی گئی۔ گورنمنٹ خواتین کالج کچہری روڈ کو بند کرکے یہاں خواتین یونیورسٹی قائم کردی گئی۔ ہزاروں غریب بچیوں کا مستقبل تاریک کردیا گیا۔ اسی طرح کے دیگرکئی برسوں سے منصوبے التواءکا شکار ہیں ۔منصوبے یہاں اور بجٹ کہیں اور خرچ ہوجاتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں لاہور کی سڑکوں سے سرائیکی وسیب کی پھٹی کی خوشبو آتی ہے۔شہریوں کیلئے تفریح گاہوں کا قیام بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ لاہور میں گریٹر فیصل پارک قائم کیا گیا بہت اچھی بات ہے مگر سرائیکی وسیب کے اہم ترین شہر ملتان میں انگریز دور کے ایک پارک کے علاوہ کوئی دوسری ایسی جگہ نہیں ہے جہاں عوام کو تفریح میسر ہوسکے۔ کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ایک‘ دو پارک موجود ضرور ہیں‘ کیا ان پر بجٹ کی رقم خرچ کرنا ممنوع ہے۔ اسی اثناء میں سرائیکی صوبے کا قیام ازحد ضروری ہے تاکہ وسیب کے لوگ اپنے وسائل اپنی مرضی سے خرچ کر سکیں۔
    آپ کی بات درست ہے

  13. #11
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    16,345
    Threads
    280
    Credits
    74,155
    Thanked
    879

    Default

    Webhosting in Pakistan
    Quote Saraiki said: View Post
    صوبہ سرائیکستان
    7کروڑ افراد سرائیکی خطے سے تعلق ر کھتے ہیں خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اورزمینی حقائق ایک عرصے سے تقاضا کررہے ہیں کہ سرائیکی خطہ جسے سرائیکی وسیب کہا جاتا ہے۔ اسے الگ صوبہ بنادیا جائے۔
    صوبہ پنجاب کی تقسیم وقت کا تقاضا اور ملک کے وسیع تر مفاد میں ہے مگر شاید ہمارے ہاں ہر مسئلے کو متنازعہ بنانا کھیل بن چکا ہے۔ تقسیم ہند کے وقت پنجاب کا بڑا حصہ پاکستان کے حصے میں آیا۔ جو ہندوستان کے حصے میں آیا اسے وہاں کے حکمرانوں نے تقسیم کر کے مزیدصوبے بنادیئے ہیں تاکہ وسائل بہتر طریقے سے عوام پر خرچ کئے جاسکیںاور عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے دوردراز کا سفر نہ کرنا پڑے۔
    پنجاب میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث گھمبیر مسائل جنم لے رہے ہیں جو نفرت کی دیواریں کھڑی کررہے ہیں۔پورے پنجاب کے وسائل ایک ہی شہر پر خرچ کیے جارہے ہیں جوکہ دانشمنداہ اقدام نہیں ہے۔افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ جب بھی پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے سازش قرار دے دیا جاتا ہے۔خطہ سرائیکی وسیب بارے زبانی دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگر عملی اقدامات اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ اول تو یہاں کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جاتا ہے اگر شروع ہوجاتا ہے تو اس کو اس قدر طویل کردیا جاتا ہے کہ وہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ صحت کی سہولیات پر نظر ڈالی جائے تو سرائیکی وسیب کے عوام کئی دہائیوں تک صرف ایک نشتر ہسپتال میں جیتے اور مرتے رہے۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں باریاں بدل کر حکمرانی کرتی رہی ہیں مگر کسی کو توفیق نہ ہوسکی کہ یہاں کوئی دوسرا بڑا ہسپتال ہی قائم کردیتے۔ سیاسی حکومتوں کو توفیق نہ ہوسکی البتہ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں یہاں دل کے امراض کا ایک ہسپتال قائم کرکے یہاں کے عوام کو اچھی سہولت فراہم کی گئی۔
    ملتان میں چلڈرن کمپلیکس کا منصوبہ ایک عرصے سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا ہے۔دورے تو بہت ہوتے ہیں مگر ہسپتال ورکنگ میں نہیں آرہا۔
    خواتین کیلئے بنایا گیا فاطمہ جناح ہسپتال چند گھنٹے کھلتا ہے۔ اس کے بعد اگر کسی خاتون کو زچگی کے مرحلے سے گزرنا ہو تو پھر پرائیویٹ ہسپتالوں کی چیرہ دستیاں برداشت کرنا پڑتی ہیں جہاں عوام کی چمڑی ادھیڑ لی جاتی ہے۔خواتین کے ہسپتال کو 24گھنٹے کھلا رکھنے میں کون سا امر مانع ہے کوئی نہیں جانتا۔ اگر سٹاف کی کمی ہے تو کیا اسے یہاں کے عوام نے پورا کرنا ہے۔
    اسی ہسپتال کے عقب میں ایک عمارت قائم ہے جس کا نام میاں شہباز شریف ہسپتال ہے۔ یہ بھی کسی ٹیوشن سنٹر کی طرح چند گھنٹوں کے لئے کھلتا ہے۔ اسے بند رکھ کے کونسا ثواب کمایا جارہا اس بارے بھی کوئی نہیں جانتا۔ کڈنی سنٹر کا منصوبہ بھی ہر سال بجٹ کا منہ چڑاتا ہے۔ ہر سال رقم مختص ہوتی ہے پھر نجانے کہاں چلی جاتی ہے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا منصوبہ12 سال سے حکمرانوں کی نظر کرم کا منتظر ہے۔ملتان میں ڈینٹل کالج کی ایک وسیع اور خوبصورت عمارت موجود ہے مگریہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ اس شاندار عمارت میں آج تک آپریشن تھیٹر قائم نہیں ہوسکا۔پاک اٹالین برن یونٹ کا کام 70 فیصد باقی ہے رقم ملتی نہیں کام مکمل ہوتا نہیں۔سرائیکی خطہ کے لوگوں کی سہولت کیلئے کینسر سنٹر کی تعمیر کا منصوبہ کئی برس سے بنیادوں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔تعلیم کے شعبہ کا حال بھی صحت کے شعبے سے کم برا نہیں ہے۔چند برس قبل ملتان میں زرعی یونیورسٹی کا اعلان کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کے لئے الگ سے ایک جگہ کا انتخاب کرکے باقاعدہ یونیورسٹی قائم کی جاتی مگر ایسا نہ ہوا۔ ڈکٹیٹر مشرف کے دور میں شجاع آباد روڈ پر غریب علاقہ کی بچیوں کے لئے بنائے گئے سکول میں اس یونیورسٹی کا افتتاح کردیا گیا اور اس کا نام میاں نوازشریف یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔اس علاقہ کی بچیاں ابتدائی تعلیم کیلئے کہاں جائیں گی، کتنا فاصلہ طے کر کے جائیں گی،کیسے جائیںگی؟ کسی نے نہ سوچا۔ خواتین یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تو یہاں پر بھی اسی قسم کی تاریخ دہرائی گئی۔ گورنمنٹ خواتین کالج کچہری روڈ کو بند کرکے یہاں خواتین یونیورسٹی قائم کردی گئی۔ ہزاروں غریب بچیوں کا مستقبل تاریک کردیا گیا۔ اسی طرح کے دیگرکئی برسوں سے منصوبے التواءکا شکار ہیں ۔منصوبے یہاں اور بجٹ کہیں اور خرچ ہوجاتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ ہمیں لاہور کی سڑکوں سے سرائیکی وسیب کی پھٹی کی خوشبو آتی ہے۔شہریوں کیلئے تفریح گاہوں کا قیام بھی حکومت کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ لاہور میں گریٹر فیصل پارک قائم کیا گیا بہت اچھی بات ہے مگر سرائیکی وسیب کے اہم ترین شہر ملتان میں انگریز دور کے ایک پارک کے علاوہ کوئی دوسری ایسی جگہ نہیں ہے جہاں عوام کو تفریح میسر ہوسکے۔ کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ایک دو پارک موجود ضرور ہیں کیا ان پر بجٹ کی رقم خرچ کرنا ممنوع ہے۔ اسی اثناء میں سرائیکی صوبے کا قیام ازحد ضروری ہے تاکہ وسیب کے لوگ اپنے وسائل اپنی مرضی سے خرچ کر سکیں۔
    آپ کی بات درست ہے

Similar Threads

  1. عشق مجازی سے رہائی کی کوئی صورت نہیں
    By abdul6616 in forum Islamic History aur Waqiat
    Replies: 4
    Last Post: 10th February 2016, 07:59 PM
  2. Replies: 4
    Last Post: 10th April 2015, 03:26 PM
  3. Replies: 50
    Last Post: 29th April 2013, 12:36 PM
  4. Replies: 0
    Last Post: 17th March 2012, 06:56 PM
  5. Replies: 4
    Last Post: 25th December 2009, 08:10 AM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •