Results 1 to 4 of 4

Thread: عراق سے مکہ مکرمہ تک تاریخی حج شاہراہ - درب ز

  1. #1
    malateef is offline Senior Member+
    Last Online
    Today @ 07:05 AM
    Join Date
    10 Dec 2019
    Location
    Jeddah, KSA
    Gender
    Male
    Posts
    222
    Threads
    17
    Credits
    1,044
    Thanked
    33

    Default عراق سے مکہ مکرمہ تک تاریخی حج شاہراہ - درب ز

    اسلامی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے حج مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے تب سے حاجیوں کے قافلے مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ آ رہے ہیں۔
    ماضی قدیم میں حج شاہراہیں تعمیر کی گئیں ان کے اطراف کاروباری مراکز قائم ہوئے۔ حج شاہراہیں ایک عرصے تک مختلف اقوام و ممالک کی ثقافتوں اور تجربوں کے تبادلےاور منتقلی کا ذریعہ بنی رہیں۔
    تاریخ کی کتابوں میں 7 بڑی حج شاہراہوں کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں سے "درب زبیدہ"، عراق سے مکہ مکرمہ، "درب المصری" مصر سے مکہ مکرمہ، "درب الشامی" ، شام سے مکہ مکرمہ قابل ذکر ہیں۔ یہ اسلامی ریاست کے مختلف حصوں سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک بنائی گئی تھیں۔
    درب زبیدہ (درب الحاج العراقی)
    حج شاہراہوں میں سب سے زیادہ مشہور درب زبیدہ ہے جس کو الکوفہ، مکہ مکرمہ شاہراہ بھی کہتے ہیں ۔ یہ اسلامی تاریخ میں سب سے اہم حج و تجارتی شاہراہ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ اسے عراقی حج شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔ عربی میں اس کا نام درب الحاج العراقی ہے۔ عراقی حج شاہراہ درب الحاج العراقی اوردرب زبیدہ کے نام سے مشہور ہے۔
    یہ سلطنت عثمانیہ کے قیام تک اسلامی دنیا میں مشہور ترین حج شاہراہ مانی جاتی رہی ہے۔
    یہ شاہراہ عالم اسلام میں رونما ہونے والی ثقافتی اور تمدنی تبدیلیوں کی شاہد ہے۔
    درب زبیدہ پر حج ، عمرہ، زیارت اور تجارت کے لیے سفر کرنے والوں کی سہولت کی خاطر بہت سارے نتظامات کیے گئے تھے۔ ان میں سے متعدد سفری اداروں کے نقوش آج بھی موجود ہیں۔
    درب زبیدہعباسی خلیفہ ،ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ بنت جعفر سے منسوب ہے جنہوں نے کوفہ سے مکہ تک جانے والی اس شاہراہ پر فلاحی خدمات کا انتظام کیا تھا اور بہت سے مسافر خانے تعمیر کرائے تھے، کنویں کھدوائے، حتی کہ حاجیوں کی سہولت کیلئے نہر تعمیر کروائی جوکہ عرفات، مزدلفہ اور منی میں حاجیوں کو مستفید کرتی تھی ۔ یہ نہر 1344 ہجری میں ایک بڑے سیلاب اور اسوقت کی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے بند ہوگئی۔
    پہلے عباسی خلیفہ نے 134ھ میں شاہراہ کی علامتیں بنوائیں۔ 14ویں صدی ہجری کے نصف ثانی میں سفری وسائل کی تبدیلی کے باعث اس سڑک کی اہمیت ختم ہوگئی۔
    عباسی ریاست کے قیام کے 2 برس بعد اس شاہراہ پر کام شروع ہوا تھا۔ عبداللہ ابو العباس السفاح نے اس شاہراہ پر میلوں کی علامتیں لگوائیں۔مینارے تعمیر کرائے،حاجیوں کی آسانی کےلیے آگ روشن کی جاتی تھی۔
    مہدی نے 161ھ میں شاہراہ پر بہت کام کرایا۔ مہدی کے لیے عراق سے مکہ مکرمہ،برف پہنچائی جاتی تھی۔ مامون الرشید نے اس شاہراہ پر شجر کاری کرائی ۔
    المقتدر العباسی اور عضدالدولہ نے بھی اس شاہراہ کی خدمت کی۔ بویہی اور سلجوقی بھی حج شاہراہ کے خدام شمار کئے جاتے ہیں۔ عباسی خلفا نے حج شاہراہ کے منتظمین مقرر کئے۔ کوفہ مکہ مکرمہ حج شاہراہ 1300کلومیٹر لمبی تھی۔ اس شاہراہ کی دسیوں منزلیں تھیں ۔اِن میں القاع،زبالہ،الشقوق، الربزہ اور بستان بن عمر قابل ذکر ہیں۔
    عباسی خلیفہ بغداد سے مکہ مکرمہ کےلیے حج قافلے بھیجا کرتے تھے۔ انہوں نے عراقی محمل (خانہ کعبہ کے لیے تحائف لانے والے اونٹ کو محمل کہا جاتا تھا) کا رواج قائم کیا۔ عباسی خلافت کے پہلے دور میں عراقی محمل سے زیادہ شاندار محمل کہیں کا نہ ہوتا تھا۔ اونٹ کو ریشم سے سجایا جاتا تھا۔ سونے اور موتی سے آراستہ کیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ کی سجاوٹ پر ڈھائی لاکھ دینار خرچ ہوتے تھے۔
    "درب شامی" یعنی شامی حج شاہراہ کے قیام نے درب زبیدہ کی قدر ومنزلت کم کر دی تھی۔
    درب زبیدہ اسلام سے قبل تجارتی شاہراہ ہواکرتی تھی۔ اسلام کی آمد پر خلافت راشدہ اور خلافت امویہ میں اس کی اہمیت بڑھنا شروع ہوئی۔ عباسی خلافت کے عہد اول میں ' نقطہ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ عباسی خلافت کے زمانے میں اس پر مسافر خانے اور آرام گھر کثیر تعداد میں بنائے گئے۔ درب زبیدہ پر سٹیشن قائم کئے گئے، کنویں ،تالاب،ڈیمز،محل،گھر ،حویلیاں اور طرح طرح کی سہولتیں مہیا کی گئیں۔
    حج قافلوں کی حفاظت کے لیے عراق سے مکہ تک قلعے تعمیر کیے گئے، چھاونیاں بنائی گئیں ۔درب زبیدہ کا نقشہ منفرد سائنٹیفک فن تعمیر کا شاہکار تھا۔
    جہاں جہاں شاہراہ کے راستے میں ریتیلی زمین پڑتی تھی وہاں اس کی استرکاری میں پتھر استعمال کئے گئے۔ شاہراہ پر علامتیں نصب کی گئیں۔ مسافروں کی رہنمائی کے لیے الاؤ جلائے جاتے تھے۔
    عراق اور شام کے کئی علاقوں کے عازمین حج درب زبیدہ سے مقدس مقامات کا سفر کیاکرتے تھے۔اسلامی عہد میں بھی تجارتی قافلے اس شاہراہ کے راستے تجارتی سامان لاتےلے جاتے رہے۔ ایسا سامان لاتے لے جاتے جو حج موسم میں زیادہ طلب کیا جاتا تھا۔
    درب زبیدہ کے کھنڈر آج بھی اسلامی تاریخ میں اس شاہراہ کی عظیم ثقافتی اور تمدنی حیثیت کی گواہی دے رہے ہیں۔
    درب زبیدہ کے اطراف تاریخی کنوئیں ، تالاب اور مسافر خانے پھیلے ہوئے ہیں۔ الطفیری تالاب، العمیاء تالاب اور القاع تالاب ،رفحاء کے شمال میں واقع ہیں۔
    ابن خردازبہ،ابن رستہ، الیعقوبی ،المقدسی ،الجدانی ،الحربی،ابن جفیر اور ابن بطوطہ جیسے مسلم تاریخ نویسوں اورممتازمغربی سیاحوں نے 19ویں اور 20 ویں صدی عیسوی میںدرب زبیدہ سے سفر کیااور اس سے متعلق اپنے مشاہدات قلمبند کیے۔
    تاریخی حوالہ جات بتاتے ہیں کہ درب زبیدہ کا بڑا ہدف خلافت عباسیہ کے دار الخلافہ بغداد سے لیکر مکہ مکرمہ تک حج زائرین کو سہولت پہنچانا تھا۔ اس کا مقصد 1400کلو میڑ سے طویل علاقے میں تجارتی لین دین ،رسم ورواج،عادات و اطوار اور ثقافتی اقدار کو مالا مال کرنا تھا۔
    درب زبیدہ پر حاجیوں کی رہنمائی کے لیے راستے کی علامتیں لگائی گئیں تھیں۔شاہراہ پر پانی کے انتظامات کے لئے تالاب کا جال نہایت سوچ سمجھ کر بچھایا گیا۔تالابوں کےلیے جگہ،اور فاصلے کا انتخاب،زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر کیا گیا۔حاجیوں کی ضرورت اور سہولت پیش نظر رکھی گئی۔درب زبیدہ کے تالابوں کی چین پہاڑوں ،اونچے مقامات ،نشیبی علاقوں اور نامانوس جگہوں سے گزرتی ہے۔
    Attached Images Attached Images          

  2. The Following User Says Thank You to malateef For This Useful Post:

    Baazigar (12th September 2020)

  3. #2
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    21,664
    Threads
    285
    Credits
    98,477
    Thanked
    970

    Default

    Quote malateef said: View Post
    اسلامی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جب سے حج مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے تب سے حاجیوں کے قافلے مختلف راستوں سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ آ رہے ہیں۔
    ماضی قدیم میں حج شاہراہیں تعمیر کی گئیں ان کے اطراف کاروباری مراکز قائم ہوئے۔ حج شاہراہیں ایک عرصے تک مختلف اقوام و ممالک کی ثقافتوں اور تجربوں کے تبادلےاور منتقلی کا ذریعہ بنی رہیں۔
    تاریخ کی کتابوں میں 7 بڑی حج شاہراہوں کا ذکر ملتا ہے۔ ان میں سے "درب زبیدہ"، عراق سے مکہ مکرمہ، "درب المصری" مصر سے مکہ مکرمہ، "درب الشامی" ، شام سے مکہ مکرمہ قابل ذکر ہیں۔ یہ اسلامی ریاست کے مختلف حصوں سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک بنائی گئی تھیں۔
    درب زبیدہ (درب الحاج العراقی)
    حج شاہراہوں میں سب سے زیادہ مشہور درب زبیدہ ہے جس کو الکوفہ، مکہ مکرمہ شاہراہ بھی کہتے ہیں ۔ یہ اسلامی تاریخ میں سب سے اہم حج و تجارتی شاہراہ کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے۔ اسے عراقی حج شاہراہ بھی کہا جاتا ہے۔ عربی میں اس کا نام درب الحاج العراقی ہے۔ عراقی حج شاہراہ ’درب الحاج العراقی‘ اور’درب زبیدہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔
    یہ سلطنت عثمانیہ کے قیام تک اسلامی دنیا میں مشہور ترین حج شاہراہ مانی جاتی رہی ہے۔
    یہ شاہراہ عالم اسلام میں رونما ہونے والی ثقافتی اور تمدنی تبدیلیوں کی شاہد ہے۔
    درب زبیدہ‘ پر حج ، عمرہ، زیارت اور تجارت کے لیے سفر کرنے والوں کی سہولت کی خاطر بہت سارے نتظامات کیے گئے تھے۔ ان میں سے متعدد سفری اداروں کے نقوش آج بھی موجود ہیں۔
    ’درب زبیدہ‘عباسی خلیفہ ،ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ بنت جعفر سے منسوب ہے جنہوں نے کوفہ سے مکہ تک جانے والی اس شاہراہ پر فلاحی خدمات کا انتظام کیا تھا اور بہت سے مسافر خانے تعمیر کرائے تھے، کنویں کھدوائے، حتی کہ حاجیوں کی سہولت کیلئے نہر تعمیر کروائی جوکہ عرفات، مزدلفہ اور منی میں حاجیوں کو مستفید کرتی تھی ۔ یہ نہر 1344 ہجری میں ایک بڑے سیلاب اور اسوقت کی حکومت کی لاپرواہی کی وجہ سے بند ہوگئی۔
    پہلے عباسی خلیفہ نے 134ھ میں شاہراہ کی علامتیں بنوائیں۔ 14ویں صدی ہجری کے نصف ثانی میں سفری وسائل کی تبدیلی کے باعث اس سڑک کی اہمیت ختم ہوگئی۔
    عباسی ریاست کے قیام کے 2 برس بعد اس شاہراہ پر کام شروع ہوا تھا۔ عبداللہ ابو العباس السفاح نے اس شاہراہ پر میلوں کی علامتیں لگوائیں۔مینارے تعمیر کرائے،حاجیوں کی آسانی کےلیے آگ روشن کی جاتی تھی۔
    مہدی نے 161ھ میں شاہراہ پر بہت کام کرایا۔ مہدی کے لیے عراق سے مکہ مکرمہ،برف پہنچائی جاتی تھی۔ مامون الرشید نے اس شاہراہ پر شجر کاری کرائی ۔
    المقتدر العباسی اور عضدالدولہ نے بھی اس شاہراہ کی خدمت کی۔ بویہی اور سلجوقی بھی حج شاہراہ کے خدام شمار کئے جاتے ہیں۔ عباسی خلفا نے حج شاہراہ کے منتظمین مقرر کئے۔ کوفہ مکہ مکرمہ حج شاہراہ 1300کلومیٹر لمبی تھی۔ اس شاہراہ کی دسیوں منزلیں تھیں ۔اِن میں القاع،زبالہ،الشقوق، الربزہ اور بستان بن عمر قابل ذکر ہیں۔
    عباسی خلیفہ بغداد سے مکہ مکرمہ کےلیے حج قافلے بھیجا کرتے تھے۔ انہوں نے عراقی محمل (خانہ کعبہ کے لیے تحائف لانے والے اونٹ کو محمل کہا جاتا تھا) کا رواج قائم کیا۔ عباسی خلافت کے پہلے دور میں عراقی محمل سے زیادہ شاندار محمل کہیں کا نہ ہوتا تھا۔ اونٹ کو ریشم سے سجایا جاتا تھا۔ سونے اور موتی سے آراستہ کیا جاتا تھا۔ ایک مرتبہ کی سجاوٹ پر ڈھائی لاکھ دینار خرچ ہوتے تھے۔
    "درب شامی" یعنی شامی حج شاہراہ کے قیام نے ’درب زبیدہ‘ کی قدر ومنزلت کم کر دی تھی۔
    ’درب زبیدہ‘ اسلام سے قبل تجارتی شاہراہ ہواکرتی تھی۔ اسلام کی آمد پر خلافت راشدہ اور خلافت امویہ میں اس کی اہمیت بڑھنا شروع ہوئی۔ عباسی خلافت کے عہد اول میں ' نقطہ عروج کو پہنچ گئی تھی۔ عباسی خلافت کے زمانے میں اس پر مسافر خانے اور آرام گھر کثیر تعداد میں بنائے گئے۔ ’درب زبیدہ‘ پر سٹیشن قائم کئے گئے، کنویں ،تالاب،ڈیمز،محل،گھر ،حویلیاں اور طرح طرح کی سہولتیں مہیا کی گئیں۔
    حج قافلوں کی حفاظت کے لیے عراق سے مکہ تک قلعے تعمیر کیے گئے، چھاونیاں بنائی گئیں ۔’درب زبیدہ‘ کا نقشہ منفرد سائنٹیفک فن تعمیر کا شاہکار تھا۔
    جہاں جہاں شاہراہ کے راستے میں ریتیلی زمین پڑتی تھی وہاں اس کی استرکاری میں پتھر استعمال کئے گئے۔ شاہراہ پر علامتیں نصب کی گئیں۔ مسافروں کی رہنمائی کے لیے الاؤ جلائے جاتے تھے۔
    عراق اور شام کے کئی علاقوں کے عازمین حج ’درب زبیدہ‘ سے مقدس مقامات کا سفر کیاکرتے تھے۔اسلامی عہد میں بھی تجارتی قافلے اس شاہراہ کے راستے تجارتی سامان لاتےلے جاتے رہے۔ ایسا سامان لاتے لے جاتے جو حج موسم میں زیادہ طلب کیا جاتا تھا۔
    ’درب زبیدہ‘ کے کھنڈر آج بھی اسلامی تاریخ میں اس شاہراہ کی عظیم ثقافتی اور تمدنی حیثیت کی گواہی دے رہے ہیں۔
    ’درب زبیدہ‘ کے اطراف تاریخی کنوئیں ، تالاب اور مسافر خانے پھیلے ہوئے ہیں۔ الطفیری تالاب، العمیاء تالاب اور القاع تالاب ،رفحاء کے شمال میں واقع ہیں۔
    ابن خردازبہ،ابن رستہ، الیعقوبی ،المقدسی ،الجدانی ،الحربی،ابن جفیر اور ابن بطوطہ جیسے مسلم تاریخ نویسوں اورممتازمغربی سیاحوں نے 19ویں اور 20 ویں صدی عیسوی میں’درب زبیدہ‘ سے سفر کیااور اس سے متعلق اپنے مشاہدات قلمبند کیے۔
    تاریخی حوالہ جات بتاتے ہیں کہ ’درب زبیدہ‘ کا بڑا ہدف خلافت عباسیہ کے دار الخلافہ بغداد سے لیکر مکہ مکرمہ تک حج زائرین کو سہولت پہنچانا تھا۔ اس کا مقصد 1400کلو میڑ سے طویل علاقے میں تجارتی لین دین ،رسم ورواج،عادات و اطوار اور ثقافتی اقدار کو مالا مال کرنا تھا۔
    درب زبیدہ‘ پر حاجیوں کی رہنمائی کے لیے راستے کی علامتیں لگائی گئیں تھیں۔شاہراہ پر پانی کے انتظامات کے لئے تالاب کا جال نہایت سوچ سمجھ کر بچھایا گیا۔تالابوں کےلیے جگہ،اور فاصلے کا انتخاب،زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر کیا گیا۔حاجیوں کی ضرورت اور سہولت پیش نظر رکھی گئی۔’درب زبیدہ‘ کے تالابوں کی چین پہاڑوں ،اونچے مقامات ،نشیبی علاقوں اور نامانوس جگہوں سے گزرتی ہے۔
    جزاك الله كل خير

  4. #3
    malateef is offline Senior Member+
    Last Online
    Today @ 07:05 AM
    Join Date
    10 Dec 2019
    Location
    Jeddah, KSA
    Gender
    Male
    Posts
    222
    Threads
    17
    Credits
    1,044
    Thanked
    33

    Default

    Quote Baazigar said: View Post

    جزاك الله كل خير
    آپکا بہت بہت شکریہ

  5. The Following User Says Thank You to malateef For This Useful Post:

    Baazigar (13th September 2020)

  6. #4
    Join Date
    16 Aug 2009
    Location
    Makkah , Saudia
    Gender
    Male
    Posts
    21,664
    Threads
    285
    Credits
    98,477
    Thanked
    970

    Default

    Quote malateef said: View Post


    آپکا بہت بہت شکریہ
    نوازش

Similar Threads

  1. Replies: 20
    Last Post: 15th October 2018, 02:29 PM
  2. Replies: 5
    Last Post: 19th May 2015, 08:55 PM
  3. Replies: 3
    Last Post: 9th September 2011, 11:26 PM
  4. Replies: 3
    Last Post: 21st February 2011, 07:33 AM
  5. Replies: 1
    Last Post: 21st November 2009, 11:51 AM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •