Results 1 to 4 of 4

Thread: Shahzadon ki Eid

  1. #1
    Alone Men's Avatar
    Alone Men is offline Senior Member+
    Last Online
    30th July 2019 @ 09:07 PM
    Join Date
    28 Jun 2019
    Location
    G-9/2,Islamabad
    Age
    36
    Gender
    Male
    Posts
    228
    Threads
    21
    Credits
    1,266
    Thanked
    25

    Thumbs up Shahzadon ki Eid


    ┈┈┈┈✦✿✦┈┈┈┈
    شہزادوں کی عید
    ┈┈┈┈✦✿✦┈┈┈┈

    امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ خلافت کا کام کر کے اپنے گھر آے اور آرام کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ بیوی نے غمگین لہجے میں کہا امیر المومنین اگلے ہفتے عید آرہی ہے بچہ نئی پو شاک کے لئے بہت بے چین ہے ابھی روتے ہوے سویا ہے حضرت عمر بن عبد العزیز نے سر جھکا کر فر مایا تمھیں تو معلوم ہے کہ مجھے تو صرف سودرہم ماہوار ملتے ہیں جس میں گھر کا خر چہ بڑی مشکل سے پورا ہوتا ہے ،، بیوی وہ تو میں سمھجتی ہوں آپ بیت المال سے قرض لے لیں حضرت عمر بن عبد العزیز نے فر مایا بیت المال تو صرف غریبوں یتیموں فقیروں کا حق ہے میں تو صرف اس کا امین ہوں بیوی بولی بے شک میرے سرتاج آپ کی بات سچ ہے مگر بچہ تو نا سمجھ ہے اس کے آنسو نہیں دیکھے جاتے حضرت ابن عبد العزیز بولے اگر تمھارے پاس کوئی چیز ہے اسے فروخت کر دو بچے کی خوشی پوری ہو جاے گی
    بیوی بولی امیر المو منین میرے تمام زیورات آپ نے بیت المال میں جمع کر ادیئے ہیں۔ بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ،، امیر المومنین نے سر جھکا لیا بڑی دیر تک سوچتے رہے
    اپنے ماضی میں جھانکنے لگے وہ بچپن جوانی خوش پوشی نفاست جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کاموقعہ نہ ملا جس راستے سے گزرتے خوشبووں سے معطر ہو جاتا ،
    یہ سوچتے سوچتے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگے ،،
    بیوی نے اپنے ہر دل عزیز شوہر کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو کہنے لگی مجھے معاف کر دیں
    میری وجہ سے آپ پریشان ہو گے فر مایا کوئی بات نہیں پھر حضرت ابن عبد العزیز نے بیت المال کے نگران کے لے ایک خط لکھ کر اپنے ملازم کو دیا اور فر مایا ابھی جاو یہ خط نگران کو دے کر آو اس میں لکھا تھا مجھے ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی بھیج دو ملازم نے جوابی خط لا کر امیر المومنین کو دیا جس میں لکھا تھا اے خلیفۃ المسلمین آپ کے حکم کی تعمیل سر آنکھوں پر لیکن کیا آپ کو معلوم ہے آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں ،،جب یہ آپ کو معلوم نہیں تو پھر غریبوں کے مال کی حق تلفی کیوں پیشگی اپنی گردن پہ رکھتے ہیں ،، آپ نے جواب پڑھا تو رونے لگے فر مایا نگران نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔
    اگلے ہفتے دمشق کے لوگوں نے دیکھا امرا کے بچے نئے حسین کپڑے پہن کر عید گاہ جارہے تھے مگر امیر المومنین کے بچے پرانے دھلے ہوے کپڑوں میں ملبوس اپنے والد کا ہاتھ پکڑے عید گاہ جارہے تھے بچوں کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے تھے کیو نکہ آج ان کی نظر فانی دنیا کی وقتی خوشی پر نہیں بلکہ جنت کی ابدی تمنا کے احساس نے انہیں سر شار کر دیا تھا۔
    ┈┈┈┈✦✿✦┈┈┈┈

  2. #2
    Rashid Jaan's Avatar
    Rashid Jaan is offline Advance Member
    Last Online
    9th February 2021 @ 09:47 AM
    Join Date
    18 Oct 2016
    Location
    Ghotki Sindh
    Age
    23
    Gender
    Male
    Posts
    1,509
    Threads
    89
    Credits
    8,834
    Thanked
    84

    Default

    جزاک اللہ

  3. #3
    Salmanssss's Avatar
    Salmanssss is offline Moderator
    Last Online
    25th August 2021 @ 12:14 PM
    Join Date
    10 May 2014
    Location
    Karachi
    Gender
    Male
    Posts
    2,470
    Threads
    210
    Credits
    6,082
    Thanked
    540

    Default

    Quote Alone Men said: View Post

    •┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈•
    شہزادوں کی عید
    •┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈•

    امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ خلافت کا کام کر کے اپنے گھر آے اور آرام کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ بیوی نے غمگین لہجے میں کہا امیر المومنین اگلے ہفتے عید آرہی ہے بچہ نئی پو شاک کے لئے بہت بے چین ہے ابھی روتے ہوے سویا ہے حضرت عمر بن عبد العزیز نے سر جھکا کر فر مایا تمھیں تو معلوم ہے کہ مجھے تو صرف سودرہم ماہوار ملتے ہیں جس میں گھر کا خر چہ بڑی مشکل سے پورا ہوتا ہے ،، بیوی وہ تو میں سمھجتی ہوں آپ بیت المال سے قرض لے لیں حضرت عمر بن عبد العزیز نے فر مایا بیت المال تو صرف غریبوں یتیموں فقیروں کا حق ہے میں تو صرف اس کا امین ہوں بیوی بولی بے شک میرے سرتاج آپ کی بات سچ ہے مگر بچہ تو نا سمجھ ہے اس کے آنسو نہیں دیکھے جاتے حضرت ابن عبد العزیز بولے اگر تمھارے پاس کوئی چیز ہے اسے فروخت کر دو بچے کی خوشی پوری ہو جاے گی
    بیوی بولی امیر المو منین میرے تمام زیورات آپ نے بیت المال میں جمع کر ادیئے ہیں۔ بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ،، امیر المومنین نے سر جھکا لیا بڑی دیر تک سوچتے رہے
    اپنے ماضی میں جھانکنے لگے وہ بچپن جوانی خوش پوشی نفاست جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کاموقعہ نہ ملا جس راستے سے گزرتے خوشبووں سے معطر ہو جاتا ،
    یہ سوچتے سوچتے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگے ،،
    بیوی نے اپنے ہر دل عزیز شوہر کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو کہنے لگی مجھے معاف کر دیں
    میری وجہ سے آپ پریشان ہو گے فر مایا کوئی بات نہیں پھر حضرت ابن عبد العزیز نے بیت المال کے نگران کے لے ایک خط لکھ کر اپنے ملازم کو دیا اور فر مایا ابھی جاو یہ خط نگران کو دے کر آو اس میں لکھا تھا مجھے ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی بھیج دو ملازم نے جوابی خط لا کر امیر المومنین کو دیا جس میں لکھا تھا اے خلیفۃ المسلمین آپ کے حکم کی تعمیل سر آنکھوں پر لیکن کیا آپ کو معلوم ہے آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں ،،جب یہ آپ کو معلوم نہیں تو پھر غریبوں کے مال کی حق تلفی کیوں پیشگی اپنی گردن پہ رکھتے ہیں ،، آپ نے جواب پڑھا تو رونے لگے فر مایا نگران نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔
    اگلے ہفتے دمشق کے لوگوں نے دیکھا امرا کے بچے نئے حسین کپڑے پہن کر عید گاہ جارہے تھے مگر امیر المومنین کے بچے پرانے دھلے ہوے کپڑوں میں ملبوس اپنے والد کا ہاتھ پکڑے عید گاہ جارہے تھے بچوں کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے تھے کیو نکہ آج ان کی نظر فانی دنیا کی وقتی خوشی پر نہیں بلکہ جنت کی ابدی تمنا کے احساس نے انہیں سر شار کر دیا تھا۔
    •┈┈┈┈••✦✿✦••┈┈┈┈•
    سبحان اللّٰہ
    کیا خوب خلافت کا دور تھا، کتنے اچھے اور بہترین خلیفہ ہوتے تھے، اِس میں اسلام کا حُسن نظر آتا ہے، غریبوں یتیموں کی کتنی فکر تھی، یہ واقعہ پڑھکر دل رونے لگتاہے
    آپ کا بہت شکریہ آپ نے سب کے ساتھ شیئر کیا
    جزاک اللّٰہ خیرا
    One Vision One Standard

  4. #4
    leezuka389's Avatar
    leezuka389 is offline Advance Member
    Last Online
    20th September 2021 @ 02:42 PM
    Join Date
    04 Nov 2015
    Gender
    Male
    Posts
    6,132
    Threads
    39
    Credits
    49,963
    Thanked
    294

    Default

    [QUOTE=Alone Men;5944316]

    ┈┈┈┈✦✿✦┈┈┈┈
    شہزادوں کی عید
    ┈┈┈┈✦✿✦┈┈┈┈

    امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ خلافت کا کام کر کے اپنے گھر آے اور آرام کرنے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ بیوی نے غمگین لہجے میں کہا امیر المومنین اگلے ہفتے عید آرہی ہے بچہ نئی پو شاک کے لئے بہت بے چین ہے ابھی روتے ہوے سویا ہے حضرت عمر بن عبد العزیز نے سر جھکا کر فر مایا تمھیں تو معلوم ہے کہ مجھے تو صرف سودرہم ماہوار ملتے ہیں جس میں گھر کا خر چہ بڑی مشکل سے پورا ہوتا ہے ،، بیوی وہ تو میں سمھجتی ہوں آپ بیت المال سے قرض لے لیں حضرت عمر بن عبد العزیز نے فر مایا بیت المال تو صرف غریبوں یتیموں فقیروں کا حق ہے میں تو صرف اس کا امین ہوں بیوی بولی بے شک میرے سرتاج آپ کی بات سچ ہے مگر بچہ تو نا سمجھ ہے اس کے آنسو نہیں دیکھے جاتے حضرت ابن عبد العزیز بولے اگر تمھارے پاس کوئی چیز ہے اسے فروخت کر دو بچے کی خوشی پوری ہو جاے گی
    بیوی بولی امیر المو منین میرے تمام زیورات آپ نے بیت المال میں جمع کر ادیئے ہیں۔ بلکہ میرا قیمتی ہار بھی جو میرے والد نے مجھے تحفہ دیا تھا آپ نے وہ بھی جمع کر وادیا اب تو میرے پاس آپ کی محبت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ،، امیر المومنین نے سر جھکا لیا بڑی دیر تک سوچتے رہے
    اپنے ماضی میں جھانکنے لگے وہ بچپن جوانی خوش پوشی نفاست جو لباس ایک بار پہنا دوبارہ پہننے کاموقعہ نہ ملا جس راستے سے گزرتے خوشبووں سے معطر ہو جاتا ،
    یہ سوچتے سوچتے آنکھوں سے آنسو جاری ہوگے ،،
    بیوی نے اپنے ہر دل عزیز شوہر کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو کہنے لگی مجھے معاف کر دیں
    میری وجہ سے آپ پریشان ہو گے فر مایا کوئی بات نہیں پھر حضرت ابن عبد العزیز نے بیت المال کے نگران کے لے ایک خط لکھ کر اپنے ملازم کو دیا اور فر مایا ابھی جاو یہ خط نگران کو دے کر آو اس میں لکھا تھا مجھے ایک ماہ کی تنخواہ پیشگی بھیج دو ملازم نے جوابی خط لا کر امیر المومنین کو دیا جس میں لکھا تھا اے خلیفۃ المسلمین آپ کے حکم کی تعمیل سر آنکھوں پر لیکن کیا آپ کو معلوم ہے آپ ایک ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں ،،جب یہ آپ کو معلوم نہیں تو پھر غریبوں کے مال کی حق تلفی کیوں پیشگی اپنی گردن پہ رکھتے ہیں ،، آپ نے جواب پڑھا تو رونے لگے فر مایا نگران نے مجھے ہلاکت سے بچالیا۔
    اگلے ہفتے دمشق کے لوگوں نے دیکھا امرا کے بچے نئے حسین کپڑے پہن کر عید گاہ جارہے تھے مگر امیر المومنین کے بچے پرانے دھلے ہوے کپڑوں میں ملبوس اپنے والد کا ہاتھ پکڑے عید گاہ جارہے تھے بچوں کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے تھے کیو نکہ آج ان کی نظر فانی دنیا کی وقتی خوشی پر نہیں بلکہ جنت کی ابدی تمنا کے احساس نے انہیں سر شار کر دیا تھا۔
    ┈┈┈┈✦✿✦┈┈┈┈
    [/QUOTE



    ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •