السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ


بچوں كو روزہ ركھنے كى عادت ڈالنے كے ليے درج ذيل امور كو ديكھنا چاہيے:

1 ـ انہيں روزے كے فضائل كى احاديث سنائى جائيں، اور يہ بتايا جائے كہ روزہ ركھنا جنت ميں داخل ہونے كا باعث بنتا ہے اور جنت ميں ايك مخصوص دروازہ ہے جس سے صرف روزے دار ہى جنت ميں داخل ہونگے، اس كا نام باب الريان ہے.

2 ـ رمضان سے قبل ہى روزہ ركھنے كى عادت ڈالى جائے مثلا شعبان كے مہينہ ميں كچھ روزے ركھوائے جائيں؛ تا كہ انہيں رمضان المبارك ميں اچانك روزوں كا سامنا نہ كرنا پڑے.

3 ـ شروع ميں دن كے كچھ حصہ كا روزہ ركھوايا جائے، اور آہستہ آہستہ اس ميں اضافہ كرتے ہوئے كسى روز سارے دن كا روزہ ركھوائيں.

4 ـ سحرى بالكل رات كے آخرى حصہ ميں كھلائيں، كيونكہ ايسا كرنے ميں دن كو روزہ ركھنے ميں معاونت ہوتى ہے.

5 ـ روزے ركھنے كى صورت ميں انہيں انعام دے كر حوصلہ افزائى كى جائے، روزانہ يا پھر ہفتہ وار انعام ديا جائے.

6 ـ افطارى كے وقت خاندان كے افراد كى موجودگى ميں بچوں كى حوصلہ افزائى كرتے ہوئے ان كى تعريف كى جائے، اور اسى طرح سحرى كے وقت بھى، كيونكہ ايسا كرنے سے ان كا حوصلہ بڑھتا ہے.

7 ـ جس كے ايك سے زيادہ بچے ہوں وہ ان ميں ايك دوسرے سے سبقت لے جانے كى روح پيدا كرے كہ نيكى ميں ايك دوسرے سے آگے نكلنا افضل ہے، ليكن پيچھے رہنے والے كى ڈانٹ ڈپٹ مت كرے.

8 ـ اگر كسى بچے كو بھوك لگ جائے تو وہ اسے بہلا پھسلا كر سلا دے، يا پھر مباح اور جائز قسم كى كھيل ميں لگانے كى كوشش كرے، جس ميں تھكاوٹ نہ ہوتى ہو، جيسا كہ صحابہ كرام اپنے بچوں كے ساتھ كيا كرتے تھے، بچوں كے ليے مناسب قسم كے پروگرام اور كھيل اور كارٹون پائے جاتے ہيں جو بااعتماد اسلامى ٹى وي چينلز پر پيش كيے جاتے ان سے استفادہ كيا جا سكتا ہے.

9 ـ افضل اور بہتر يہ ہے كہ والد عصر كے بعد بيٹے كو مسجد ميں لے جائے تا كہ نماز اور دروس وغيرہ ميں شريك ہو، اور وہيں مسجد ميں رہ كر قرآن مجيد كى تلاوت اور اللہ كا ذكر كرتا رہے.

10 ـ دن اور رات كے وقت ان خاندانوں كے افراد كے ليے وقت مخصوص كيا جائے جن كے چھوٹے بچے روزہ ركھتے ہيں؛ تا كہ بچوں ميں مستقل مزاجى پيدا ہو اور وہ روزے ركھتے رہيں.

11 ـ افطارى كے بعد انہيں مباح قسم كے سفر اور ٹور كے انعام سے نوازا جائے، يا پھر ان كى دل پسند ڈش پكا كر اور پسنديدہ پھل لا كر ديے جائيں.

يہاں ہم ايك چيز پر متنبہ كرنا چاہتے ہيں كہ اگر بچہ كو زيادہ بھوك لگ جائے اور روزہ برداشت نہ ہو تو انہيں روزہ مكمل كرنے پر اصرار نہ كريں؛ تا كہ وہ اس كے باعث عبادت سے بغض نہ كرنا شروع كر ديں، يا پھر اس كے باعث وہ جھوٹ نہ بولنے لگيں، يا مرض زيادہ نہ ہو جائے، كيونكہ وہ ابھى مكلف نہيں، اس ليے اس پر متنبہ رہنا چاہيے، اور اس مسئلہ ميں تشدد سے كام نہيں لينا چاہيے.

واللہ اعلم
.