Pakistani Urdu Forum for Free IT Education, ITDunya.com  


Home UrduPad EMail FAQ ITD Mobile
Go Back   Pakistani Urdu Forum for Free IT Education, ITDunya.com > Entertainment and Discussions > Khawateen ki dunya
Forgot Password? Join Us!

Khawateen ki dunya Source for women discussion, cooking ideas and recipes, and any related issues

عورت اقبال کی نظر میں
Reply
 
LinkBack Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 20th April 2009, 04:31 PM
imran sdk's Avatar
Advance Member
 
Last Online: 6th June 2014 04:54 PM
Join Date: 16 May 2007
Location: پا&
Age: 30
Posts: 1,810
Started threads: 1129 Started threads
Thanks: 0
Thanked 43 Times in 33 Posts
Thread Starter
Default عورت اقبال کی نظر میں

عورت کے بارے میں اقبال کا نظریہ بالکل اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے وہ عورت کے لئے وہی طرز زندگی پسند کرتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں تھا کہ مروجہ برقعے کے بغیر بھی وہ شرعی پردے کے اہتمام اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کے پورے احساس کے ساتھ زندگی کی تما م سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لیتی ہیں۔ اس لئے طرابلس کی جنگ میں ایک لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تو اس واقعہ سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسی لڑکی کے نام کوہی عنوان بنا کر اپنی مشہو ر نظم لکھی۔

فاطمہ! تو آبرو ئے ملت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر!
ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر!
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھیاقبال کی نظر میں عورت کا ایک مخصوص دائرہ کار ہے۔ اور اسی کے باہر نکل کر اگر وہ ٹائپسٹ ، کلرک اور اسی قسم کے کاموں میں مصروف ہو گی تو اپنے فرائض کو ادا نہیں کرسکے گی۔ اور اسی طرح انسانی معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ البتہ اپنے دائرہ کار میں اسے شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ بھی اسی طریقہ سے زندگی گزارنی چاہیے کہ معاشرہ پر اس کے نیک اثرات مرتب ہوں اور اس کے پرتو سے حریم ِ کائنات اس طرح روشن ہو جس طرح ذاتِ باری تعالی کی تجلی حجاب کے باوجود کائنات پر پڑ رہی ہے

مرد کی برتری
اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف حسین خانروح اقبال میں لکھتے ہیں۔ اقبال کہتا ہے کہ عورت کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہیں جو مرد کو لیکن دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہے دونوں اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ تعاون عمل کرکے تمدن کی خدمت انجام دے سکتے ہیں۔ وہ (اقبال ) مرد اور عورت کی مکمل مساوات کا قائل نہ تھا۔

عورت پر مرد کی برتری کی وجہ اقبال کی نظر میں وہی ہے جو اسلام نے بتائی ہے کہ عورت کا دائرہ کار مرد کی نسبت مختلف ہے اس لحاظ سے ان کے درمیان مکمل مساوات کا نظریہ درست نہیں۔ اس عدم مساوات کا فائدہ بھی بالواسطہ طور پر عورت کو ہی پہنچتا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری مرد پر آتی ہے۔

اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگو ں میں ہے لہو سرد
نے پردہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پرانی
نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیقت کو نہ پایا
اس قوم کا خورشید بہت جلد ہوا زرد

یہی احتیاج اور کمزوری و ہ نکتہ ہے جس کے باعث مر د کو عورت پر کسی قدر برتری حاصل ہے اور یہ تقاضائے فطرت ہے۔ اس کے خلاف عمل کرنے سے معاشرے میں انتشار لازم آتا ہے۔

پردہ

اقبال عورت کے لئے پردہ کے حامی ہیں کیونکہ شرعی پردہ عورت کے کسی سرگرمی میں حائل نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں ایک عورت زندگی کی ہر سرگرمی میں حصہ لے سکتی ہے اور لیتی رہی ہے اسلام میں پردہ کا معیار مروجہ برقعہ ہر گز نہیں ہے اسی برقعہ کے بارے میں کسی شاعر نے بڑ ا اچھا شعر کہا ہے۔

بے حجابی یہ کہ ہر شے سے ہے جلوہ آشکار
اس پہ پردہ یہ کہ صورت آج تک نادید ہے

بلکہ اصل پردہ وہ بے حجابی اور نمود و نمائش سے پرہیز اور شرم و حیا کے مکمل احساس کا نام ہے اور یہ پردہ عورت کے لئے اپنے دائرہ کا ر میں کسی سرگرمی کی رکاوٹ نہیں بنتا۔ اقبال کی نظر میں اصل بات یہ ہے کہ آدمی کی شخصیت اور حقیقت ذات پر پردہ نہ پڑا ہو اور اس کی خودی آشکار ہو چکی ہو۔

بہت رنگ بدلے سپہر بریں نے
خ دایا یہ دنیا جہاں تھی وہیں ہے
تفاوت نہ دیکھا زن و شو میں ، میں نے
وہ خلوت نشیں ہے! یہ خلوت نشیں ہے!
ابھی تک ہے پردے میں اولاد آدم
کسی کی خودی آشکارا نہیں ہے

اس بارے میں پروفیسر عزیز احمد اپنی کتاب اقبال نئی تشکیل میں لکھتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عورت اور مرد دونوں مل کر کائنات عشق کی تخلیق کرتے ہیں عورت زندگی کی آگ کی خازن ہے وہ انسانیت کی آگ میں اپنے آپ کو جھونکتی ہے۔ اور اس آگ کی تپش سے ارتقائ پزیر انسان پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔ اقبال کے نزدیک عورت کو خلوت کی ضرورت ہے اور مرد کو جلوت کی۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال ، عورت کی بے پردگی کے خلاف ہیں ان کے خیال میں پرد ہ میں رہ کر ہی عورت کو اپنی ذات کے امکانات کو سمجھنے کا موقعہ ملتا ہے۔ گھر کے ماحول میں وہ سماجی خرابیوں سے محفوظ رہ کر خاندان کی تعمیر کا فرض ادا کرتی ہے۔ جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اپنے گھر میں وہ یکسوئی کے ساتھ آئند ہ نسل کی تربیت کا اہم فریضہ انجام دیتی ہے اس کے برخلاف جب پردے سے باہر آجاتی ہے تو زیب و زینت ، نمائش ، بے باکی، بے حیائی اور ذہنی پراگندگی کا شکار ہو جاتی ہے چنانچہ یہ فطری اصول ہے کہ عورت کے ذاتی جوہر خلوت میں کھلتے ہیں جلوت میں نہیں۔ خلوت کے عنوان سے ایک نظم میں اقبال نے کہا ہے۔

رسوا کیا اس دور کو جلوت کی ہوس نے
روشن ہے نگہ آئنہ دل ہے مکدر
بڑھ جاتا ہے جب ذوق نظر اپنی حدوں سے
ہو جاتے ہیں افکار پراگندہ و ابتر
آغوش صدف جس کے نصیبوں میں نہیں ہے
وہ قطرہ نیساں کبھی بنتا نہیں گوہر
خلوت میں خودی ہوتی ہے خود گیر و لیکن
خلوت نہیں اب دیر و حرم میں بھی میسر!


عورتوں کی تعلیم

اقبال عورت کے لئے تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس تعلیم کا نصاب ایسا ہونا چاہیے جو عورت کو اس کے فرائض اور اس کی صلاحیتوں سے آگاہ کرے اور اس کی بنیاد دین کے عالمگیر ا صولوں پر ہونی چاہیے۔ صرف دنیاوی تعلیم اور اسی قسم کی تعلیم جو عورت کو نام نہاد آزادی کی جانب راغت کرتی ہو۔ بھیانک نتائج کی حامل ہوگی۔

تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انسان کے لئے اس کا ثمرموت
اس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت

اقبال کے خیال میں اگر علم و ہنر کے میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے تو اس کا مرتبہ کم نہیں ہو جاتا۔ اس کے لئے یہ شرف ہی بہت بڑا ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے مشاہیر اس کی گود میں پروان چڑھتے ہیں اور دنیا کا کوئی انسان نہیں جو اس کا ممنونِ احسان نہ ہو۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں
شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خا ک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کادر مکنوں!
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن!
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

آزادی نسواں

اقبال اگرچہ عورتوں کے لئے صحیح تعلیم ، ان کی حقیقی آزادی اور ان کی ترقی کے خواہاں ہیں۔ لیکن آزادی نسواں کے مغربی تصور کو قبول کرنے کے لئے وہ تیار نہیں ہیں اس آزادی سے ان کی نظر میں عورتوں کی مشکلات آسان نہیں بلکہ اور پیچیدہ ہو جائیں گی۔ اور اس طرح یہ تحریک عورت کو آزاد نہیں بلکہ بے شمار مسائل کا غلام بنا دے گی۔ ثبوت کے طور پر مغربی معاشرہ کی مثال کو وہ سامنے رکھتے ہےں جس نے عورت کو بے بنیاد آزادی دے دی تھی تو اب وہ اس کے لئے درد ِ سر کا باعث بنی ہوئی ہے۔ کہ مرد و زن کا رشتہ بھی کٹ کر رہ گیا ہے۔

ہزار بار حکیموں نے اس کو سلجھایا!
مگر یہ مسئلہ زن رہا وہیں کا وہیں
قصور زن کا نہیں ہے کچھ اس خرابی میں
گواہ اس کی شرافت پہ ہیں مہ پرویں
فساد کا ہے فرنگی معاشرت میں ظہور!
کہ مرد سادہ ہے بےچارہ زن شناس نہیں

اقبال کی نظر میں آزادی نسواں یا آزادی رجال کے نعرے کوئی معنی نہیں رکھتے بلکہ انتہائی گمراہ کن ہیں۔ کیونکہ عورت اور مرد دونوں کو مل کر زندگی کا بوجھ ا ٹھانا ہوتا ہے۔ اور زندگی کو آگے بڑھانے اور سنوارنے کے لئے دونوں کے باہمی تعاون ربط اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے دونوں کے کامل تعاون کے بغیر زندگی کاکام ادھورا اور اس کی رونق پھیکی رہ جاتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کو اپنے فطری حدود میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زندگی کو بنانے سنوارنے کا کام کرنا چاہیے اور ایک دوسرے کا ساتھی ثابت ہونا چاہیے۔ نہ کہ مدمقابل چنانچہ آزادی نسواں کے بارے میں وہ فیصلہ عورت پر ہی چھوڑ تے ہیں کہ وہ خود سوچے کہ اس کے لئے بہتر کیا ہے۔

اس بحث کا کچھ فیصلہ میں کر نہیں کر سکتا
گو خوب سمجھتا ہوں کہ یہ زہر ہے ، وہ قند
کیا فائدہ کچھ کہہ کے بنوں اور بھی معتوب
پہلے ہی خفا مجھ سے ہیں تہذیب کے فرزند
اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں ، معذور ہیں، مردان خرد مند
کیا چیز ہے آرائش و قیمت میں زیادہ
آزادی نسواں کہ زمرد کا گلوبند!

امومیت اور مادری فرائض

اقبال کی نظر میں عورت کی عظمت کا راز اس کے فرض امومیت اور مادری میں پوشیدہ ہے معاشرتی اور سماجی زندگی میں ماں کو مرکز ی حیثیت حاصل ہے۔ اور خاندانوں کی زندگی اسی جذبہ امومیت سے ہی وابستہ ہے۔ ماں کی گود پہلا دبستان ہے جو انسان کو اخلاق اور شرافت کا سبق سکھاتا ہے۔ جس قوم کی مائیں بلند خیال عالی ہمت اور شائستہ و مہذب ہو گی اس قوم کے بچے یقینا اچھا معاشرہ تعمیر کرنے کے قابل بن سکیں گے۔ گھر سے باہر کی زندگی میں مرد کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن گھر کے اندر کی زندگی میں عورت کو فوقیت حاصل ہے۔ کیونکہ اس کے ذمہ نئی نسل کی پرورش ہوتی ہے۔ اور اس نئی نسل کی صحیح پرورش و پرداخت پر قوم کے مسقبل کا دارمدار ہوتا ہے۔ اس لئے عورت کا شرف و امتیاز اس کی ماں ہونے کی وجہ سے ہے۔ جس قوم کی عورتیں فرائض ِ امومت ادا کرنے سے کترانے لگتی ہے اس کا معاشرتی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔ اس کا عائلی نظام انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔ افراد خاندان کے درمیان رشتہ عورت کمزور پڑ جاتا ہے۔ اور اخلاقی خوبیاں دم توڑ دیتی ہیں۔ مغربی تمد ن کی اقدار عالیہ کو اس لئے زوال آگیاہے کہ وہاں کی عورت آزادی کے نام جذبہ امومت سے بھی محروم ہوتی چلی جا رہی ہے۔

کوئی پوچھے حکیم یورپ سے
ہند و یونان ہیں جس کے حلقہ بگوش!
کیا یہی ہے معاشرت کا کمال
مرد بےکار و زن تہی آغوش!

عورتوں کے لئے مغربی تعلیم کی بھی اقبال اسی لئے مخالفت کرتے ہیں کہ اس سے ماں کی مامتا کی روایت کمزور پڑتی ہے اور عورت اپنی فطری خصوصیات سے محروم ہو جاتی ہے۔

اقبال کی نظر میں دنیا کی تمام سرگرمیوں کی اصل ماں کی ذات ہے ، ماں کی ذات امین ممکنات ہوتی ہے اور دنیا کے انقلابات ماﺅں کی گود میں ہی پرور ش پاتے ہیں۔ اسی لئے ماں کی ہستی کسی قوم کے لئے سب سے زیادہ قیمتی متاع ہوتی ہے۔ جو قوم اپنی ماﺅں کی قدر نہیں کرتی اس کا نظام ہستی بہت جلد بکھر جاتا ہے۔

جہاں رامحکمی از ا میات ست
نہاد شان امین ممکنا ت ست
اگر ایں نکتہ را قومی نداند
نظام کروبارش بے ثبات ست

ماں کی ہستی اس قدر بلند مرتبت ہے کہ قوم کہ حال و مسقبل انہی کے فیض سے ترتیب پاتا ہے۔ قوم کی تقدیر بنانے میں ماں کا کردار بنیادی ہے اس لئے عورت کو چاہیے کہ فرض امومیت کی ادائیگی میں اپنی پوری صلاحیتیں صرف کر دی کہ اس کی خودی کا استحکام اسی ذریعہ سے ہوتا ہے۔


__________________
Reply With Quote
  #2  
Old 8th November 2011, 11:52 PM
saaderror's Avatar
Senior Member
 
Last Online: 17th August 2014 02:01 PM
Join Date: 04 Jan 2010
Age: 25
Posts: 211
Started threads: 7 Started threads
Thanks: 0
Thanked 12 Times in 12 Posts
Default

zaberdast
Reply With Quote
  #3  
Old 9th November 2011, 02:43 AM
shabimarwat's Avatar
Advance Member
 
Last Online: 12th December 2013 02:02 AM
Join Date: 20 Oct 2011
Location: Extremely close to your heart
Gender: Male
Posts: 611
Started threads: 24 Started threads
Thanks: 21
Thanked 40 Times in 28 Posts
Default

good yar buhat ache...

thanks for sharing!

M.Shoaib (ITD)
Reply With Quote
  #4  
Old 9th November 2011, 11:47 AM
Advance Member
 
Last Online: 28th July 2014 11:20 PM
Join Date: 09 Mar 2009
Location: jeddaha saudia arabia
Age: 32
Posts: 5,466
Started threads: 3 Started threads
Thanks: 1,896
Thanked 292 Times in 288 Posts
Default

good
Reply With Quote
  #5  
Old 9th November 2011, 01:11 PM
mfranakar's Avatar
Senior Member
 
Last Online: 28th February 2013 05:13 PM
Join Date: 04 Jul 2006
Location: کراچی،شاہ فیصل ٹ
Gender: Male
Posts: 2,727
Started threads: 59 Started threads
Thanks: 41
Thanked 228 Times in 156 Posts
Default

نائس شئیرنگ
__________________
Reply With Quote
  #6  
Old 20th November 2011, 09:13 PM
Princesahil's Avatar
Advance Member
 
Last Online: 24th June 2014 01:21 PM
Join Date: 29 Jul 2010
Location: JHeLuM
Gender: Male
Posts: 2,954
Started threads: 167 Started threads
Thanks: 61
Thanked 268 Times in 174 Posts
Default

ThanXxx.
__________________
Reply With Quote
  #7  
Old 26th November 2011, 01:24 PM
Senior Member
 
Last Online: Yesterday 06:30 PM
Join Date: 10 Jul 2011
Age: 19
Gender: Male
Posts: 499
Started threads: 55 Started threads
Thanks: 1
Thanked 17 Times in 16 Posts
Default

great sharing. Keep it up
Reply With Quote
  #8  
Old 14th January 2012, 03:05 PM
Banned
 
Last Online: 24th January 2012 05:24 PM
Join Date: 14 Jan 2012
Gender: Female
Posts: 64
Started threads: 3 Started threads
Thanks: 0
Thanked 4 Times in 4 Posts
Default

true..
Reply With Quote
  #9  
Old 16th January 2012, 09:04 AM
fawadnizam's Avatar
Advance Member
 
Last Online: Today 01:37 PM
Join Date: 01 Nov 2011
Location: Peshawar KPK
Age: 28
Gender: Male
Posts: 687
Started threads: 33 Started threads
Thanks: 22
Thanked 31 Times in 29 Posts
Default

nice
__________________
Reply With Quote
  #10  
Old 17th January 2012, 09:50 PM
Meena Nawaz's Avatar
Advance Member
 
Last Online: 11th December 2013 06:20 AM
Join Date: 13 Nov 2011
Gender: Female
Posts: 2,016
Started threads: 95 Started threads
Thanks: 167
Thanked 156 Times in 119 Posts
Default

nice sharing
Reply With Quote
  #11  
Old 24th January 2012, 02:14 PM
waqasahmad1's Avatar
Advance Member
 
Last Online: 29th April 2014 02:30 PM
Join Date: 27 Nov 2010
Location: Lahore
Gender: Male
Posts: 8,083
Started threads: 280 Started threads
Thanks: 539
Thanked 599 Times in 481 Posts
Default

__________________
Reply With Quote
  #12  
Old 16th February 2012, 05:57 PM
qqk qqk is offline
Senior Member
 
Last Online: 22nd July 2014 05:38 PM
Join Date: 12 Apr 2009
Posts: 142
Started threads: 6 Started threads
Thanks: 0
Thanked 2 Times in 2 Posts
Default

nice sharing
Reply With Quote
Reply

Bookmarks


(View-All Members who have read this thread in the last 15 days : 3
Faheem sadiq, FarooqSheikh, nnaveed
Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is On
HTML code is Off
Trackbacks are On
Pingbacks are Off
Refbacks are Off


Similar Threads
Thread Thread Starter Forum Replies Last Post
~~~اندھیرے میں نظر آنے والا کی بورڈ متعارف~~~ Bahadar Computer Articles 41 2nd January 2014 08:36 AM
مغربی و مشرقی حکومتیں ' سیکولر نظام ڈھونگ imran sdk Halat-e-Hazra 3 9th May 2013 02:54 AM
چین اور بھارت نئی عالمی طاقتوں کے روپ میں MR FARHAN General Discussion 1 27th May 2010 12:00 PM
بدنظری کے 14 نقصانات اور معرفت الٰہیہ۔ Rahmat Ullah kk Ask an Expert 6 6th April 2010 11:20 PM
زرداری اختیارات کی منتقلی کے بعد وزیراعظم Aasi_786 Halat-e-Hazra 6 6th December 2009 02:20 PM


All times are GMT +5. The time now is 10:40 PM.


Powered by vBulletin® Version 3.8.7
Copyright 2005 - 2014, ITDunya All rights reserved, No Portion May be Reproduced Without Written Permission from ITD Management.

Search Engine Optimization by vBSEO ©2011, Crawlability, Inc.